القرآن

’’جوشخص کوئی نیکی لے کر آئے گا،اس کے لیے اُس جیسی دس نیکیو ں کاثواب ہے، اورجوشخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تواس کو اسی ایک بدی کی سزادی جائے گی،اوراُن پرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔(سورہ الانعام :160،آسان ترجمہ :318)
فائدہ :یہ دنیا دارالاسباب ہے اور زندگی کا چراغ کسی بھی وقت گل ہو سکتا ہے۔ اس دنیا میں ہم اپنی آخرت کے لیے نیک اعمال کا جو کچھ توشہ جمع کر سکے، وہی کام آئے گا۔ ایک سمجھ دار تاجر اور منتظم کی طرح آنے والے وقت کی پیش بندی کے لیے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کے لیے بھی ساماں کیجیے۔

 


  الحدیث

  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بلا ضرورت جائیداد مت بناؤ، اس سے دنیا کی محبت بڑھے گی۔‘‘ (سنن الترمذی: 313)

فائدہ:
جائیداد بنانے کا سپنا کس دل میں نہیں ، مگر بقدر ضرورت ہی اس کے لیے پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ حریف سے مقابلے اور محض حرص میں آکر اس اندھا دھند دوڑ میں شامل ہونا اللہ اور رسول کو ہرگز پسند نہیں۔ اس سے دنیا کی محبت بڑھتی ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

زیادہ دولت ملنا حق پرہونے کی علامت نہیں
جن لوگوں نے کفراپنالیا،ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی اور وہ اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں،حالانکہ جنہوںنے تقوی اختیارکیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیںبلند ہوںگے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔(سورہ البقرہ:112)
تفسیر [معلوم ہوا کہ] دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیوی رزق کے لیے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے۔ یہاں اللہ تعالی جس کو چاہتاہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ (آسان ترجمہ قرآن :106)

 


  الحدیث

اللہ محبت کرتے ہیں ایسے دولت مند سے۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:''اﷲ تعالیٰ اس متقی پرہیز گار دولت مند سے محبت کرتا ہے، جولوگوں میں غیر معروف اور چھپا ہوا ہو۔'' (مسلم شریف)

فائدہ:
دنیا کی دولت کے ساتھ اللہ کی محبت بلا کسی مشقت و مجاہدے کے مل رہی ہو تو اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی ؟ حدیث کے الفاظ یہ بھی بتاتے ہیں اس عظیم انعام کے حصول کے لیے تین شرطیں ہیں : (1) تقویٰ اختیار کرے (2) نخوت ، تکبر اور بے جا اظہار سے گریزاں ہو(3) اس دولت کو دین کے تقاضوں کے مطا بق استعمال کرتا ہو۔


القرآن

تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے)خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (آل عمران:92)
تفسیر: مطلب یہ ہے کہ اللہ کا حکم صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لیے دو،بلکہ جن چیزوں سے تمہیں محبت ہے ان کو اس کی راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لیے قربانی کامظاہرہ ہوسکے۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کردیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ (آسان ترجمہ قرآن:158)

 


  الحدیث

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر موت کے وقت کوئی پڑھ لے تو اس کی روح راحت و اطمینان کے ساتھ اس کے جسم سے نکل جائے گی، نیز وہ کلمہ قیامت کے دن اُس شخص کے لیے نور ہو گا۔ وہ کلمہ (لاالہ الا اللّٰہ) ہے۔‘‘(کنز العمال:151)

فائدہ:
یہ وہ گر ہے جسے اگر آپ اختیار کر لیںتو دہرا نفع کمائیں۔ آپ سفرمیں ہیں، دکان پر ہیں، آپ کے ہاتھ مصروف ہیں، اس سب کے ساتھ ساتھ آپ کی زبان لاالہ الا اللّٰہ سے تر ہے تو آپ دوہرا نفع کما رہے ہیں۔آپ اس کی عادت بنائیے، ان شاء اللہ اپنی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھیں گے۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خودبھی اس پر ثابت قد م رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقوٰی ہی کا ہے۔ (طہٰ:132)

تفسیر:اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں آقا اپنے غلاموں کو معاشی مشغلے میں لگا کر ان کی آمدنی سے رزق حاصل کرتے ہیں، اﷲ تعالیٰ تمہاری اس طرح کی بندگی سے بے نیاز ہے، اس کے بجائے وہ خود تمہیں رزق دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔   (آسان ترجمہ قرآن: 686) 

 


  الحدیث

تنخواہ دینے میں تاخیر نہ کریں

حضرت عبداﷲ بن عمرر ضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کردیا کرو۔'' (سنن ابن ماجہ)

تشریح:
مطلب یہ ہے کہ اجیر اور مزدور جب تمہارا کام پورا کردے تو اس کی مزدوری فوراً ادا کردی جائے ، تاخیر بالکل نہ کی جائے۔ (معارف الحدیث: 530/7)


   مسنون دعا

جب کسی (قرض دار) سے اپنا قرض پورا وصول کرلے تو اس کو یہ دعا دے:

اَوْفَیْتَنِیْ، اَوْفَی اَﷲُ بِکَ۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔ وَفَی اَﷲُ بِکَ۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔ اَوْفَاکَ اَﷲُ (حصن حصین:211)

ترجمہ
تم نے میرا پورا قرضہ کر دیا اﷲ تمہیں اس کا پورا اجر دے۔ یا ۔ اﷲ تم سے اپنا وعدہ پورا کرے۔

 

القرآن

نیکی مگر تکلیف پہنچائے بغیر
بھلی بات کہہ دینا اور درگذر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور اللہ بڑا بے نیاز، بہت بردبار ہے۔ ( البقرہ: 261 تا 263)
’’اللہ کے راستے میں خرچ‘‘ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔ اس میں زکوۃ، صدقات، خیرات سب داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی سائل کسی سے مانگے اور وہ کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کر لینا اور اگر وہ مانگنے پر اصرار کرے تو اس کی غلطی سے در گذر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔ (آسان ترجمہ قرآن :129)

 


  الحدیث

  آزمائشوں پر صبر کا اجر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اس کا بدلہ اتنا ہی بڑا ملتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو ان کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، پھر جو اس آزمائش پر راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ تعالی بھی اس سے راضی ہو جاتے ہیں اور جو اس پر ناراض ہوا (یعنی بے صبری کا مظاہر کیا) تو اللہ بھی اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سنن الترمذی:2396)

فائدہ:
یہ دور فتنے یعنی آزمائش کا دور ہے۔ مالی، جانی، فکری اور نظریاتی فتنوں کادور۔ کوئی صحت کی وجہ سے پریشان تو کوئی سہولت کے لیے ہلکان۔ مگر ضابطہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ آزمائشیں ثواب اور بلندی درجات کا سبب ہوتی ہیں۔ دین اور نظریے سے متعلق فتنوں کا سدباب ہمیں دین اور علما کے قریب ہو کر کرنا ہو گا، جبکہ دیگر کسی پریشانی، بالخصوص کاروباری نقصانات میں اللہ تعالی کی طرف رجوع ہوں، بے صبری کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں۔ ورنہ دنیا تو متاثر ہوئی ہی، ثواب سے بھی محروم نہ ہو جائیں۔