گنے کی خرید و فروخت کی مختلف صورتیں

سوال ہمارے علاقے میں گنے کی خرید و فروخت کی درج ذیل صورتیں رائج ہیں۔ ان کا شرعی حکم مطلوب ہے۔ 1 زمین میں کھڑے گنے کی فصل کو فی من کے حساب سے خرید لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں گنے کی کٹائی اور مل تک لے جانے کی ذمہ داری مالکِ فصل پر ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری مالکِ فصل خوشی سے قبول نہیں کرتا، بلکہ اس پر یہ شرط لگائی جاتی ہے۔ نیز اس صورت میں گنے کا وزن وہی معتبر ہوتا ہے جو مِل والے لکھ کر دیتے ہیں۔

2 زمین میں کھڑے گنے کی فصل کو اندازے سے خرید لیا جاتا ہے۔ یعنی کنال کے حساب سے خرید و فروخت ہوتی ہے، مثلاً: فی کنال پانچ لاکھ روپے کا وغیرہ۔ اس صورت میں وزن کا اعتبار نہیں ہوتا، خواہ وزن کم ہو یا زیادہ۔ نیز اس صورت میں گنے کی کٹائی اور مل تک لے جانے کی ذمہ داری مشتری (خریدار) پر ہوتی ہے۔

3 مالکِ فصل خود اپنی فصل کو کٹواتا ہے اور مِل تک لے جانے کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔ لیکن کبھی گنے کی ٹرالی کو مالکِ فصل خود کسی شخص کے ہاتھ مل تک گنا لے جانے سے پہلے نقد مل کے ریٹ سے کم پر فروخت کر دیتا ہے۔ اس صورت میں وہ ٹرالی جس پر گنا ہوتا ہے وہ مشتری کے نام پر مل میں جاتی ہے۔ اور مل والے گنے کا جو وزن لکھ کر دیتے ہیں، وہی وزن معتبر ہوتا ہے اور اسی کے حساب سے بائع (فروخت کنندہ) کو پیمنٹ کی جاتی ہے۔ اس میں بھی فی من کے حساب سے بیع ہوتی ہے، البتہ مجموعی وزن مِل کا بتایا ہوا ہی معتبر مانا جاتا ہے۔ (خالقداد، جامع محمدیہ، ڈیرہ اسماعیل خان)

جواب
1 خرید و فروخت کی یہ صورت جائز نہیں، کیونکہ اس میں مبیع کی مقدار معلوم نہیں۔ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ گنے کی مقدار اور وزن کو مدنظر رکھے بغیر کنال یا ایکڑ کے حساب سے خرید و فروخت کی جائے، مثلاً: فی کنال ایک لاکھ روپے کے عوض وغیرہ۔ اس صورت میں گنے کے وزن کا معلوم ہونا ضروری نہیں ہو گا۔ جہاں تک گنے کی کٹائی کا تعلق ہے تو بائع پر یہ شرط لگانا درست نہیں، کیونکہ بیع ہو جانے کے بعد گنا مشتری کی ملک میں آ گیا، اس لیے گنا کاٹنے کا ذمے دار بھی وہی ہو گا۔ البتہ مل تک گنا لے جانے کی ذمہ داری عرف کی وجہ سے بائع پر ڈالی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ شرح المجلہ میں تصریح ہے کہ اگر مشتری یہ شرط لگائے کہ بائع مبیع فلاں جگہ پر سپرد کرے گا تو متعارف ہونے کی صورت میں اس کی اجازت ہو گی اور بائع پر مبیع اسی جگہ پر سپرد کرنا لازم ہو گا۔

2 خرید و فروخت کی یہ صورت درست ہے، کیونکہ اس میں وزن کا اعتبار کیے بغیر اشارے کے ذریعے خرید و فروخت کی جاتی ہے اور اس طرح کی خرید و فروخت میں وزن کا معلوم ہونا ضروری نہیں۔ نیز اس صورت میں گنے کی کٹائی اور مل تک گنا لے جانے کی ذمے داری مشتری پر ڈالنا بھی جائز ہے۔

3 یہ صورت بھی جائز ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں غلے کی یہ ڈھیری فروخت کرتا ہوں اس شرط کے ساتھ کہ ہر قفیز ایک درہم کا ہو گا، جبکہ ڈھیری کی مجموعی مقدار معلوم نہیں، تو اس صورت میں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے نزدیک بیع جائز ہے۔ لہذا مذکورہ صورت میں ضرورت کے پیش نظر امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

کھاتے داروں کی رقم خاص طریقے سے جمع کرنا
سوال
میں ایک کریانہ اسٹور چلاتا ہوں، میرے ساتھ کچھ کھاتے دار ہیں جو ہر ماہ خریداری کرتے ہیں، پھر وہ رقم ایک ماہ کے بعد دیتے ہیں اور سودا لیتے ہیں۔ ہر ماہ کی تقریباً 5 تاریخ پر ہر کھاتے دار سے 500 اوپر، کسی سے 200 اوپر کسی سے 100 روپے اپنی اصل رقم سے زیادہ لیتا ہوں، پھر وہ اضافی رقم اس کھاتہ دار کے بچت اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہوں۔ کھاتہ دار کی یہ رقم میرے پاس امانت ہے، کیا یہ طریقہ جائز ہے؟ کیونکہ اس میں کھاتہ دار کا فائدہ زیادہ ہے۔ کھاتہ دار کی یہ اضافی رقم میرے ذمہ قرض ہے۔ (ابو ریحان آف ڈیرہ)

جواب اگر کھاتے دار اپنی مرضی سے اضافی پیسے آپ کے پاس رکھواتے ہیں جمع کرنے کی غرض سے، چاہے وہ امانت کے طور پر رکھوائیں یا قرض کے طور پر، نیز کھاتہ دار کو سودا بیچنا پیسے جمع کروانے کی شرط کے ساتھ مشروط بھی نہ ہو یعنی ایسا نہ ہو کہ آپ کی طرف سے یہ شرط ہو کہ ’’میں تمہیں اس شرط کے ساتھ سودا بیچتا ہوں کہ آپ مہینے کے آخر میں میرے پاس اضافی رقم بھی بطور قرض جمع کروائیں گے‘‘ تو ایسا معاملہ کرنا درست ہو گا، ورنہ نہیں۔