القرآن
جیسی کرنی، ویسی بھرنی

اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ بھی اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جنہوں نے بُرے کام کیے ہیں، وہ اُن کو ان کے عمل کا بھی بدلہ دے گا اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، ان کو بہترین بدلہ عطا کرے گا۔ ( النجم: 31)

 

 


  الحدیث
قرض ایک رکاوٹ

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی اللہ کے راستے میں شہید کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے، تب بھی جنت میں داخل نہ ہوگا تاوقتیکہ قرض ادا نہ کیا جائے، اگر اس پر قرض ہو گا۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح)

القرآن

جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہو گا اور نہ کوئی غم پہنچے گا۔ بھلی بات کہہ دینا اور درگذر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور اللہ بڑابے نیاز، بہت بردبار ہے۔(سورہ البقرہ:262،263)
تفسیر:مطلب یہ ہے کہ کوئی سائل کسی سے مانگے اور وہ کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کر لینا اور اگر وہ مانگنے پر اصرار کرے تو اس کی غلطی سے درگذر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔ (آسان ترجمہ قرآن :129)

 


  الحدیث

  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’حلال مال کا طلب کرنا دوسرے فرائض کی ادائیگی کے بعد فرض ہے۔‘‘ (طبرانی، بیہقی)

فائدہ:
رہبانیت اسلام میں نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے تجارت و معیشت اور دیگر اسباب دنیا سے بقدر ضرورت حصہ پانے کی سعی کی جائے۔ اس حدیث پاک سے ظاہر ہے کہ دیگر فرائض کی طرح حلال کمانے کی کوشش کرنا بھی ایک فرض ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ ہمارا بزنس شریعہ کے سائے تلے رہ کر ہو۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن
بقا صرف خالق کے لیے

اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔ اور صرف تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔ اب بتاؤ کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (الرحمن: 28-26)

 

 


الحدیث
تین چیزیں

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس کی روح جسد خاکی سے جدا ہوگئی ہو اور تین چیزوں سے محفوظ ہو، تو جنت میں داخل ہوگا: مال غنیمت کی چوری سے، قرض سے اور تکبر سے۔‘‘ (سنن کبریٰ: 355)

القرآن

ناحق قتل کی سزا جہنم
اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا ، اوراللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے ۔(سورہ نسائ:93)
فائدہ:
قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ناحق قتل کا عام ہو جانا بھی ہے۔ اس لحاظ سے موجودہ حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ہر مسلمان کو انفرادی و اجتماعی استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ناحق قتل کی روک تھام کے لیے جس کے بس میں جو کچھ ہے ، اس سے گریز نہ کرے۔

 


  الحدیث

رزق کی خاطر تھکاہوا شخص اللہ کو پسند

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس کسی نے اس حال میں شام کی کہ کام (محنت، مزدوری، تجارت) کرنے کی وجہ سے تھک کر چور ہو گیا تو گویا اس نے اس حال میں شام کی کہ اس کے سارے گناہ معاف ہو گئے۔‘‘

فائدہ:
حلال کمائی اللہ کا حکم ہے اور اس کو پورا کرتے ہوئے اپنے گزر اوقات کی خاطر کوشش کرنے والا اللہ کو بہت ہی محبوب ہے۔ یہ اللہ تعالی کا مزید فضل ہے کہ اپنے پیٹ کی خاطر کوشش کرنے پر بھی اپنی رضا اور اجر سے نوازتے ہیں۔ (المعجم الاوسط للطبرانی)


القرآن

اے ایمان والو!اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو،اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلا ل پاکیزہ چیزیں کھائو اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ (سورہ المائدہ: 87،88) فائدہ:قرآن پاک ہمارے جملہ مسائل کا حل ہے، ہم مسائل سے دو چار اسی لیے ہیں کہ اللہ کے اس پیام نامے سے دور ہیں۔ ان دو آیات میں ایک ہی بات کے دو پہلو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حلال و حرام کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔ لہذا جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں، انہیں ہم خود ساختہ وجوہات یا نظریات کے ذریعے حرام نہیں کر سکتے اور جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے ان کو حلال کرنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں۔ نیز کھانے اور کمانے کے حوالے سے یہ ضابطہ ہر وقت ہر مسلمان کے دل پہ لکھا رہنا چاہیے کہ اسے حلال کمانا اور پاکیزہ ہی کھانا ہے، اس کے سوا نہیں۔

 


  الحدیث

  دو بابرکت کام: تجارت اور مویشی پالنا
یحییٰ بن جابر طاقی سے نقل ہے: ’’نو حصے رزق، تجارت میں ہیں اور ایک حصہ جانوروں کی پرورش و پرداخت میں ہے۔‘‘(الترتیب الاداریۃ ج2 ص10)

فائدہ:
اپنا کاروبار ہر آدمی کی ایک دیرینہ امنگ ہوتی ہے۔ مگر اس کا آغاز کریں تو کیسے؟ اس حدیث پاک میں اس کے دو بڑے ہی آسان اور مفید ٹوٹکے بتلائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے بہت سے تاجروں نے اپنا تجربہ بھی ظاہر کیا کہ ہم نے جانوروں کی پرورش سے تجارت کا آغاز کیا تو حدیث پاک کے مطابق اس کی برکت کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔مویشی پال اور ان کے ذریعے تجارت کرکے آپ برکت کے پورے دس حصوں کے مستحق بن جائیں گے۔ آپ بھی کر کے دیکھیے۔ باعزت، بابرکت اور باسہولت روزگار آپ کا مقدر ہو گا۔ ان شاء اللہ۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ:
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔