سوال:
1 ٹرک اڈا، ماڑی پور ہاکس بے روڈ میں بہت سے گودام ہیں، جن میں منشی تمام نظام کی نگرانی کرتے ہیں اور اس پر انہیں معاوضہ بھی ملتاہے۔ لیکن جب بھی کوئی ٹرک ان گوداموں میں داخل ہوتا ہے چاہے مال لادنے کے لیے یا خالی کرنے کے لیے تو ٹرک ڈرائیور پر لازم ہوتا ہے کہ وہ منشی کو کچھ رقم دے اور ٹرک ڈرائیور بھی راضی خوشی رقم دیتے ہیں، ان سے پوچھا گیا تو کہتے ہیں یہ ٹرک اڈے کا رواج ہے، اور اس بات کا علم ان سیٹھوں کو بھی ہوتا ہے جو منشیوں کو تنخواہ دیتے ہیں۔

مسائل
مضاربت فاسدہ کی ایک صورت کا حکم
سوال:
15جولائی2000ء کو دو دوست خالد ( فریق اول) اور عمر (فریق دوئم) نے آپس میں کاروباری شراکت داری (پارٹنرشپ) کی بنیاد پر معاملات طے کیے، تا کہ ایک دوسرے کو مالی مشکلات سے نکالا جا سکے۔ فریق اول کا چلتا ہوا کاروبار مالی بحران کی وجہ سے مشکلا

مسائل
اجرت لے کر نکاح کروانے کا حکم سوال:
ایک عورت نکاح کروانے کا کام کرتی ہے او ربطور بروکری کے وہ اس پر پیسے بھی وصول کرتی ہے،کیا اس عورت کا اس طرح پیسے وصول کرنا جائز اور یہ پیسے حلال ہیں؟

سوال:
بندہ کو انٹرنیٹ پر بزنس سٹارٹ کرنے کے لیے کچھ شرعی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ بندہ اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ پر ایک نئی ویب سائٹ جاری کرنا چاہتا ہے جو کہMLM کے بنیادی اصول پر کام کر ے گی۔ MLM (Multi Level Marketing)میں اصول یہ ہوتا ہے کہ ایک یوزر کسی دوسرے یوزر کو لے کر آتا ہے تو اس آنے والے کا کمیشن اس لانے والے کو

سوال:
ہمارے ہاںاسٹیٹ ایجنسی کے شعبے میں ایک رواج بیعانے کا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہم کسی سے اس بات کی ضمانت کے طور پر کچھ رقم، مثلا : 2لاکھ روپے لیتے ہیں کہ واقعتاً آپ یہ سودا ہم سے مکمل کروائیں گے۔ کیونکہ ایک کسٹمر صرف ڈیمانڈ کرتا ہے پھر ہمیں آگے پارٹی کو اس ڈیل پر آمادہ کرنے یا دوسرے سے کروانے یا ان کے آمد و رفت اور قیام و طعام وغیرہ کے اخراجات کرنے پڑتے ہیں اور وقت بھی صرف ہوتا ہے۔ پھر اگر سودا منسوخ ہو جائے یا کسٹمر معاہدے کی پاس داری نہ کرے تو ہمارے بیعانے کے اصول کے مطابق یہ رقم ہم رکھ لیتے ہیں۔ نیز ضمانت کی رقم اس بات پر بھی ضبط شمار ہوتی ہے کہ اگر وقت پر کسٹمر یا پارٹی مکمل ادائیگی نہ کر سکے۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ یہ ضمانت یا بیعانے کی رقم اس طرح سے رکھنا جائز ہے یا نہیں؟جبکہ ہمارے ہاں اسٹیٹ ایجنسیوں میں یہی عرف معروف ہے۔

سوال
ایک شخص تار محمد نے 1976ء میں ایک وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میری جائیداد حصہ داروں میں تقسیم کی جائے اور ان کے مرنے کے بعد میری بہنوں میں تقسیم کی جائے۔ اس کے بعد 1982ء میں تار محمد نے اپنی جائیداد اپنی اہلیہ کے نام گفٹ کردی اور اس کے بعد اس کی جائیداد کا ٹائٹل اس کی اہلیہ کے نام منتقل ہو گیا۔