القرآن

اﷲ کے ہاں دولت کی قدر و قیمت اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمٰن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان کے گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنادیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں، اور ان کے گھروں کے دروازے بھی، اور وہ تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، بلکہ انہیں سونا بنا دیتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیز گاروں کے لیے ہے۔ (33-35)

تفسیر:  بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیاکامال و دولت اﷲ تعالی کے نزدیک اتنی بے حقیقت چیز ہے کہ اﷲ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگا سکتا ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن: 1028)

 


  الحدیث

استغفار کی برکت سے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے کشادگی عنایت فرماتے ہیں، اور اسے ایسی جگہوں سے رزق عطافرماتے ہیں جن کا اس کے وہم و گمان میں گزر تک نہیں ہوتا۔ (ابوداؤد: 1518)

 

  


   مسنون دعا

کسی کے ہاں دعوت پر جائے

اَلَلّٰھُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِیْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِیْ۔

ترجمہ:
اے اللہ! جس نے مجھے کھلایا تو اسے کھلا اور جس نے مجھے پلایا تو اسے پلا۔

 

القرآن

جنت کے مستحق
اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ اُن پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔(آل عمران:133،134-آسان ترجمہ قرآن: 167)
تشریح:
ان آیات میں چند واضح پیغامات دیے گئے ہیں۔ ’’مسابقت‘‘( مقابلہ بازی) جنت اور اعمال جنت کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی دھن مین۔ نیز مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ ضروری ہے کہ آدمی غمی و خوشی دونوں حالتوں میں اللہ اور مسلمانوں کے حقوق کو فراموش نہ کرے۔ علاوہ ازیں غصہ پی جانا اور لوگوں کی کوتاہیاں معاف کرتے رہنا یہ سب صفات اللہ کو بے حد پسند ہیں۔

 


  الحدیث
ایک گناہ ایسا

  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’گانا (موسیقی) دل میں نفاق (منافقت) اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیھقی:21537)
تشریح:
دورجدید میں کیسٹس، سی ڈیز، ڈی وی ڈیز، ایم پی تھری، فور پلئیرز اور کئی دیگر آلات کے ذریعے گانے والیاں اور گانے والے ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم مسلمانوں کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جسے ہم نے شیطان کی آواز سے بچا کے رکھا ہو۔ جب قوم کسی گناہ میں اجتماعی طور پر مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر اللہ کا عذاب اترنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے ہمیں اِن عذابوں سے بچائے رکھے۔

القرآن

خدا کی نعمتیں یاد رکھو!
اب جو یتیم ہے، تم اس پر سختی مت کرنااور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں، اور جو تمہارے پرودگار کی نعمت ہے، اس کا تذکرہ کرتے رہنا۔(الضحیٰ:9-11)
تفسیر: سوال کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جو مالی مدد چاہتا ہو، اور وہ بھی جو حق طلبی کے ساتھ دین کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو،دونوں کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو نرمی سے معذرت کرلینی چاہیے۔ (آسان ترجمہ قرآن:1296)

 


  الحدیث

اﷲ کو بہت نفرت ہے اس سے ۔۔۔۔۔۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''حق تعالیٰ کو تین شخصوں سے بہت نفرت ہے۔ (1) بوڑھے زنا کار سے، (2) مفلس متکبّر سے، (3) مالدار ظالم سے۔ (ترمذی شریف)

تشریح:
ہر گناہ ہی اﷲ کو ناپسندیدہ ہے اور عتاب دلانے والا ہے، اﷲ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تاہم ایسے گناہ کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے، جس کے ظاہر ی اسباب انسان کو اس کے روکنے کے لیے کافی ہوں اور پھر بھی اس میں مبتلا ہو جائے۔


   مسنون دعا

قرض کے بوجھ سے نکلنے کے لیے

جب کوئی شخص قرض میں گرفتار ہوجائے تو یہ دعا کیا کرے: اَلَلّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ.

ترجمہ
اے اﷲ! تو مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام سے بچالے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔

 

القرآن

ملکیت کا احترام
کہو کہ: ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ’’جب کہیں سجدہ کرو اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ (الاعراف:29)

تشریح:اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اُس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لیا جائے، اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اُس کی خوش دِلی کے بغیر استعمال کی جائے۔ (آسان ترجمہ:341)

 


  الحدیث
زمانہ خراب یا ہم؟

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:زمانے کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی زمانہ ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:انسان زمانے کو برا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں خود ہی ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام خیریں اور بھلائیاں ہیں اور میں ہی رات اور دن کا بدلنے والا ہوں۔(سنن الترمذی:11487)

تشریح:اصلاح احوال اور معاشرے کو بہتر رخ پر گامزن کرنے کے لیے سب سے کارگر پالیسی یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے کیا جائے۔ ’’لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ ،’’زمانہ خراب ہے‘‘، ’’کیا کریں حالات ہی ایسے ہیں؟‘‘ ایسی دہائیاں سراسر سادہ لوحی کی علامت ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی اصلاح کی طرف سب سے پہلے توجہ دے۔

القرآن

آج کی نیکی، کل کا سرمایہ
جوشخص کوئی نیکی لے کر آئے گا،اس کے لیے اُس جیسی دس نیکیو ں کاثواب ہے، اورجوشخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تواس کو اسی ایک بدی کی سزادی جائے گی،اوراُن پرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔(الانعام :160،آسان ترجمہ: 318)
فائدہ:
اس دنیا میں یہ عالم ہے کہ نیکیوں کے مواقع اتنے ہیں کہ گویا رستے میں پڑے مل جائیں۔ پھر اللہ کا فضل اس پر مستزاد ہے جو نیکیوں کو کئی کئی گنا بڑھا کر ثواب عطا کرتا ہے۔ کل قیامت کے روز انسان ایک نیکی کو ترسے گا، مگر مل کے نہ دے گی۔ سو، نیکی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیجیے اور گناہ کے ہر موقع سے دور بھاگنے کی کوشش کیجیے۔

 


  الحدیث

تاجر عرش کے سائے تلے

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’سچ بولنے والا تاجر قیامت میں عرش کے سائے میں ہو گا۔‘‘ )ترغیب:3 / (575

تشریح:
یہ منطق بظاہر سمجھ سے بالا تر ہے آپ سراسر اپنے پیٹ کی فکر میں صبح و شام سرگرداں پھریں اور اللہ آپ کا مرتبہ بڑے بڑے اولیا سے بالا تر کر دے۔ مگر یہ اللہ کا فضل ہے جو صرف ایک شرط کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وہ شرط ہے: حلال کی بھرپور کوشش اور حرام سے مکمل اجتناب۔ کیا آپ عرش کے سائے تلے جگہ پانا نہیں چاہتے؟؟