ہر کاروباری شخص کو اپنی کاروباری زندگی میں وقت بر وقت متعدد اور مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے یہ چیز کاروبار کے تسلسل پر اثر انداز ہونے کے ساتھ بعض مرتبہ نفسیاتی اور سماجی بیماریوں اور برائیوں کا سبب بھی بنتی ہے۔ ذیل میں مشکلات کے حل کے حوالے سے کچھ تدابیر کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جن کے ذریعے ایک پُرسکون اور کامیاب کاروباری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔


٭… کسی کام میں ناکامی کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو شاید ایسا نہ ہوتا، حدیث پاک کے مطابق اس طرح کے جملے اور خیالات شیطان کے لیے راستے کھول دیتے ہیں


1 کڑھنے کے بجائے اسباب پر غور کرنا
یہ ایک اہم اصول ہے کہ جب کوئی مشکل درپیش ہو تو اس مشکل کی تفصیلات اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ منفی نتائج کے بارے میں بار بار سوچنے سے مشکل حل ہونے کے بجائے اس میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے اور وہ مستقل طور پر ایک نفسیاتی روگ بن جاتی ہے۔ اسی طرح بعض لوگ اس مشکل ہی کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے اس مشکل میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور پھر وہ ایک ناقابل حل مشکل بن جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں شرعاً و عقلاً ان دونوں طریقوں سے ہٹ کر یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس مشکل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کے اصل اسباب پر غور کیا جائے اور اپنے آپ کو ایک ثالث شخص کی جگہ فرض کر کے اس مشکل کے حقیقی اسباب کا بے لاگ تجزیہ کیا جائے۔ جب اصل اسباب کی نشاندہی ہو جائے تو پوری منصوبہ بندی اور فکر و احتیاط کے ساتھ ان اسباب کے ازالے کی کوشش کی جائے۔

2 مستقل حل پر توجہ دینا
اس پہلے مرحلے کے بعد مشکل کے جو اسباب سمجھ میں آ جائیں تو پھر کسی عارضی حل (جو وقتی طور پر سکون کا باعث بن جائے) کے بجائے مستقل حل پر توجہ دینا ضروری ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں وقت زیادہ لگنے اور کچھ دقتیں پیش آنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے، لیکن عارضی حل ایک نشہ آور دوا کی طرح ہے جس سے مرض کا پورا ازالہ نہیں ہوتا اور بالآخر وہ کسی بڑی بیماری کا باعث بن جاتا ہے۔

3 ایک سے زائد حل طے کریں
اس دوسرے مرحلے کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ کسی مشکل سے متعلق ایک ہی حل سوچنے کے ساتھ اس کا متبادل حل بھی تجویز کیا جائے، کیونکہ یہ اسباب کی دنیا ہے، عین ممکن ہے جو حل آپ نے سوچا تھا وہ کسی وجہ سے قابل عمل نہ رہے اور فوری طور پر فکری خلا کا سامنا کرنا پڑے جو کسی بڑے نقصان کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا مشکل کے حل کے لیے پلان اے کے ساتھ پلان بی اور سی سے متعلق بھی پہلے سے ہی سوچ کر رکھنا چاہیے۔

4 مشاورت کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے
ہر مشکل کے حل کے وقت ماہرین اور خیر خواہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ جب ایک مسئلے پر مختلف لوگ سوچ لیں تو اس کے مختلف گوشے اور زاویے زیر بحث آتے ہیں او رہر لحاظ سے ایک جامع اور معقول حل سامنے آ جاتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جیسے کامل عقل و بصیرت والی شخصیت کے لیے مشورے کا حکم ہے تو دوسرا کون ہے جو اس سے بے اعتنائی کر سکے۔

5 فیصلہ کرنے کے بعد تاخیر نہ کریں
جب کسی مشکل کے اسباب کی صحیح نشاندہی ہو، اس کے بعد مشورہ اور پورے غور و فکر سے اس کا حل سوچا جائے تو پھر اس حل کو روبہ عمل لانے میں پس و پیش اور ضرورت سے زائد غور و فکر مضر ہوتا ہے۔ جس طرح سوچے بغیر اقدام درست نہیں تو اسی طرح سوچنے کے بعد اقدام نہ کرنا بھی ایک درست طریقہ نہیں۔ قرآن میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالی کی طرف سے یہی ہدایت ہے کہ جب فیصلہ کر چکیں تو پھر عمل میں دیر نہ کریں، بلکہ اللہ پر اعتماد و توکل کرتے ہوئے عملی اقدام کریں۔

6 وقتی ناکامی کی صورت میں مایوس مت ہوں
اگر مذکورہ بالا طریقے سے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کوئی اقدام کیا جائے لیکن اس کا نتیجہ مثبت نہ نکلے تو ایسی صورت میں اپنی غلطی کا ایک وقتی احساس تو ہونا چاہیے، لیکن اس احساس کو اپنے ذہن پر سوار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح کے منفی احساسات و خیالات سے نقصان یقینی ہے جب کہ فائدہ کچھ بھی نہیں۔ یہی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی کام میں ناکامی کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو شاید ایسا نہ ہوتا، فرمایا گیا ہے کہ اس طرح کے جملے اور خیالات شیطان کے لیے راستے کھول دیتے ہیں، جس کے بعد انسان مزید تباہی اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

7 یقین رکھیں کہ ہر مشکل قابل حل ہے
مشکلات کے حل کے حوالے سے یہ بھی ایک اہم اصول ہے کہ کسی بھی مشکل کو ناقابل حل نہ قرار دیا جائے، کیونکہ بعض اوقات ایک مشکل ایک زاویے سے تو قابل حل نہیں ہوتی لیکن دوسری جہت اور زاویے سے اس کا حل موجود ہوتا ہے۔ نیز بعض اوقات کچھ معروضی حقائق کے پیش نظر حل نظر نہیں آتا لیکن ان مخصوص حالات کے گذرنے کے بعد حل ممکن ہو سکتا ہے۔ لہذا ایسی صورت میں اس مشکل کو بالکلیہ اپنے حال پر چھوڑنے کے بجائے اسی وقتی طور مؤخر کیا جائے اور پھر مناسب موقع ملنے اور حالات سازگار ہونے پر اس کے حل کی کوشش کی جائے۔