کبھی آپ نے سوچا کہ بینک کے دروازے پر کھڑا گارڈ کچھ عرصہ بعد اندر کیوں تعینات کردیا جاتا ہے؟ پھر کچھ ہی عرصہ بعد اسے کسی تیسری جگہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔ ایک مہینے بعد وہ دوبارہ مرکزی دروازے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسانی نفسیات ہیں۔ انسان کسی بھی منظر کو باربار دیکھ کر اس میں رچ بس جاتا ہے۔ گارڈ کا کام ہر وقت چوکس رہنا ہوتا ہے۔ اگر گارڈ کو طویل عرصہ ایک ہی جگہ پر کھڑا رکھا جائے تو وہ خود بخود اس منظر کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کی پھرتی، چالاکی اور چوکسی کی جگہ سستی لے لیتی ہے۔

اس لیے گارڈ کو چست اور مستعد رکھنے کے لیے اس کی جگہ بدلنا ضروری ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح دفتر میں کام کرنے والے ملازمین کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ جو ملازم روزانہ دفتر آتا ہے اور ایک ہی کام کرکے چلا جاتا ہے،کچھ ہی عرصہ بعد وہ اپنے کام سے اوب جاتا ہے۔ آپ نے اکثر سرکاری دفتروں میں دیکھا ہوگا کہ اہلکار سست، کاہل اور کام چور ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ کسی نے انہیں چست رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں آزمایا۔ دفتر میں آنے والا ہر نیا ملازم ابتدا میں بہت تیز، طرار اور چست نظر آتا ہے۔ مگر روزانہ ایک ہی جیسا کام کرنے کی وجہ سے وہ رفتہ رفتہ سست پڑجاتا ہے۔ پھر وہ دن آتا ہے کہ دفتر کے باہر لوگوں کی ایک لمبی لائن چلچلاتی دھوپ میں جھلس رہی ہوتی ہے اور ٹھنڈے کمرے میں بیٹھا اہلکار ٹانگ پہ ٹانگ رکھے چائے کی چسکیاں لے رہا ہوتا ہے۔

ایک مشہور ماہر نفسیات کہتے ہیں: ــ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملازم اچھے انداز میں کام کریں تو انہیں اچھا کام سونپیں۔‘‘ اکثر اداروں میں جاب ڈیزائننگ پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ جب ورکر اچھی کارکردگی نہیں دکھاتے اس وقت افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ادارے کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ملازم کے کاموں کو غور سے دیکھے۔ بہت محنت سے ملازم کو سونپے جانے والے کاموں کا تجزیہ کریں۔ ملازم کو ایسے کام دیں جو وہ خوشی سے کرسکے اور اکتائے نہیں۔ وہ دل جمعی اور تن دہی سے کام کرتا رہے۔

فریڈرک ٹیلر ایک مشہور مصنف ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب مجھے منیجر بنایا گیا تو میں نے اپنے دفتر میں دیکھا کہ لوگ محنت سے کام نہیں کررہے۔ ہر شخص بڑی بے دلی اور سستی سے کام کررہا ہے۔ ملازمین میں کام کرنے کا جذبہ، شوق اور لگن بالکل دکھائی نہیں دیتی تھی۔ میں نے اس کی وجہ تلاش کرنا شروع کی۔ مجھے پتا چلا کہ ہر ملازم کو جو کام دیا گیا، وہ برسوں سے وہی کررہا ہے۔ اسے آج تک نئی ٹریننگ نہیں دی گئی، کبھی ترغیب نہیں دی گئی اور نہ ہی کام میں تبدیلی کی کوشش کی گئی۔ ہر ملازم ایک ہی کام کرکرکے اکتا چکا ہے۔ میں نے اگلے دن ہی ملازمین کے کام تھوڑے تھوڑے تبدیل کردیے۔ انہیں ذرا مختلف کام دیا تو وہ سب بڑی تن دہی سے کام کرنے لگے۔ اس کے بعد ملازمین کو ٹریننگ دینے کا آغاز کیا تو پوری کمپنی میں نئی زندگی آگئی۔

آئیے !دیکھتے ہیں کہ ملازمین کی ذمہ داریوں میں کس قسم کی تبدیلیوں سے کیسے نتائج برآمد ہوتے ہیں: کام کو سادہ رکھیں
ایک زمانے میں کہاجاتا تھا کہ کام کو بالکل سادہ رکھنے سے ملازم زیادہ سے زیادہ کام کرتا ہے۔ ایڈم اسمتھ نے دیکھا کہ ایک ہی شخص کیل بنانے کے لیے تار کاٹتا ہے، پھر اس کی نوک بناتا ہے اور آخر میں اس کا سر بناتا ہے۔ اسمتھ نے فوری طور پر کام تقسیم کردیے۔ ایک شخص کو تار کاٹنے پر لگادیا۔ دوسرے کو نوک بنانے پر اور تیسرے کو سربنانے پر۔ اس کے نتیجے میں چارگنا زیادہ کیل تیار ہونا شروع ہوگئے۔ یہ ایک عمدہ طریقہ کار ہے۔ مگر اس کی وجہ سے ملازم جلدی اکتا جاتے ہیں۔ اس لیے ماہرین کہتے ہیں کہ کام کو سادہ رکھنے کے بجائے کام کو بدلتے رہنا زیادہ بہتر طریقہ کار ہے۔ ایک دن جو شخص تار کاٹ رہا ہے اسے اگلے دن سربنانے پر لگادیں۔ تیسرے دن اسے نوک بنانے کا کام سپرد کردیں۔ لہذا کام کو بدلتے رہنا ایک مثالی طریقہ کار ہے۔

کام بدلتے رہنا
یہ طریقہ میکڈونلڈ نے متعارف کروایا ہے۔ میکڈونلڈ پر ایک ہی ملازم پہلے دن فرنچ فرائز تلتا ہے۔ دوسرے دن ہیم برگر بناتا ہے، تیسرے دن بوتلیں پیش کرتا ہے اور چوتھے دن ویٹر کی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ مگر اس کا کمپنی اور ملازم دونوں کو بے تحاشا فائدہ ہے۔ ملازم ہر لمحہ تازہ دم رہتا ہے۔ نیز اسے کچھ ہی عرصہ میں ہر قسم کا کام کرنا آجاتا ہے۔

کاموں میں اضافہ کرنا
کبھی ایسا بھی کیا جاتا ہے کہ ملازم کو ایک ہی کام دینے کے بجائے مختلف کام سونپے جاتے ہیں۔ وہ جب ایک کام سے اکتا جاتا ہے تو دوسرا شروع کردیتا ہے۔ وال مارٹ میں اسی طریقے کو اپنایا جاتا ہے۔ ایک ہی ملازم سیلز کے کائونٹر پر کھڑا ہوتا ہے۔ وہی سامان کو سنبھالتا ہے، کم ہونے والی چیزوں کا حساب رکھتا ہے اور گاہکوں کو بھی نمٹاتا ہے۔ اس طریقے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

بھرپور ذمہ داری سونپنا
کوئی بھی ملازم اس وقت مطمئن ہوتا ہے جب اسے حکم کا پابند بنانے کے بجائے کچھ اختیارات بھی سونپ دیے جائیں۔ دنیا بھر میں ملازمت کا یہ طریقہ کار کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ جب کسی ملازم کو فیصلہ سازی کے اختیارات دیے جائیں،اسے ایک مخصوص بجٹ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے اپنی جان بھی لڑا دیتا ہے۔ اس طریقہ کار سے اخراجات میں کمی آتی ہے، ملازم کے اطمینان میں اضافہ ہوتا ہے اور طویل مدتی اہداف جلد حاصل ہوجاتے ہیں۔
(بحوالہ: مینجمنٹ، رچرڈ ڈرافٹ؛ او بی، فریڈ لوتھنز)