ملازم کیا چاہتے ہیں؟ چند ایسے پہلو جو ہر ادارے اور کمپنی کو کامیاب بناتے ہیں وہ کرشماتی صلاحیتوں کا مالک تھا۔ کمپنی کا ہر گزرتا دن تباہی کے قریب کرتا جارہا تھا۔ لوگ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح یکے بعد دیگریکمپنی چھوڑ چھوڑ جارہے تھے۔ مگر پھر وہ کرشماتی صلاحیتوں کا نوجوان میسر آیا۔ بازی پلٹ گئی۔ تباہی نے یوٹرن لیا اور خوشحالی کی منزلیں طے ہونے لگیں۔ کمپنی مہینوں کا سفر دنوں میں طے کرنے لگی۔ ہیومن ریسورس کے ماہرین کہتے ہیں کہ ہارپ کلر نے ثابت کردکھایا کہ محنت، لگن اور کوشش ناممکن کو بھی ممکن بنادیتی ہیں۔

ہارپ کلر نے کمپنی کو کامیاب بنانے کے لیے کئی حربے آزمائے۔ اس کا ایک حیرت انگیز اور سبق آموز انداز یہ بھی تھا کہ جب وہ کمپنی کا دورہ کرتا تو ہر ہر ملازم کو اس کا نام لے کر پکارتا۔ اس نے ایک شخص کو صرف اسی کام کے لیے رکھا تھا کہ سب ملازمین کے نام یاد کرے۔ جیسے ہی کوئی ملازم قریب آتا تو وہ شخص جلدی سے ہارپ کلر کو اس کا نام بتادیتا۔ یوں جب کمپنی کا سی ای او ایک ملازم کو نام لے کر پکارتا تو ملازم کا سیروں خون بڑھ جاتا۔ ملازمین کو نام لے کر پکارنے سے کمپنی دنوں میں کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہوگئی۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ پیسہ خرچ کیے بغیر ملازم سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے:

توجہ دیجئے
جب کوئی ملازم کام کرتا ہے تو آپ اس کی تعریف کیجئے۔ اس ملازم کو اہمیت دیجئے۔ اس کے کام کو اہم سمجھئے۔ یقین کیجئے کہ اکثر منیجرز صرف اس وجہ سے ناکام رہتے ہیں کہ وہ اپنے ملازمین کے کام کو اہم نہیں سمجھتے۔ ان کے خیال میں بے روزگار افراد کی بہت بڑی تعداد سڑکوں پر جوتے چٹخارہی ہے۔ اس ملازم کو نکال دیں گے تو ہزاروں نئے مل جائیں گے۔ حالانکہ یہ منیجمنٹ کا بدترین طریقہ ہے۔ منیر نیازی نے کہا تھا: ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہراک کام کرنے میں۔ اس لیے منیجر کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ بروقت اور فی الفور تعریف کرے۔ اگر کسی ملازم نے اچھا کام کیا ہے تو اس کی تعریف میں دیر مت کریں۔

انفرادی توجہ
بہت سے بزنس مالکان، سی ای اوز دفتر آتے ہیں، اپنے ماتحت منیجرز کی میٹنگ بلاتے ہیں۔ سب کو ایک لیکچر دیتے ہیں اور پھر کمپنی کی ترقی کا خواب دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ یاد رکھئے: ہر انسان انفرادی توجہ چاہتا ہے۔ لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ کتنے بڑے آدمی ہیں، لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ ان کا کس قدر خیال رکھتے ہیں۔ اس لیے ہر ہر ملازم پر انفرادی توجہ دیں۔ آپ اس میں جس قدر کامیاب ہوں گے، اسی قدر ملازم دلجمعی سے کام کرے گا۔ تربیت دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو آج یہ کہہ سکے کہ ملازمین کو ٹریننگ دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آج ہر کمپنی اور ہر ادارہ اپنے ملازمین کو تربیت دیتا ہے۔ ٹریننگ کی کوئی عمر نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی حد مقرر ہے۔ جتنا ہوسکے ٹریننگ دیں اور جب تک ہوسکے ملازمین کو نت نئی چیزیں سکھاتے رہیں۔ ٹریننگ اب پیسے کا ضیاع نہیں ایک سرمایہ کاری ہے۔ جو ادارہ جتنی سرمایہ کاری کرے گا، وہ اتنا ہی کامیاب کہلائے گا۔

ملازم کا مستقبل
ہر ملازم یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کا مستقبل کیسا ہوگا؟ اس کی ترقی کے مواقع کہاں اور کتنے ہیں؟ کیا اسی کمپنی میں آگے بڑھنے کا امکان ہے کہ نہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جو ہر ملازم کے دل میں ہوتا ہے مگر اکثر لوگ یہ بات زبان سے نہیںکہتے۔ اگر اس کمپنی میں ملازم کو مزید سیکھنے، آگے بڑھنے یا ترقی کرنے کے امکان نہیں نظر آتے تو کچھ ہی عرصہ بعد ذہین اور باصلاحیت افراد کہیں اور چلے جائیں گے۔ صرف سست اور کاہل افراد ہی یہاں ٹھہرے ہوں گے۔

ملازم کا عہدہ
آپ کا ملازم ایک شناخت چاہتا ہے۔ اس کوجتنا اچھا عہدہ ملے گا، وہ اتنا ہی خوشی سے کام کرے گا۔ جب آپ کسی ملازم کا عہدی منتخب کرنے لگیں تو تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کریں۔ اگر کوئی ملازم اچھا نام ملنے کی وجہ سے خوش ہوتا ہے تو دیر نہ کریں۔ اس کے عہدے کا اچھا سا نام تجویز کریں۔

تقریبات کا اہتمام
اپنے ملازمین کو خوشی کے مواقع بھی فراہم کریں۔ ایک روایتی پارٹی کے بجائے ایسی تقریب جس میں مالک اور ملازم کا فرق ختم ہوجائے۔ کوئی ایسی تقریب منعقد کریں جس میں تمام کارکنان کو ایک جیسی اہمیت ملے۔ منیجرز، مالکان اور ملازمین آپس میں گھل مل جائیں۔ ایسے مواقع فراہم کرنا تمام ملازمین کے دلوں کو ایک بار پھر مضبوطی سے جوڑ دیتا ہے۔