القرآن

اور جولوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہر گز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے۔ اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے۔ جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہو گا قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا اور سارے آسمان اور زمین کی میراث صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(سورہ ال عمران:180)
تشریح:
وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے، یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالی خرچ کرنے کا حکم دیں انسان وہاں خرچ نہ کرے۔ مثل: زکوۃ نہ دے۔ ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا:’’میں ہوں تیرا مال! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ!‘‘ (آسان ترجمہ قرآن:177/178)

 


  الحدیث

  حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے راویت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم! میں (اپنے) خادم کی غلطی کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہے، انہوں نے پھر وہی عرض کیا: میں (اپنے) خادم کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: روزانہ ستر مرتبہ۔(سنن الترمذی:1949)

فائدہ:
’’آئی ایم باس‘‘ کا جو تصور ہمیں مغرب نے دیا ہے اور ’’پروٹوکول‘‘ کے نام پر اپنے ماتحتوں کو کیڑوں مکڑوں کی حیثیت دی جاتی ہے، یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ’’تمہیں جو کچھ رزق عطا ہوتا ہے، وہ تم میں سے کمزور لوگوں کی وجہ سے ملتا ہے۔‘‘ لہذا ہمیں یقین رکھنا چاہیے ہمیں عزت، شہرت اور دولت میں سے جتنا حصہ عطا ہوا ہے، ہمارے ملازمین اور خادموں کی وجہ سے ہے۔ سو، اپنے ان محسنین کا خاص خیال رکھیے۔



القرآن

مسلمانو!)تمہیں اپنے مال ودولت اور جانوں کے معاملے میں (اور)آزمایا جائے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ،اور اگر تم نے صبر اور تقوی سے کام لیا تو یقینا یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیارکرنے ہیں) (سورہ آل عمران :186)
تشریح:
تب پھر آپ کیوں گھبراتے ہیں با شرع صورت اپنانے سے۔ آپ کیوں شرماتے ہیں خود کو دیندار ظاہر کرنے سے۔ آپ کیوں پیچھے رہتے ہیں آخرت میں کام آنے والے اعمال کا ذخیرہ جمع کرنے سے۔

 


  الحدیث

  سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’تم لوگ خرید و فروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، اس لیے کہ اس سے مال گھٹ جاتا ہے اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔‘‘(صحیح مسلم:4210)

فائدہ:
ہم میں کون ہے جس کا تکیہ کلام ہی بات بات قسم اٹھانا نہیں بن گیا۔ اللہ کا نام لینے میں اتنے جری مت ہو جائیے۔ زیادہ قسمیں کھانے، بالخصوص جھوٹی قسمیں کھانے سے خود بچیے، دوستوں کو بچائیے۔



القرآن

جب ناشکری ہوتی ہے
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی، اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فروانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کر دی، تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا پہننا اوڑھنا بن گیا۔ (سورۃ النحل:112)
تشریح:
اللہ کے شکر سے مراد اللہ کی بے پایاں رحمت، شفقت، ربوبیت، رزاقی اور دیگر احسانات کے بدلے میں دل سے اٹھنے والی کیفیت و جذبے کا نام ہے۔ شکرگذاری کے برعکس دوسرا رویہ ناشکری کا ہے۔ ایک شخص جب شکر ادا نہیں کرتا تو یہ رویہ آہستہ آہستہ اسے لاپروائی کی جانب لے جاتا اور بالآخر وہ ناشکری کرنے لگ جاتا ہے۔جس کا وبال خدانخواستہ وہ ہوتا ہے جو اوپر ذکر ہوا۔

 


  الحدیث
غارت گر، جادو گر

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس سے (مستقبل یا قسمت کے بارے میں) کچھ پوچھے تو 40 دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔(صحیح مسلم:5957)
تشریح:
آج کل کتنے لوگ روحانی علاج کی آڑ میں کاروبار چمکا ئے ہوئے ہیں، حدیث پاک میں ایسے لوگوں کے پاس جانے کی ممانعت کی ہے۔ مگر چونکہ علاج کی ضرورت رہتی ہے ، لہذا آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے لگ جانے کے بجائے سب سے پہلے یہ تحقیق کی جائے کہ مریض کسی ذہنی بیماری کے باعث تو مسائل کا شکار نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کسی پابند شریعت ،اللہ والے سے قرآن و حدیث کے احکامات کے اندر رہتے ہوئے روحانی علاج کروائیں۔

القرآن

تحقیق کرلو
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ (سورہ الحجرات6… آسان ترجمہ قرآن:1084)

 

 


  الحدیث
صرف اعمال

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:11/8)

القرآن

نماز اور زکوۃ، چولی دامن کا ساتھ (مسلمانو!)تمہارے یارومددگارتو اللہ ،اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے )اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ (سورہ المائدہ :55)
فائدہ : اللہ تعالی کا یہ ارشاد اس تناظر میں ہے کہ یہود و نصاری مسلمانوں کے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے۔ مزید نکتے کی بات یہ ہے قرآن پاک میں بیشتر مقامات پر جہاں جہاں نماز کا ذکر ہے، زکوۃ کا تذکرہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بدنی عبادات کا اہتمام تو کر لیتی ہے، مگر زکوۃ اور دیگر مالی فرائض سے کوتاہی کا شکار رہتی ہے۔ اس حوالے سے خصوصی فکر کرنے اور فکر دلانے کی ضرورت ہے۔

   


  الحدیث

بھیک یا انگارہ؟

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص محض اس لیے بھیک مانگتا ہے کہ اس کے مال میں اضافہ ہوتو وہ گویاآگ کا انگارہ مانگتا ہے۔ اب وہ چاہے کم مانگے یازیادہ مانگے۔‘‘ (مسلم شریف)

فائدہ
وطن عزیز میں بھیک اور بھکاری ایک وبا کی طرح پھیل رہے ہیں، غربت سے پہلے یہ اس بات کی علامت ہیں کہ عزت نفس کا حد درجہ فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ ہاتھ پھیلانے سے پہلے عزت نفس کی ہزاروں سرحدیں انسان عبور کرتا ہے۔ ارباب دانش کو چاہیے ایسے رفاہی ادارے وجود میں لائیں جو قوم کو ہاتھ پھیلانے کی لعنت سے ہاتھ کی کمائی کی شرافت تک لے آئیں۔


   مسنون دعا

حق پر استقامت کے لیے

رَبَّنَآ لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً، اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابOرَبَّنَآاِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ، اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَO

فائدہ
یہ دعا مسلسل وردِ زبان رکھیں، فتنوں کے اس دور میں ایمان کی سلامتی اور خاتمہ بالخیر نصیب ہو گا۔ان شاء اللہ۔