سوال ایزی پیسہ جائز ہے یا ناجائز؟تفصیلاً وضاحت فرمائیں، تاکہ میری رہنمائی ہو سکے۔ (اشفاق الیاس) جواب ایزی پیسہ کی سروس حاصل کرنے میں درحقیقت دو معاملے ہوتے ہیں: ایک ’’حوالہ‘‘ (مذکورہ صورت میں ایک جگہ رقم بطور قرض دے کر دوسری جگہ وصول کرنا)کا معاملہ جو تین اشخاص یعنی کسٹمر(محیل)، دکاندار(محتال علیہ) اور رقم وصول کرنے والے شخص(محتال لہ) کی رضا مندی سے منعقد ہوتا ہے۔

سوال میں پچھلے تین سال سے کرائے کے مکان میں رہ رہا ہوں۔ اب میں اپنا ذاتی مکان لینے کے سلسلے میں اپنی جماعت سے زکوۃ فنڈ سے پندرہ لاکھ تک کی رقم کی درخواست دینا چاہتا ہوں۔ میرے اپنے خود کے تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ ہیں اور کچھ سونا میری بیوی کا ہے جسے ملا کر پانچ لاکھ تک رقم بنتی ہے۔ اس مد میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا میں یہ رقم لے سکتا ہوں کہ نہیں۔ اگر لے سکتا ہوں تو کس طریقے سے لے سکتا ہوں؟ (محمد سعید)

سوال موجودہ اسلامی بینک جیسے میزان بینک، البرکہ بینک، دبئی اسلامک بینک اور اس جیسے دوسرے اسلامی بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوانا اور ان کے ساتھ معاملات کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہ بینک بھی دوسرے سودی بینکوں کی طرح ہی معاملات کرتے ہیں۔

سوال والد صاحب کی وصیت تھی کہ میری جائیداد فقہ حنفی کے لحاظ سے تقسیم کی جائے۔ دوران ملازمت ہی سن 2000 ء میں وفات پائے تھے۔ والد صاحب کی جائیداد گلگت شہر میں ایک کنال پر سات مرلہ پر دوسرا مکان اس کے علاوہ پانچ مرلہ کا خالی پلاٹ ہے جو ٹیال سوسائٹی میں ایک پلاٹ ہے۔ اس کے علاوہ ضلع غذر گاہکوچ میں 23 مرلہ کا پلاٹ ہے۔ وفات پر نقد رقم موصول ہوئی تھی۔ جبکہ دونوں مکانوں کے صحن کی نوعیت مختلف ہے۔

سوال: مندرجہ ذیل سمجھوتا محمد حنیف نے اپنے چار بچوں اور بیوی کے درمیان کیا۔ ان کی یہ دوسری بیوی ہے اور پہلی بیوی کا انتقال 1993ء میں ہوا۔ سمجھوتا شریعت کے مطابق ہے؟ 2 ان کا غذات کی شرعی اور قانونی کیا حیثیت ہے؟ 3 میں ان کاغذات کو منسوخ کرنا چاہتا ہوں آیا یہ شریعت کے مطابق ہے؟ کیونکہ میں نے یہ اگریمنٹ سوچے سمجھے بغیر مفتیان کرام کی مشاورت مفتیان کرام کے کیا ہے۔ 4 اس سمجھوتے میں ورثاء میں سے بعض کی حق تلفی ہوئی ہے؟
5 میں چاہتا ہوں میں اپنی ساری جائیداد کا خود ذمہ دار رہوں اپنی زندگی میں اور اپنے ورثاء کا حصہ اپنے ہاتھ سے دے دوں اور تمام مالکانہ کاغذات میرے ملک میں ہوں۔

میرا نام رضوان سلیم ہے، میں نے آج سے تین ماہ پہلے امتیاز نامی شخص کے ساتھ ڈیل کی تھی جس میں، میں نے پچاس ہزار روپے ایڈوانس کے طور پر امتیاز کو دیے تھے اور ڈیل یہ تھی کہ امتیاز 200 من (دھان) چاول مونجی کی قسم سوپری جو 6 ایکڑ رقبہ زمین پر لگی ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہ میں 200 من مونجی کا بندوبست کر دوں گا۔ اگر کچھ کمی ہوئی تو اپنے قریب واقف لوگوں سے لے کر آپ کو دے دوں گا، اس کی آپ فکر نہ کریں۔ اس فصل کا میوہ پک چکا تھا اس نے مجھے نمونہ بھی دکھایا تھا، لیکن اس کی کٹائی پر کچھ وقت (30 یا 35 دن) لگنا تھا، اور ریٹ کے بارے میں یہ طے ہوا کہ مونجی حوالگی کے وقت مارکیٹ ریٹ سے 10 فیصد کم ہی قیمت ہو گی۔ اس کا ایڈوانس 50 ہزار روپے میں دے چکا تھا۔