القرآن

حلال و حرام کی کنجیاں رب تعالی کے پاس
اے ایمان والو!اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ،ان کو حرام قرار نہ دو،اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں سے حلا ل پاکیزہ چیزیں کھائو اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ (سورہ المائدہ: 87،88)
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن:264)

   


  الحدیث

قرض نجات کی راہ میں رکاوٹ

حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ایسے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھا کرتے تھے، جس پر قرض ہوتا۔ ایک بار ایک جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں دودینار قرض ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کی تم نماز جنازہ پڑھو۔ یہ سن کر حضرت ابو قتادہ نے فرمایا : دونوں دینار میرے ذمے ہوئے، اے اﷲ کے رسول! تب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد: 3343)

فائدہ
معلوم ہوا قرض شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ بہت ہی مجبوری کی حالت میں لینا پڑ جائے تو جلد از جلد واپسی کی فکر ہونی چاہیے۔ اگر خدا نخواستہ اسی حالت میں موت آگئی تو حساب کتاب میں مشکل پیش آسکتی ہے۔


القرآن
شب زندہ دار

وہ رات کے وقت کم سوتے تھے، اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے، اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا ہے۔
(سورہ الذٰریٰت: 19,18,17)

 

 


  الحدیث
گناہ کیا ہے؟

  حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور دل اس سے بے چین اور شک میں پڑے، چاہے لوگ تمہیں فتوی ہی کیوں نہ دیں (کہ کر لو)۔ (مسند احمد: 228/4)

القرآن

پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ہو!
اچھا یہ بتاؤ کہ یہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے، یا اتارنے والے ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا کر رکھ دیں، پھر تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے؟ اچھا یہ بتاؤ کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، کیا اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟ ہم نے اس کو نصیحت کا سامان اور صحرائی مسافروں کے لیے فائدے کی چیز بنایا ہے۔ لہٰذا (اے پیغمبر) تم اپنے عظیم پرودگار کا نام لے کر اس کی (تسبیح کرو۔ (واقعہ: 67-74)

تفسیر: ''نصیحت کا سامان'' اس لیے کہ اوّل تو اس پر غور کر کے انسان اﷲ تعالیٰ کی قدرت کو یاد کرتا ہے کہ اس نے کس طرح ایک درخت کو آگ پیدا کرنے کا ذریعہ بنا دیا ، اور دوسرے اس سے دوزخ کی آگ بھی یاد آتی ہے تو اس سے بچنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن:1137)

 


  الحدیث

اخلاقی برائیوں سے پاک تجارت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے گروہ تجار! تم خاص کر جھوٹ سے بچو۔'' (الترغیب والترہیب: 369/2)

تشریح:
حدیث کا پیغام یہ ہے کہ اپنی تجارت کو ہر قسم کی اخلاقی برائی سے پاک رکھنا چاہیے۔ عیب زدہ چیز کو ہرگز درست نہ بتائے۔ گاہک سے حد درجہ اخلاق سے پیش آئے۔ ایک اور حدیث پاک میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے عیب والی چیز کو فروخت کیا اور عیب کو ظاہر نہ کیا،وہ ہمیشہ اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث: 2332) لہٰذاایک تاجر کو چاہیے جھوٹی قسمیں ہرگز نہ کھائے۔ منافع کی شرح حد سے زیادہ نہ بتائے۔ صدقہ اور زکوٰۃ کا خصوصی اہتمام کرے۔ زکوۃ ادا نہ کرنا مال و دولت میں بے برکتی کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔


   مسنون دعا

گھر سے نکلتے ہوئے

بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ۔(مشکوٰۃ شریف)

ترجمہ:
 میں اللہ کا نام لے کرنکلا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے پھرنے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے

 

القرآن

عصبیت کی جڑیں کاٹ دو
حقیت تو یہ ہے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، اس لیے تم اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔(سورۃ الحجرات:10)
فائدہ:
مسلمانوں پر ایک دوسرے کی جان ، مال ، عزت آبرو کی حفاظت بلاامتیاز فرض او رمذکور امورمیں کوتاہی سخت حرام ہے۔ اسی قانون کا نام شریعت میں اخوت اسلامی ہے۔ اس کی ضد عصبیت ہے اور وہ مسلمانوں کا قومی، لسانی، صوبائی یا خاندانی بنیادوں پر دشمنی کرنا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :جو عصبیت کی طرف بلائے وہ ہم میں سے نہیں ، جو عصبیت پر لڑے وہ ہم میں سے نہیں ، جو عصبیت پر مارا جائے وہ ہم میں سے نہیں۔

 


  الحدیث

  اللّٰہ سے جنگ کے شوقین
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، سودی معاملات کا حساب کتاب کرنے والے پر اور سودی معاملے میں گواہی دینے پر لعنت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ گناہ اور وبال میں یہ سب برابر کے شریک ہے۔(صحیح مسلم)
فائدہ:
گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے بزنس یوتھ لون اسکیم جو کہ سراسر سودی اسکیم تھی کا اعلان کیا تو ابتدائی پیشکش میں ہی درخواستوں اور فارموں کا تانتا بندھ گیا۔ سمیڈا کی ویب سائٹ سے 56لاکھ97ہزارافراد نے اسکیم کے بارے میں معلومات ڈاؤن لوڈ کیں جبکہ سمیڈا کے ٹیلیفون سنٹر میں 6115افراد نے فون کرکے معلومات حاصل کیں۔ ان میں سے سودی قرضہ کس کو ملتا ہے اور کس کو نہیں؟ مگر اس کوشش کے ساتھ ہی وہ سودی دھندے میں ملوث ہو کر اللہ کی لعنت کے مستحق بن گئے تھے۔

القرآن

بے حیائی پھیلانے والے
جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی یعنی تہمت بدکاری کی خبر پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (سورۃ النور:19)
فائدہ:
بخل، زنا، برہنگی و عریانی، چوری،شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا اور بد کلامی ایسی خرابیوں کے باعث افرادِ انسانی کو ہر وقت مادّی اور روحانی نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ جب یہ افعال کسی قوم میں جڑ پکڑ لیں اور ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہ ہو تو پوری قوم اس کی لپیٹ میں آجاتی ہے اور سارا معاشرہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ سعادت و اقبال کا دروازہ اس پر اس وقت تک کے لیے بند ہو جاتا ہے جب تک وہ اپنی اصلاح نہ کر لے۔

 


  الحدیث

  حصہ بقدر محنت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تم میں کوئی جنگل سے اپنی پشت پر لکڑیوں کی گٹھری کاٹ کر لائے (پھر اسے فروخت کر کے اپنا گزر بسر کرے) یہ اس کے لیے اس سے کئی گنا بہتر ہے کہ کسی سے سوال کرے پھر وہ اسے دے یا نہ دے۔(صحیح بخاری:237)
تشریح:
اس حدیث پاک کا سبق یہ ہے کہ رزق کا مالک صرف اللہ ہے اور اسی پر بھروسہ کرنا ضروری ہے۔ اسی سے یہ اصول بھی سمجھ میں آیا کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو گھر سے نکلنا ہوگا اور محنت ومشقت کرنی ہوگی۔ محنت کے بقدر ہی اس کاحصہ اس کو مل جائے گا اور جتنا مل جائے یہی اس کی تقدیر ہے۔