القرآن
ہزاروں خواہشیں ایسی…

کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے؟ (نہیں!) کیونکہ آخرت اور دنیا تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔(سورہ النجم: 25،24)
تشریح:مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کی ہر آرزو پوری ہونا ضروری نہیں۔

 

 


  الحدیث
جھگڑے سے گریز

  حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنا حق محض جھگڑے اور فساد سے بچنے کے لیے چھوڑ دے، اسے جنت میں جگہ ملے گی۔‘‘ (جامع ترمذی: 20/2)

القرآن

حلال و حرام کی کنجیاں رب تعالی کے پاس
اے ایمان والو!اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ،ان کو حرام قرار نہ دو،اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں سے حلا ل پاکیزہ چیزیں کھائو اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ (سورہ المائدہ: 87،88)
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن:264)

   


  الحدیث

قرض نجات کی راہ میں رکاوٹ

حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ایسے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھا کرتے تھے، جس پر قرض ہوتا۔ ایک بار ایک جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں دودینار قرض ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کی تم نماز جنازہ پڑھو۔ یہ سن کر حضرت ابو قتادہ نے فرمایا : دونوں دینار میرے ذمے ہوئے، اے اﷲ کے رسول! تب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد: 3343)

فائدہ
معلوم ہوا قرض شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ بہت ہی مجبوری کی حالت میں لینا پڑ جائے تو جلد از جلد واپسی کی فکر ہونی چاہیے۔ اگر خدا نخواستہ اسی حالت میں موت آگئی تو حساب کتاب میں مشکل پیش آسکتی ہے۔


القرآن

مثال خرچ کر نے والوں کی
ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی سی ہے جو سات بالیں اگُاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے کئی گنا کر دیتا ہے اور اللہ گنجائش والا اور علم والا ہے۔( البقرہ:261)
فائدہ:
یہ مثال اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی ہے۔ ہمیں چاہیے جوکام کریں اخلاص کے ساتھ کریں۔ جس قدر اخلاص ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ اگر دکھلاوا ہو تو حجم میں بڑی نیکی کا ثواب ایک رائی کے برابر بھی نہیں ہوتا۔

 


  الحدیث

  حقیقی دولت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:’’انسان کہتا ہے: میرا مال، میرا مال۔ حالانکہ اس کا مال تو صرف وہی ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے آگے پہنچا دیا (باقی تو انسان کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے پاس جانے والا ہے)۔‘‘ (صحیح مسلم:7609)

فائدہ:
دنیا میں رہتے ہوئے ہر چیز کو اپنا سمجھنے کے بجائے اللہ کی امانت سمجھیں۔ اللہ کے احکام کے مطابق ان کا استعمال کریں۔ اگر ہم نے مال کو اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کیا تو آخرت میں نہ صرف حساب کتاب سے بچا جا سکے گا، بلکہ یہ اعمال ہمارے لیے نجات کا باعث بھی ہوں گے۔

 


القرآن
جیسی کرنی، ویسی بھرنی

اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ بھی اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جنہوں نے بُرے کام کیے ہیں، وہ اُن کو ان کے عمل کا بھی بدلہ دے گا اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، ان کو بہترین بدلہ عطا کرے گا۔ ( النجم: 31)

 

 


  الحدیث
قرض ایک رکاوٹ

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی اللہ کے راستے میں شہید کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے، تب بھی جنت میں داخل نہ ہوگا تاوقتیکہ قرض ادا نہ کیا جائے، اگر اس پر قرض ہو گا۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح)

القرآن

اور جن چیزوں میں اللہ نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے ان کی تمنا نہ کرو،مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا،اورعورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو۔بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔( النسائ:32)
فائدہ:مالی، علمی اور تذکیر وتانیث کے لحاظ سے فرق مراتب اللہ کی حکمتوں کا آئینہ دار ہے۔ آخرت کی کمائی ہر ایک کی اپنی ہے۔ نیکی بھی اپنی اور گناہ بھی خود پر۔ تاہم آخر دم تک کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اللہ کا فضل دنیا اور آخرت دونوں میں طلب اور محنت سے ملتا ہے۔

 


  الحدیث

 

حضرت رکب مصری رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’خوشخبری ہو اس کے لیے جس کی کمائی پاک ہو۔‘‘ (طبرانی)

فائدہ:
ہمیں یقین ہے اس جہان میں ہم نے بہت تھوڑے دن رہ کر اگلے جہان میں جا کر ڈیرہ لگانا ہے۔ ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ہمارے عقیدے کے بالکل متصادم ہے۔ سو، ایک مسلمان تاجر کا اصول ’’تجارت برائے آخرت‘‘ کا ہے۔ لہذا حدیث پاک کے مطابق پاک کمائی کر کے اگلے کی خوشخبری کے ضرور مستحق ہوں۔


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔