القرآن

یہی تو ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ یہ خود ہی منتشر ہو جائیں گے، حالانکہ آسمان اور زمین کے تمام خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

(المنافقون: 7،6 -آسان ترجمہ قرآن: 1189)

 


  الحدیث

ہاتھ کی کمائی، عادت پیغمبروں کی

حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ سےروایت ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا: کسی نےکوئی کھانااس سےبہترنہیں کھایاجو اس نےاپنےہاتھوں کی محنت سےکماکےکھائےاوراللہ کےپیغمبرداؤدعلیہ السلام اپنے ہاتھوں سے کام کرکے کھاتے تھے۔

تشریح:
مطلب یہ ہے کہ تحصیل معاش کی صورتوں میں بہت اچھی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھوں سے کوئی ایسا کام کرے جس سے کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات پوری ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ اللہ کے پیغمبر داؤد علیہ السلام کی سنت بھی ہے، قرآن مجید میں ہے کہ وہ زرہیں بناتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا اس کو انہوں نے اپنا ذریعہ معاش بنایاتھا۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے دستکاری اور ذاتی محنت کو بہت بلند مقام عطافرمایا۔


   مسنون دعا

مجلس سے اٹھتے وقت

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ.

ترجمہ
اے اللہ! میں آپ کی حمد کے ساتھ آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں، گواہی دیتا ہوں کہ صرف آپ ہی معبود برحق ہیں، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

فائدہ: کسی بھی حوالے سے گفتگو کے لیے کچھ لوگوں کے ہمراہ بیٹھیں تو مذکورہ دعا پڑھتے ہوئے مجلس کا اختتام کرنا چاہیے۔ اس سے میٹنگ کے دوران ہونے والی لغزشوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ کوئی ایک صاحب بلند آواز سے پڑھ لے تو سب کو یاد آجاتا ہے۔ تجارت نبوی اورتجارتی خرابیوں سے واقفیت کے لیے زبیر بن عبدالمطلب جوکہ آپ کے سگے تایا تھے۔ یہ بھی آپ کے شریک تجارت تھے۔ ان کا شمار مکہ کے مشہور تاجروں میں ہوتا تھا۔ بعض حضرات کا کہنا ہے آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ نے آپ کے والد ماجد کے ترکہ کو زبیر کے کاروبار میں لگا دیا تھا۔ اس طرح سرمائے میں اضافہ ہوتا رہا۔ اسی لیےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام کاروبار اپنے تایا زبیر کی زیر نگرانی ہوتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی عمر میں اپنے تایا کے ہمراہ یمن کا سفر کیا۔ (بحوالہ پیغمبر اسلام اور تجارت: 139) یمن کے اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے خوب کامیاب تجارت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی مشاغل نے آپ کو ان بہت سی خرابیوں سے واقف کردیا جو عربوں کی تجارت میں رائج تھیں۔ احادیث میں بیع و شراء سے متعلق جو اوامر و نواہی ملتے ہیں، ان کے پس پشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی تاجرانہ تجربات جھانکتے نظر آتے ہیں۔ (رسول اکرم بحیثیت تاجر: 32)

 

القرآن

ناپ تول میں انصاف حسب استطاعت واجب
اوریتیم جب تک پختگی کی عمرکونہ پہنچ جائے،اُس وقت تک اُس کے مال کے قریب بھی نہ جائو،مگرایسے طریقے سے جو(اس کے حق میں)بہترین ہو،اورناپ تول انصاف کے ساتھ پوراپورا کیاکرو،(البتہ)اللہ کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتا۔اورجب کوئی بات کہوتوانصاف سے کام لو،چاہے معاملہ اپنے قریبی رشتہ دارہی کاہو،اوراللہ کے عہد کو پورا کرو۔ لوگو! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکیدکی ہے،تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔(سورہ الانعام :152)

تشریح:
خریدوفروخت کے وقت ناپ تول کاپورالحاظ رکھناواجب ہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیاکہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ مین میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں۔ انسان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ناپ تول ٹھیک ہو، لیکن کوشش کے باوجود تھوڑابہت فرق رہ جائے تووہ معاف ہے۔(آسان ترجمہ:317)

 


  الحدیث

خریدا ہوا مال واپس کرلینا مسلمان تاجر کی شان

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان سے خریدی یا بیچی ہوئی چیز واپس کرلی، اﷲ تعالیٰ اس کی لغزشوں سے چشم پوشی کرے گا۔ (سنن ابی داؤد: 3460)

فائدہ:
ہم کتنی بے دردی، بے باکی اور بے زاری کے ساتھ اپنی دکان کے باہر یہ تختی لٹکانا ضروری سمجھتے ہیں: ’’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہوگا۔‘‘ حالانکہ ایک مسلمان دکاندار سے یہ بات بہت بعید تر ہے۔ دوسری طرف غیرمسلموں کو دیکھیے کہ مفتی محمد رفیع عثمانی کے بقول ان کی یورپی ملک میں خریدی ہوئی چیز لاس اینجلس میں اسی کمپنی کی برانچ میں واپس کر لی گئی ۔ اپنی اس اخلاقی میراث کو اپنا لیجیے۔


   مسنون دعا

جب کسی کے ہاں کھانا کھائے تو میزبان کو دعا دیتے ہوئے ہہ پڑھے

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

ترجمہ
اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

القرآن

اور کسی تنازعے میں ان لوگوں کی وکالت نہ کرنا جو خود اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں۔ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ النسائ:107)
فائدہ:
آپ غور فرمائیں، لوگ جس خیانت کو آج ایک فن سمجھ کر اس میں اپنی مہارت کے دعوے کرتے ہیں، اللہ پاک کے ہر گز پسند نہیں۔ تجارت کے لیے تو زہر قاتل سے کم نہیں۔ آپ کیسے لوگوں کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں، جب لوگوں کو آپ سے جھوٹ یا دھوکے کا اندیشہ ہو۔
)

 


  الحدیث

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’سچ بولنے والا تاجر قیامت میں عرش کے سایہ میں ہو گا۔‘‘(ترغیب جلد3 ص 575)

فائدہ:
آج کا بڑا المیہ یہی ہے ہر سطح کا تاجر کاروباری اخلاقیات کے بحران میں مبتلا ہے۔ سب لوگ اس گناہ بے لذت کو کیے جارہے ہیں۔ جب سچ خود ہمارے لیے اس دنیا میں ہی ہزار فوائد کا سبب ہے تو ہم نے اس کو کافروں کے لیے چھوڑ رکھا ہے؟


القرآن

پڑوسی کو نہ ستاؤ
القرآن: اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو)۔ بیشک اللہ کسی اِترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ النسا: 36)
تشریح:
پڑوسی چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی، مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کا گھر بالکل ملا ہوا ہو یا ایک دو گھر چھوڑ کر ہو ان سب کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ ’’ساتھ بیٹھے ہوئے پڑوسی‘‘ سے مراد سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس یا کسی لائن میں لگے ہوئے آپ کے قریب ہو۔ وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے۔ اس سے بھی آگے ہر راہ گیر اور مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن: 197/198)

 


  الحدیث
اللہ پکارتا ہے

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرما کر ارشاد فرماتے ہیں:٭ کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اس کی مغفرت کردوں؟ (صحیح بخاری:1145)
تشریح:
ہمارے دینی، دنیاوی، گھریلو، کاروباری جتنے بھی مسائل ہیں، ان کے حل کے لیے صبح تہجد کے وقت جاگ کر اللہ سے رو رو کر مانگیے۔ اللہ خود آپ کو پکار رہا ہے۔ اس پکار کا جواب دیجیے۔ ضرور آپ کی فریاد سنی جائے گی۔ ذرا کبھی جاگ کر مانگیے تو سہی!

القرآن

کسب کمال کی ضرورت
اورمدین کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کوبھیجا۔انہوں نے کہا:’’اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سواتمہاراکوئی معبودنہیں ہے۔تمہارے پاس تمہارے پروردگارکی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔لہذاناپ تول پوراپوراکیاکرو،اورجوچیزیں لوگوں کی ملکیت میںہیں،اُن میں اُن کی حق تلفی نہ کرو۔اورزمین میں اُس کی اصلاح کے بعدفسادبرپانہ کرو۔یہی طریقہ تمہارے لیے بھلائی کاہے،اگرتم میری بات مان لو۔(سورۃالاعراف:85،آسان ترجمہ قرآن:341)  

 


  الحدیث

کسب حلال کی فضیلت

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر غذا ہرگز کوئی نہیں کھاتا اور اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی دستکاری سے کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری شریف)

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر غذا ہرگز کوئی نہیں کھاتا اور اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی دستکاری سے کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری شریف) فائدہ:تب پھر ہم کیوں کتراتے ہیں،کوئی حلال پیشہ اختیار کرنے سے؟ہم کیوں عار محسوس کرتے ہیں ایسے کام کرنے سے جسے نبیوں نے اللہ کا کا حکم سمجھ کر انجام دیا!