القرآن

اے ایمان والو!کئی گنابڑھاچڑھاکرسود مت کھائو،اور اللہ سے ڈرو،تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔اور اللہ اور اس کے رسو ل کی بات مانو،تاکہ تم سے رحمت کا برتائو کیا جائے۔
تشریح:
اس آیت نے خبردار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔یہاں سود کو کئی گنا بڑ ھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتاتھا کہ سود اصل سے کئی گنابڑھ جاتا تھا اس لیے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے،ورنہ سورہ البقرہ آیت (277اور 278)میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔

 


  الحدیث

  کعبے سے زیادہ معزز
حضرت عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ ارشاد فرما رہے تھے:

فائدہ:
’’(اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدر ت میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی جان ہے! مومن کی جان و مال کی حرمت و تقدس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت و تقدس بھی زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔‘‘(سنن ابن ماجہ:3932)

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

جنت کے مستحق
اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ اُن پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔(آل عمران:133،134-آسان ترجمہ قرآن: 167)
تشریح:
ان آیات میں چند واضح پیغامات دیے گئے ہیں۔ ’’مسابقت‘‘( مقابلہ بازی) جنت اور اعمال جنت کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی دھن مین۔ نیز مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ ضروری ہے کہ آدمی غمی و خوشی دونوں حالتوں میں اللہ اور مسلمانوں کے حقوق کو فراموش نہ کرے۔ علاوہ ازیں غصہ پی جانا اور لوگوں کی کوتاہیاں معاف کرتے رہنا یہ سب صفات اللہ کو بے حد پسند ہیں۔

 


  الحدیث
ایک گناہ ایسا

  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’گانا (موسیقی) دل میں نفاق (منافقت) اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیھقی:21537)
تشریح:
دورجدید میں کیسٹس، سی ڈیز، ڈی وی ڈیز، ایم پی تھری، فور پلئیرز اور کئی دیگر آلات کے ذریعے گانے والیاں اور گانے والے ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم مسلمانوں کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جسے ہم نے شیطان کی آواز سے بچا کے رکھا ہو۔ جب قوم کسی گناہ میں اجتماعی طور پر مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر اللہ کا عذاب اترنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے ہمیں اِن عذابوں سے بچائے رکھے۔

القرآن

خدا کی نعمتیں یاد رکھو!
اب جو یتیم ہے، تم اس پر سختی مت کرنااور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں، اور جو تمہارے پرودگار کی نعمت ہے، اس کا تذکرہ کرتے رہنا۔(الضحیٰ:9-11)
تفسیر: سوال کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جو مالی مدد چاہتا ہو، اور وہ بھی جو حق طلبی کے ساتھ دین کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو،دونوں کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو نرمی سے معذرت کرلینی چاہیے۔ (آسان ترجمہ قرآن:1296)

 


  الحدیث

اﷲ کو بہت نفرت ہے اس سے ۔۔۔۔۔۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''حق تعالیٰ کو تین شخصوں سے بہت نفرت ہے۔ (1) بوڑھے زنا کار سے، (2) مفلس متکبّر سے، (3) مالدار ظالم سے۔ (ترمذی شریف)

تشریح:
ہر گناہ ہی اﷲ کو ناپسندیدہ ہے اور عتاب دلانے والا ہے، اﷲ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تاہم ایسے گناہ کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے، جس کے ظاہر ی اسباب انسان کو اس کے روکنے کے لیے کافی ہوں اور پھر بھی اس میں مبتلا ہو جائے۔


   مسنون دعا

قرض کے بوجھ سے نکلنے کے لیے

جب کوئی شخص قرض میں گرفتار ہوجائے تو یہ دعا کیا کرے: اَلَلّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ.

ترجمہ
اے اﷲ! تو مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام سے بچالے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔

 

القرآن

ملکیت کا احترام
کہو کہ: ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ’’جب کہیں سجدہ کرو اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ (الاعراف:29)

تشریح:اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اُس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لیا جائے، اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اُس کی خوش دِلی کے بغیر استعمال کی جائے۔ (آسان ترجمہ:341)

 


  الحدیث
زمانہ خراب یا ہم؟

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:زمانے کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی زمانہ ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:انسان زمانے کو برا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں خود ہی ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام خیریں اور بھلائیاں ہیں اور میں ہی رات اور دن کا بدلنے والا ہوں۔(سنن الترمذی:11487)

تشریح:اصلاح احوال اور معاشرے کو بہتر رخ پر گامزن کرنے کے لیے سب سے کارگر پالیسی یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے کیا جائے۔ ’’لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ ،’’زمانہ خراب ہے‘‘، ’’کیا کریں حالات ہی ایسے ہیں؟‘‘ ایسی دہائیاں سراسر سادہ لوحی کی علامت ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی اصلاح کی طرف سب سے پہلے توجہ دے۔

القرآن

کافروں کاصدقہ
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اللہ کے مقابلے میں، نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے نہ اولاد۔ وہ دوزخی لوگ ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔جو کچھ یہ (کافر)لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پرظلم کر رکھا ہو اور وہ اس کھیتی کوبرباد کر دے۔ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (سورہ آل عمران:114تا117)

 


  الحدیث

  دعا کی عادت بنائیے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جسے پسند ہو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مشکل حالات میں اس کی دعائیں قبول فرمائیں تو اسے چاہیے کہ وہ اچھے حالات میں خوب دعائیں مانگا کرے۔(سنن الترمذی:3382)
تشریح:حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: دُعا مانگنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف پڑھے، پھر اپنے لیے اور تمام مسلمان بھائیوں کے لیے مغفرت کی دُعا کرے، پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہتا ہے، مانگے۔ سب سے بڑا وسیلہ تو اللہ تعالیٰ کی رحیمی و کریمی کا واسطہ دینا ہے اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگانِ دین کے طفیل اللہ تعالیٰ سے مانگنا بھی جائز ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فقراو مہاجرین کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ سے فتح کی دُعا کیا کرتے تھے۔ (مشکوٰۃ شریف ص: 477)

  


   مسنون دعا

دوران سفر ورد زبان رکھیں
جب کسی منزل یا ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹاپ پر اترے تو یہ دعا پڑھے:
’’اُعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شِرِّ مَا خَلَقَ۔‘‘
’’اللہ کے پورے کلموں کے واسطے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘

 

ترجمہ
’’اللہ کے پورے کلموں کے واسطے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘