ڈیبٹ، کریڈٹ اور چارج کارڈ کا استعمال کریڈٹ کارڈ کا استعمال کیسا ہے؟ جائز یا نا جائز؟(احسان دانش)
بازار میں تین قسم کے کارڈ رائج ہیں۔ چونکہ عرف عام میں کریڈٹ کا اطلاق ڈیبٹ کارڈ اور چارج کارڈ پر بھی ہو جاتا ہے اس لیے تینوں کے الگ الگ احکام بیان کیے جاتے ہیں:
1 ڈیبٹ کارڈ(Debit Card)
اس کا استعمال جائز ہے البتہ کارڈ ہولڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر شرعی امور میں استعمال نہ کرے۔

مسائل
فلاحی ادارہ مختلف قسم کے فنڈز کو کیسے محفوظ اور خرچ کرے؟
ہماری میمن جماعت گزشتہ کئی سالوں سے فلاحی کام کر رہی ہے۔ ہم فلاحی کام کو انجام دینے کے لیے اپنی برادری کے مخیّر حضرات سے جو فنڈ وصول کرتے ہیں ان میں جنرل فنڈاور غربہ فنڈ (قربانی کی کھالیں) اور زکوۃ فنڈ کی وصولی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت کی آمدنی کا ذریعہ ایک شادی ہال، دو اسکولز اور ایک دکان ہے جس کا کرایہ ہر مہینے ہم وصول کر کے جنرل فنڈ میں جمع کروا دیتے ہیں۔اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل کا جواب

اس بات کی وضاحت مطلوب ہے کہ آج کل ایک شخص دوسرے سے کوئی معاملہ کرتا ہے، مثلاً: اس سے کوئی چیز خرید لیتا ہے اور اس کو چیک دے دے دیتا ہے۔ بعض اوقات بینک وہ چیک واپس کر دیتا ہے جس کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے، مثلاً: جاری کرنے والے کے اکاؤنٹ میں رقم نہیں تھی یا اس سے پہلے کا چیک استعمال ہو گیا یا دستخط میں غلطی تھی، اور ساتھ چیک جاری کنندہ کے اکاؤنٹ سے 232روپے کاٹ لیتا ہے۔ پھر یہ شخص جس کو چیک جاری کیا گیا تھا اس چیک جاری کنندہ کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ آپ نے جو چیک مثلاً 10,000 روپے کا جاری کیا تھا، وہ کیش ہوئے بغیر واپس ہو گیا ہے۔

میں ہر سال یکم اپریل کو زکوۃ ادا کرتا ہوں۔ میں ایکوٹی شیئر (مارکیٹ اور بائع کی قیمت میں فرق کے ساتھ) کی تجارت کرتا ہوں، سوال یہ ہے کہ کیا مجھے یکم اپریل کو تمام شیئرز پر زکوۃ ادا کرنی ہو گی (جس دن میں زکوۃ کا حساب لگاتا ہوں)؟ یا یکم اپریل تک جو منافع حاصل ہوئے ہوں گے اس پر زکوۃ دینی ہو گی؟ براہ کرم وضاحت فرمائیں۔
1 زکوۃ کی ادائیگی کے لیے قمری سال(Lunar year)کی کوئی تاریخ متعین کرنی ضروری ہے کیونکہ شمسی سال(Solar year)کے ذریعے

سوال:
ہم نے ایک پراپراٹی 2007ء میں خریدی جس میں چند کرایہ دار تھے۔ ایک کرایہ دار جس کے پاس ایک گودام اور ایک دوکان تھی جن کا کرایہ وہ نہایت ہی کم ادا کر رہے تھے۔ وہ بھی کورٹ میں۔ گودام کا 300روپے اور دوکان کا 565 روپے۔ کئی بار سمجھانے کے باوجودبھی وہ جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ ان دونوں جگہ، گودام اور دوکان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ 2700روپے پگڑی دے کر ہم نے جگہ لی تھی اور اب ہم اپنی مرضی سے دوکان

سوال:
میرے والدکا انتقال 1999ء میں ہوا ۔ابھی ہمارے والد کی میراث ہمارے درمیان تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ ہماری والدہ محترمہ کا انتقال 2011ء میں ہوا۔ جب میرے والد مرحوم کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنے ترکہ میں درج ذیل اشیا چھوڑیں:(1)کیش نامعلوم مقدار میں جو کہ بڑی بہن اور بھائیوں کے پاس تھا ۔ (2) ایک بنگلہ جو والدہ کے نام تھا۔ (3) چار دوکانیں جن میں سے تین دوکانیں تین بہنوں کے نام پر، ایک دوکان بڑے بھائی کے نام پر تھی۔