اسلام دینِ فطرت ہے۔ چونکہ فطری طور پر سب انسان مزاج اور قویٰ کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام میں بھی اصل احکام کے ساتھ کچھ رخصتیں رکھ دی ہیں، تاکہ طاقتور اور کمزور ہر مزاج اور قویٰ کے لوگوں کے لیے دینی احکام پر چلنا اور عمل کرنا آسان ہو جائے۔ رخصت پر مبنی یہ احکام جہاں اسلام کے دینِ فطرت ہونے کی دلیل ہیں، وہاں اسلام نے بعض مواقع پر ان پر عمل کی ترغیب بھی دی ہے ۔

چنانچہ ایک حدیث کا مفہوم ہے: ’’اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ اس کی رخصتوں پر بھی اسی طرح عمل ہو جس طرح عزیمتوں یعنی اصل احکام پر عمل کیا جاتا ہے۔‘‘ ایک اور حدیث میں ہے: ’’دین سے کوئی شخص کشتی نہیں لڑتا مگر یہ کہ دین اس پر غالب آجاتا ہے۔‘‘ اس حدیث میں دین سے کشتی لڑنے کا یہی مطلب ہے کہ ہر موقع پر عزیمتوں یعنی دین کے اصل احکام ہی کو اختیار کرنے پر اصرار کیا جائے اور جہاں دین رخصت دیتا ہے وہاں بھی رخصت پر عمل نہ کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مبارک ارشادات کے ساتھ ساتھ دینی احکام میں آسانی اور رخصت کی اہمیت کا اندازہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل سے بھی ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوجب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی کو کسی علاقے کا بڑا یاحکمران بنا کر روانہ فرماتے تو دیگر نصیحتوں کے علاوہ اُسے یہ نصیحت بھی فرماتے :


٭… اسلام میں ہر شعبہ زندگی سے متعلق احکام میں سہولت کے پہلوکو پیش نظر رکھا ہے ٭… اس وقت ہماری مارکیٹوں میں پھیلی مشتبہ مصنوعات کے حوالے سے تحقیق کی جائے ٭…فرمایا: لوگوں کو خوشخبری دو اور نفرت نہ پھیلاؤ، آسانی پیدا کرو اور خلق خدا کو تنگی میں نہ ڈالو ٭


’’لوگوں کو خوشخبری دو اور نفرت نہ پھیلاؤ، آسانی پیدا کرو اور خلق خدا کو تنگی میں نہ ڈالو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طرز عمل اورارشادات کے علاوہ قرآن میں بھی کئی جگہ خود باری تعالی نے اپنے بندوں کو اس حقیقت سے مطلع فرمایا ہے کہ دینی احکام کا مقصد ان کو تنگی وحرج میں ڈالنا نہیں ،بلکہ آسانی وسہولت پیداکرنا ہے،چنانچہ ارشاد ہے’’ اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمانا چاہتے ہیں ،تمہیں مشکل اور تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’اللہ نے تم پر دین کے معاملے میں تنگی نہیں رکھی ۔‘‘اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے’’ اللہ تعالی کسی انسان کو اس کی طاقت واستطاعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتے۔‘‘ آیا ت واحادیث کے اس مجموعے کے علاوہ اگردین کے تفصیلی احکام پر نظر ڈالی جائے تواس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا عمومی مزاج آسانی و سہولت کا ہے۔ اس لیے اسلام نے ہر شعبہ زندگی سے متعلق احکام میں یسر وسہولت کے پہلوکو پیش نظر رکھا ہے۔بلکہ خرید وفروخت اور انسانوں کے باہمی لین دین جیسے زندگی کے کچھ شعبے تو ایسے ہیں جن میں اسلام اس پہلو کو بطور خاص اہمیت دیتا ہے۔ روزمرہ کے انسانی استعمال کی ماکولات و کھانے، پینے کا شعبہ بھی اسی قسم میں داخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فریضۂ منصبی کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیروکاروں کے لیے طیب اور پاکیزہ چیزیں حلال اور خبیث و ناپسند چیزیں حرام فرماتے ہیں، وہاں ساتھ ہی آپ کی شریعت کی اس خصوصیت کو بھی بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں لوگوں سے وہ سخت احکامات ہٹادیے گئے ہیں جو بیڑی اور طوق کی طرح ان کے گردنوں میں پڑے ہوئے تھے۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بیڑی اور طوق سے مراد دین یہود کے وہ سخت احکامات ہیںجن کا تعلق حلال وحرام سے تھا اور وہ ان پر ان کے دینی معاملات میں غلو کرنے کی وجہ سے لازم کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے حلال وحرام سے متعلق جو احکامات دیے ہیں ان میں یسر وسہولت کے پہلو کو بطور خاص ملحوظ رکھاہے،اس حوالے سے بہت زیادہ سختی کو ـ’’غُلُو‘‘ قرار دے کر اس سے منع کردیا ہے۔ مگر یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ حلال وحرام کے حوالے سے احکام میں غلو اور سختی سے کیا مراد ہے؟کیا یہ طرز عمل بھی دینی احکام میں غلو میں داخل ہے کہ اس وقت ہماری مارکیٹوں میں پھیلی مشتبہ مصنوعات کے بارے میں تحقیق کی جائے اور ہر ایسی مصنوع کے استعمال سے احتیاط کی جائے جس میں کسی حوالے سے شبہہ ہو ؟ اس سوال کے جواب میں درج ذیل امور بہت واضح ہیں:

1::  ہمارے دور میں ایمانوں میں کمزوری آنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مزاجوں اور قویٰ میں بھی سستی اور کمزوری پہلے کی نسبت بڑھ گئی ہے۔ اس لیے ان حالات میں رخصت پر مبنی احکام کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آسانی و سہولت کی طرح ’’سدذریعہ‘‘ (کسی ممنوع سے بچانے کے لیے پیش بندی کرنا) بھی اسلام ہی کا ایک اصول ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو نہ صرف حرام صریح بلکہ ایسے مشتبہ چیزوں سے بھی روکتاہے جن میں مبتلا ہونے سے اس بات کا یقین یا غالب گمان ہو کہ لوگ صریح حرام میں پڑجائیں گے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہی مطلب ہے کہ ’’ بے شک حلال واضح ہے اور بے شک حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے ، پس جو شخص شبہات سے بچا ، اس نے اپنے دین و آبرو کو بچا لیا او ر جو شبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑگیا۔ ‘‘

2 :: سدذریعہ کی طرح عرف وحالات کو پیش نظر رکھنا بھی ایک اسلامی اصول ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ عرف سے اگرچہ اصول تو تبدیل نہیں ہوتے ،مگر اصولی احکام کی تطبیقی شکلیں تبدیل ہوسکتی ہیں۔اس کی ایک واضح مثال ’’کتابتِ فتوی ‘‘یعنی شرعی مسائل کا جواب تحریری شکل میں فراہم کرنے کاطریق کار بھی ہے، کیونکہ فتوی کی اصطلاحی حقیقت میں کتابت داخل نہیں ہے،مگر اس کے باوجود عرف وحالات ہی کے پیش نظربہت بعد کے زمانہ میں اس طریق کارکا آغاز ہوا۔اور حلال وحرام مصنوعات کے حوالے سے بھی ہمارے زمانے کے حالات میں پہلے زمانوں کے حالات کی بہ نسبت بہت تبدیلی آچکی ہے۔چنانچہ آج ہماری مارکیٹوںمیں ایسی مصنوعات کی کمی نہیں جو غیر مسلموں کی تیارکردہ ہیں اور ان کے اوپر لکھے اجزا میں اس کی صراحت ہے کہ ان مصنوعات کی تیاری میں خنزیر وغیرہ حرام اجزا کا استعمال کیا گیا ہے۔ظاہر ہے ایسی مصنوعات حرام ہیں اور ان کے استعمال سے بچنا تما م مسلمانوں پر واجب ہے۔

3::  ایسا شبہ جس کے وقوع پذیر ہونے کا یقینی یا ظنی علم نہ ہو، وسوسہ اور وہم کے درجے میں ہے اور اسلام نے نہ صرف یہ کہ ایسے وسوسوں کے مطابق عمل نہ کرنے کو معاف فرمایا ہے، بلکہ محض ایسے شبہے کی بنیاد پر کسی چیزکو حرام قرار دینے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے، دراصل یہی وہ غلو ہے جس سے اسلام نے روکا ہے ،البتہ جہاں کسی چیز سے متعلق شبہہ یقین یا غالب گمان کے درجے تک پہنچ جائے تو ایسی صورت میں احتیاط نہ صرف تقوی بلکہ فتوی کی رو سے بھی ضروری ہے ۔لہذا ایسے موقع پرحلال وحرام میں فرق کے لیے تحقیق وجستجو کا طرزعمل اختیار کرنا اسلامی اصولوں کے خلاف نہیں، بلکہ ان کا تقاضا ہے،چنانچہ اس کی تائید پنیر کے بارے میں حضرات صحابہ کرام کے اس معمول سے بھی ہوتی ہے جو حضرت خواجہ حسن بصری ؒ نے ان الفاظ کے ساتھ نقل فرمایا ہے : ’’کان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یسألون عن الجبن ولایسألون عن السمن‘‘ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام پنیر کے بارے میں تحقیق فرمایاکرتے تھے ،البتہ گھی کے بارے میں نہیں پوچھتے تھے۔‘‘(سنن بیہقی)

ان گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کے مزاج یسر وسہولت کے ساتھ ساتھ ،مشتبہات سے اجتناب اور سد ذریعہ کے اصولوں کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ جب ہم ان تمام اصول کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو ایسی چھان بین اور تحقیق میں پڑنا درست ہے کہ انسان اوہام و وساوس ہی کے پیچھے پڑ جائے اورنہ ایسی بے خبری صحیح ہے کہ انسان میں حلال وحرام میںتمیز کرنے کی فکر ہی نہ رہے۔الغرض : درست طرز عمل یہ ہے کہ حرام میں پڑنے سے بچنے کے لیے تحقیق کرنے او ربے خبری سے فائدہ اٹھانے کی درمیان درمیان کی راہ اختیارکی جائے ۔یہی حرج اور غلو سے پاک وہ شاہر اہ اعتدال ہے جس میںآسانی بھی ہے اورحزم واحتیاط بھیـ۔