القرآن

کافروں کاصدقہ
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اللہ کے مقابلے میں، نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے نہ اولاد۔ وہ دوزخی لوگ ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔جو کچھ یہ (کافر)لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پرظلم کر رکھا ہو اور وہ اس کھیتی کوبرباد کر دے۔ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (سورہ آل عمران:114تا117)

 


  الحدیث

  دعا کی عادت بنائیے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جسے پسند ہو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مشکل حالات میں اس کی دعائیں قبول فرمائیں تو اسے چاہیے کہ وہ اچھے حالات میں خوب دعائیں مانگا کرے۔(سنن الترمذی:3382)
تشریح:حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: دُعا مانگنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف پڑھے، پھر اپنے لیے اور تمام مسلمان بھائیوں کے لیے مغفرت کی دُعا کرے، پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہتا ہے، مانگے۔ سب سے بڑا وسیلہ تو اللہ تعالیٰ کی رحیمی و کریمی کا واسطہ دینا ہے اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگانِ دین کے طفیل اللہ تعالیٰ سے مانگنا بھی جائز ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فقراو مہاجرین کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ سے فتح کی دُعا کیا کرتے تھے۔ (مشکوٰۃ شریف ص: 477)

  


   مسنون دعا

دوران سفر ورد زبان رکھیں
جب کسی منزل یا ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹاپ پر اترے تو یہ دعا پڑھے:
’’اُعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شِرِّ مَا خَلَقَ۔‘‘
’’اللہ کے پورے کلموں کے واسطے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘

 

ترجمہ
’’اللہ کے پورے کلموں کے واسطے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘

 

القرآن

انصاف کا سفر
کہو کہ: ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ’’جب کہیں سجدہ کرو اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ (سورہ الاعراف: 29)
تشریح:
انصاف کا سفر اپنی ذات سے شروع کرنا ہو گا۔ سب سے بڑا جج انسان کے اندر بیٹھا ہوتا ہے، جو ہمیں بتا تا ہے کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو نقصان ہو گا۔ اگر ویسا کرو گے تو تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔اس لئے اپنے اندر جھانکو، خود کو بہتر کرو، کوئی جو کرتا ہے کرے، لیکن آپ اکیلے ہی دنیا میں آئے تھے اور اکیلے ہی رب کی بارگاہ میں دنیا اور آخرت میں جواب دہ ہو۔

 


  الحدیث
دوغلی پالیسی

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’لوگوں میں سب سے برا دو چہروں والا (دو رخ والا) شخص ہے، کچھ لوگوں کے پاس ایک چہرہ (روپ) لے کر آتا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر جاتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:7179)
تشریح:
دو لوگوں کا معاملہ ہو، دو خاندانوں کا یا دو قوموں کا،عام طور پر منافقت ، تضاد اور دوغلی پالیسی ہی فساد اور باہمی نزاع کا باعث ہوتی ہے۔ جہاں بھی مفادات کا ٹکراؤ ہوگا حقوق و فرائض کا معاملہ ہوگا، یہی دوغلی پالیسی اور منافقت دوری کا سبب بنتی ہے۔ ہم اپنے اندر جھانکیں، دل کی باتوں پہ کان دھریں۔ ملامت کرنے والے نفس کی بات سنیں، ضمیر بہت اچھا استاد، بہت پیارا دوست ہے۔

القرآن

اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوشنمائی کاسامان (یعنی لباس، جسم پر) لے کرآؤ، اور کھاؤ اورپیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کوپسند نہیں کرتا۔ (سورہ الاعراف:31، آسان ترجمہ قرآن: 327)
فائدہ:مال و دولت کی فراخی ملنے پر انسان بھولے پن یا کسی کے بہکاوے میں آکر پہلا کام یہی کرتا ہے کہ بے دریغ خرچ کرنے لگتا ہے۔ فضول خرچی یوں بھی بہت بری ہے، تاہم آیت مبارکہ کی روشنی میں سمجھ میں آتا ہے دولت محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے، اللہ کو یہ ہرگز پسند نہیں کہ انسان اللہ کے دیے ہوئے کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرے۔

 

 

 


  الحدیث

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی علیہ و سلم نے فرمایا:’’آدمی اپنی پشت پر لکڑیاں لاد کر ،انہیں بیچ کر کھائے، یہ اس کے لیے کہیں بہتر ہے اس سے کہ کسی سے سوال کرے ،پھر وہ دے یا نہ دے۔‘‘ (بخاری، مسلم، نسائی) 

فائدہبھکاری کسی بھی شکل میں ہو، برا ہے۔ خودی، خود داری اور خود انحصاری اس حدیث کا پیغام ہے۔ آپ حتی الامکان دوسرے کی محتاجی سے بچیے۔ حلال کھانے کے لیے حلال تجارت کو اختیار کیجیے۔

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217) ترجمہ: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔


  

القرآن

مسلمانو!)تمہیں اپنے مال ودولت اور جانوں کے معاملے میں (اور)آزمایا جائے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ،اور اگر تم نے صبر اور تقوی سے کام لیا تو یقینا یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیارکرنے ہیں) (سورہ آل عمران :186)
تشریح:
تب پھر آپ کیوں گھبراتے ہیں با شرع صورت اپنانے سے۔ آپ کیوں شرماتے ہیں خود کو دیندار ظاہر کرنے سے۔ آپ کیوں پیچھے رہتے ہیں آخرت میں کام آنے والے اعمال کا ذخیرہ جمع کرنے سے۔

 


  الحدیث

  سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’تم لوگ خرید و فروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، اس لیے کہ اس سے مال گھٹ جاتا ہے اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔‘‘(صحیح مسلم:4210)

فائدہ:
ہم میں کون ہے جس کا تکیہ کلام ہی بات بات قسم اٹھانا نہیں بن گیا۔ اللہ کا نام لینے میں اتنے جری مت ہو جائیے۔ زیادہ قسمیں کھانے، بالخصوص جھوٹی قسمیں کھانے سے خود بچیے، دوستوں کو بچائیے۔



القرآن

تحقیق کرلو
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ (سورہ الحجرات6… آسان ترجمہ قرآن:1084)

 

 


  الحدیث
صرف اعمال

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:11/8)