اس قدرآج 2016ء میں جب اسلامی بینکاری کی بات کی جاتی ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ معیشت کو سود سے پاک ہونا چاہےے، تو فوراً ایک سوال ہمارے ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ آج پاکستان کو بنے ہوئے 68 سال ہو گئے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اگر سود اتنی ہی بری چیز ہے تو پھر پاکستان بننے کے فوراً بعد یہ برائی ختم کیوں نہ ہو گئی؟ کئی بار یہ بات بھی کانوں کو سنائی دیتی ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا خواب ایک آزاد ملک تھا جس میں کسی مذہبی اقدار کے بغیر آزادانہ زندگی گزارنا مقصود تھا۔ محمد علی جناح کا خواب کوئی اسلامی اقدار کی بنیاد پر ملک نہ تھا۔ بعد میں آنے والے لوگوں نے پاکستان کے آئین کو یرغمال بنا کر اس میں اسلامی دفعات ڈلوا دی ہیں۔ لہذا پاکستان ایک آزاد ملک ہے، جس کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں۔ حکمران اور عوام جس طرح چاہیں اس ملک کو چلائیں اور اس کا آئین بنائیں۔ لہذا معیشت کو سود سے پاک کرنے کی بات اس کی آزاد خیالی کے خلاف ہے۔ اسی لیے سود رائج ہے اور رائج رہے گا۔ چند لوگوں کے کہنے سے ہم عالمی معاشی نظام سے بغاوت نہیں کر سکتے۔


… 16 نومبر 1991ء کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے 22 سودی قوانین کے بارے میں مشہور فیصلہ دیا۔ 23 دسمبر 1999ء کو سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا۔ 7 اکتوبر 2015ء کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کے بارے میں جاری بحث کو خارج کر دیا

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بانیان پاکستان ایک لبرل پاکستان چاہتے تھے؟ پاکستان بننے کے بعد اس وقت کے حکمرانوں کا خواب پاکستان کے بارے میں کیا تھا؟ بالخصوص معیشت کے بارے میںان کا کیا وژن تھا؟ کیا اس وقت سے لے کر آج تک معیشت کو اسلام کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کے لےے کوششیں نہیں ہوئیں؟ اگر ہوئیں تو وہ متاثر کن کیوں نہ ہو سکیں ؟ آئیے! دیکھتے ہیں۔
پاکستان بننے سے پہلے پاکستان کا تصور
مطالعہ پاکستان کے ایک طالب علم کے لےے خطبہ الٰہ آباد 1930ء اور اس کے بعد قرار دادِ لاہور 1940ء اجنبی چیزیں نہیں ہیں۔ جس میں پاکستان کا خواب دیکھا گیا اور اس کی عملی تعبیر کی طرف سفر شروع کیا گیا۔ جس میں پیش نظر مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک الگ ملک کی تشکیل تھی۔ ان رہنماؤں نے مسلم اکثریت کے لےے ایک الگ ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ کیا ایک مسلمان کے لےے اسلام کے علاوہ کوئی اور طرز زندگی ہو سکتا ہے؟ 1930ء کے بعد 1935, ء 1936, ء 1937 ء میں ڈاکٹر محمد اقبال اور محمد علی جناح جیسے مسلم رہنماؤں کے درمیان ایک مسلم ریاست کے خاکے میں رنگ بھر نے کے لےے ہونے والی خط و کتابت اور تبادلہ خیال بھی اس بات واضح کو کرتا ہے کہ ان حضرات کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اسلام کا معاشی نظام ہی اس ریاست کا مقدر ہو گا۔
لہذا بانی پاکستان اور دیگر تحریک آزادی کے رہنماؤوں کی 1940ء سے 1947ء کے درمیان ہونے والی تقاریر اس بات کو واضح کرتی ہیںکہ ان کے سامنے یہ بات بالکل ظاہر تھی کہ اس ملک کا سیاسی، معاشی اور عدالتی نظام اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق ہو گا۔ اسی مقصد کے لےے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی، جس میں ماہرین معیشت، ماہرین قانون اور علما کرام شامل تھے، جنہوں نے پاکستان کی تعلیم، معیشت اور قوانین کے ڈھانچے کی اسلامی اصولوں پر تشکیل کا خاکہ مرتب کرنا تھا۔ دسمبر 1945ء میں ہونے والے الیکشن میں مسلم اکثریتی آبادی سے مسلم لیگ کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی تحریک کار فرما تھی کہ مسلم لیگ مسلمانوںکی نمائندہ جماعت ہے۔ مسلم لیگ کے تحت مسلمان ایک اسلامی ریاست کے لےے جدوجہد میں مصروف ہیں۔
پھر وطن عزیز کے وجود میں آ جانے کے بعد بھی بانی پاکستان محمد علی جناح کی یکم جولائی 1948ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر ہونے والی تقریر ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر اسے وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس تقریر میں انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام معیشت اور اشتراکی نظام معیشت کی خرابیوں کو بیان کر کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لےے یہ ہدف متعین کیا کہ اسٹیٹ بینک ملک کے لےے اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نظام معیشت و تجارت تشکیل دے گا۔ اس کے بعد پہلی دستور ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد کی منظوری، 1952ء کے آئین کے مسودے اور پھر 1954ء کے آئین کے مسودے کا جائزہ لیں تو وہ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی، عدالتی اور معاشی نظام میں بنیادی اصول اسلام کے اصولوں کی پاسداری ہی ہے۔
یہی نہیں پھر 1956 ء کے آئین اور اس کے بعد 1962 ء کے نسبتًا آزاد آئین میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو سود سے پاک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد 1973ء کے متفقہ آئین میں بھی یہ بات صاف درج کی گئی ہے کہ جلد از جلد معیشت سے سود کا خاتمہ کیا جائے گا۔
1977ء سے 1985ء تک پاکستان میں اسلامی بینکاری کے عمل میں تیزی آئی۔
29ستمبر 1977ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایات دی گئیں کہ وہ معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لےے سفارشات پیش کرے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے نومبر 1978ء میں ابتدائی رپورٹ پیش کی۔
فروری 1979ء میں انسداد سود کا ایک تین سالہ منصوبہ تیار کر کے اس وقت کے صدر کو پیش کر دیا گیا۔
اگست 1979ء میں ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن کے معاملات کو سود سے پاک کر دیا گیا۔
جولائی 1979ء کو کاشتکاروں کو سود سے پاک سرمائے کی فراہمی کی جانے لگی۔
1980ء میں مضاربہ آرڈیننس کے تحت نفع و نقصان میں شراکت داری کی بنیاد پر سرمایہ وصول کرنے اور لگانے والی کمپنیز وجود میں آگئیں۔ اس کے ساتھ طویل مدت کی سرمایہ کاری کے لےے اسلام کے اصول کرایہ داری کے مطابق کام کرنے والی لیزنگ کمپنیاں بھی وجود میں آ گئیں۔
1984ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا سرکلر نمبر 13 جو 20 جون 1984ء کو جاری ہوا، اس سرکلر میں یہ بات کہی گئی کہ یکم جولائی 1985ء سے ملک کے تمام مالی اور بینکاری کے معاملات اسلامی اصولوں کے مطابق کئے جائیں گے۔ لیکن یہ تبدیلی آج تک نہ ہو سکی۔
عدالتی سطح پر بھی یہ معاملہ موضوع بحث رہا۔ 16 نومبر 1991ء کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے 22 سودی قوانین کے بارے میں مشہور فیصلہ دیا۔ اس کے بعد 23 دسمبر 1999ء کو سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد بھی سپریم کورٹ کے آرڈر آتے رہے اور 7 اکتوبر 2015ء کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کے بارے میں جاری بحث کو خارج کر دیا۔
سود کے خاتمہ میں رکاوٹیں
اب تک کی بحث سے یہ بات واضح ہوجانی چاہےے کہ بانیان پاکستان سے لے کر آئین ساز اسمبلیز، اعلی عدلیہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان تک سب اس بات میںمتفق نظر آتے ہیں کہ مروجہ مالیاتی نظام کی بنیاد سود پر ہے۔ سود اسلام میں ایک حرام چیز ہے، اس سے بچنا چاہےے۔ اس کے لےے ممکنہ تیاریاں بھی کی گئیں۔ جس میں پاکستان بننے سے بھی پہلے اسلام کے اصولوں کے مطابق مالیاتی نظام کے خاکے کی تیاری ہو یا آئین بناتے و قت اسلام کے اصولوں کے مطابق معاشی نظام کی طرف پیش رفت کو آئین کا حصہ بنا نا ہو یا اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے سفارشات کی تیاری ہو۔ تمام تیاری مکمل ہے۔ پھر کون سے اسباب ہیں جو ہمیں سود جیسے گناہ سے بچنے میں رکاوٹ ہیں۔
ان اسباب میں بنیادی بات جو اس موضوع پر مطالعہ سے سمجھ میں آتی ہے وہ تبدیلی نہ چاہنا ہے۔ یہ معاملہ بالخصوص حکومت، بیوروکریسی اور قانون کے نفاذ میں عمل کرنے والے اداروں کی جانب سے ہے۔ ان حضرات کا نظریہ یہ ہے کہ جو چل رہا ہے اسے چلنے دو، تبدیلی میں تکلیف ہے۔ دیگر ماہرین معیشت کی پرورش ہی روایتی معاشیات یا مالیات پر ہوئی ہے۔ یہ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ سود کے بغیر معیشت ممکن ہی نہیں۔
اس کے لےے جب بھی کوششیں کی گئیں مختلف طریقوں سے اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ اس میں چاہے 1954ء میں دستور کی منظوری کے وقت اسمبلیوں کے توڑنے کے اقدام ہوں یا 1985ء میں نئے انتخابات کی کہانیاں ہوں، 1992ء میں اسلام کا نام لے کر آنے والی حکومت کا انسداد سود کے فیصلے کے خلاف عدالت میں جانا ہو یا وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنا ہو۔ اس قسم کے تمام اقدامات کا مقصد معیشت کو سود سے پاک کرنے میں ہونے والے اقدامات سے باز رکھنا ہی ہے اور اس کی حالیہ کڑی 7 اکتوبر کو آنے والے سپریم کورٹ کے ریمارکس ہیں کہ جس کو سود سے بچنا ہے وہ بچ جائے اور جو سود لے گا اسے اللہ پوچھے گا۔
میرے قابل قدر قارئین! یاد رکھےے ہم میں سے ہر ایک سے اللہ کی بارگاہ میں سوال ہونا ہے کہ تم نے اپنی طاقت کی حد تک دین پر عمل کیا یا نہیں؟ نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟ یہ سوال بڑا سخت ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی طاقت مختلف ہے، لیکن ہم کم از کم یہ تو کر سکتے ہیںکہ خود سودی معاملات سے بچیں۔ چاہے اس میں کچھ مالی نقصان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ جہاں ہمارا اختیار چلتا ہے وہاں سود سے بچنے کی ترغیب دیں۔ جہاں تک ہو سکے ان لوگوں کے ساتھ تعاون کریں جو اس کار خیر میں لگے ہوئے ہیں۔ یاد رکھیے! چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ میں خود روشن ہو جاؤں اور دوسروں کو روشن کرنے کی فکر کروں۔ ان شااللہ جب یہ روشنی بڑھے گی تو ارباب اقتدار مجبور ہوں گے کہ ایسا نظام قائم کریں، جس میں سود کی جگہ نہ ہو۔ اللہ پاک ہمیں خود بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ہماری نسلوں کو تمام گناہوں سے بچائے۔ مالی معاملات کو شریعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔