عام ملازم سے ٹاپ مینجمنٹ تک

٭۔۔۔۔۔۔ تصوراتی، انسانی اور تکنیکی مہارتوں پر محنت کر کے ایک عام ملازم ٹاپ مینجمنٹ تک پہنچ سکتا ہے

٭۔۔۔۔۔۔ ایک مسلمان منتظم یہ سب کام سنت نبویﷺ کی نیت سے کرے تو دنیا میں بھی ترقی کرے گا اور آخرت کے اچھے انجام سے بھی محروم نہ ہوگا

٭۔۔۔۔۔۔درمیانے درجے کے منیجرز پروموشن چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مہارتوں کو حاصل کریں

مزید پڑھیے۔۔۔

قسمت اور محنت

اسٹیج پر تین کامیاب ترین کاروباری شخصیات بیٹھی تھیں۔ تینوں نے اپنی اپنی بزنس اسٹوری سنائی۔ سامنے بیٹھنے والے بھی معمولی لوگ نہیں تھے۔ ٹیکنالوجی پڑھانے والے اداروں سے وابستہ اساتذہ IBA کی ایک ورکشاپ میں جمع تھے۔ توقع کی جارہی تھی کہ وہ تینوں اپنی فول پروف منصوبہ بندی کا ذکر کریں گے۔ مالی وسائل حاصل کرنے کی تکنیک کے گن گائیں گے ۔ یا ہو سکتا ہے مارکیٹنگ کی صلاحیت کو کامیابی کا راز قرار دیں۔ یہ بھی ممکن ہے وسیع نیٹ

مزید پڑھیے۔۔۔

انکشاف انگیز رپورٹیں

٭۔۔۔۔۔۔پوری دنیا میں حلال مصنوعات کی تجارت تقریباً20کھرب (2ٹریلین) ڈالر تک پہنچ چکی ہے

٭۔۔۔۔۔۔دنیا کی کل آبادی 6 ارب 80 کروڑ افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے 1 ارب 57 کروڑ 11 لاکھ 98 ہزار مسلمان ہیں، گویا دنیا کا ہر چوتھا آدمی حلال فوڈ کھانے والا اور حلال مصنوعات استعمال کرنے والا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

مسلم ملٹی نیشنل کمپنیاں کیوں نہیں؟

عبدالمنعم فائز

آپ کبھی نہ کبھی شیل (Shell) کمپنی کے پیٹرول پمپ پر تو ضرور گئے ہوں گے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنی ہے۔ جنوری 2013کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس کے 44000سروس اسٹیشن ہیں۔ 90ممالک میں اس کا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے۔ ایکسن دوسری بڑی ملٹی نیشنل کمپنی ہے۔ اس امریکی کمپنی کے دنیا بھر میں 82100ملازم ہیں۔ اس کی صرف آمدن 486ارب ڈالر ہے۔ اس کا اندازہ صرف اس سے لگائیے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) ہی 210ارب ڈالر ہے۔ تیسری بڑی کمپنی امریکی وال مارٹ ہے۔ جس کے دنیا بھر میں8500اسٹور ہیں، جن میں 22 لاکھ ملازم کام کرتے ہیں۔ اس کی آمدن 446ارب ڈالرہے۔

دنیا میں اس وقت 12ہزار سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔ سر فہرست 500میں سے 132کمپنیاں صرف امریکا کی ہیں، چین کی 73اور جاپان کی 68ہیں۔ امریکا کی کوکا کولا کمپنی کا کاروبار 200ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ میکڈونلڈ نے دنیا کے 120ممالک میں 2700ریسٹورنٹ کھول رکھے ہیں۔ ملٹی نیشنل کی اس فہرست میں وطن عزیز پاکستان کا روایتی حریف انڈیا بھی موجود ہے۔ بھارت کی 8کمپنیاں بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان اور اس کے کاروباری ادارے اس فہرست میں کیوں نہیں؟ آخر پاکستانی کمپنی کیوں نہیں دنیا بھر میں اپنا کاروبار پھیلا سکتی؟ پاکستان میں کے اندرونی حالات دگرگوں سہی مگر بیرون ملک تجارت سے کون روکتا ہے؟

اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہمارے کاروباری اداروں میں پیشہ ورانہ فنون اور مہارتوں کی کمی ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ ہمارے کتنے اداروں میں بین الاقوامی معیار کی مینجمنٹ ہے؟ کتنی کمپنیوں میں عالمی معیار کی اکائونٹنگ اور آڈٹ کا نظام ہے؟ کتنی فیکٹریاں ہیں جن کو تعلیم یافتہ افراد پروفیشنل انداز میں چلارہے ہیں؟ کتنے کاروبار ہیں جن میں فائنانسنگ کے جدید اسلوب کو اختیا ر کیا جاتا ہے؟ کون ہے جو جدید انداز کے مطابق مارکیٹنگ کر رہا ہو؟ کیا یہ تمام اعلی تعلیم اور بہترین معیار صرف غیر مسلم ممالک کے لیے ہیں؟ کیا کوئی مسلمان اور پاکستانی ان کو اختیار نہیںکرسکتا؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کاروباری اخلاقیات کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا؟ سیاست اور تجارت میں’’ سب جائز‘‘ سمجھا جاتا ہے؟ جو کمپنی ہم سے ایک بار سامان منگواتی ہے، پھر وہ کسی پاکستانی تاجر پر اعتماد کے لیے تیار نہیں ہوتی؟ کون سا ایسا ادارہ ہے جس میں بزنس پلاننگ اور طویل منصوبہ بندی کی گئی ہو؟ کہیں بھی وژن، سسٹم اور پلاننگ نظر نہیںآتی۔ اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ تجارت میں جدید طریقے استعمال نہیں کیے جاتے۔ دنیا ڈیجیٹل آلات تک پہنچ گئی مگر ہمارے بڑے بڑے کاروباری ادارے ابھی تک قلم، کاغذ اور رسیدوں کے چنگل سے نہیں نکل پائے۔ امریکا میں آٹو میٹک ڈرون سے گھر گھر اشیا پہنچائی جارہی ہیں، چین میں آن لائن خرید و فروخت ہورہی ہے، برطانیہ میں خریدو فروخت کا تمام تر نظام موبائل اور الیکٹرک آلات پر منتقل ہوگیا، فرانس میں فیس بک اور ٹویٹر سے تشہیر اور فروخت کی جارہی ہے، مگر ہمارا تاجر آج بھی 19ویں صدی میں کھڑا ہے۔

جب تک ہم احتیاط کے ساتھ رسک اور جرات مندانہ اقدامات نہیں لیں گے، تب تک تجارت میں ترقی نہیں کرسکتے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدیوں پہلے فرماگئے: جرات مند تاجر رزق پاتا ہے اور بزدل تاجر محروم رہتاہے،(جامع الصغیر، 3393)۔ تجارت تو نام ہی رسک کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم تن دہی اور جاں فشانی سے کام نہیں کرنا چاہتے۔ ہر شخص اس کوشش میں ہے کہ شارٹ کٹ سے زیادہ پیسہ کمائے۔ محنت نہ کرنی پڑے اور بیٹھے بٹھائے امیر بن جائیں۔ حالانکہ ایک مسلمان کی یہ شان نہیں ہے۔( إن اللّٰہ یحب إذا عمل أحدکم عملا أن یتقنہ)اللہ تعالی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب کوئی شخص کام کرے تو اس کو اچھی طرح سر انجام دے (مجمع الزوائد: 6460)، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اسے بھرپور انداز میں سرانجام دیتے، کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا عمل عملا أثبتہ (مسلم شریف: 1235)، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نوجوان کے زہد اور تقوی کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ نوجوان ہنرمند ہے تو پھر(ہی وہ کامیاب ہے) (الآداب الشرعیہ للمقدسی: فصل فی فضل التجارۃ)

اسی طرح حدیث شریف میں ہے : (إن اللہ یحب المؤمن المحترف) بے شک اللہ تعالی ہنرمند مسلمان کو پسند کرتا ہے(المعجم الاوسط للطبرانی 8929) اسلام کسی بھی قسم کی سستی اور بے حوصلگی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان اپنا دینی، اخلاقی، ملی اور قومی فریضہ سمجھ کر تجارت کو پھیلائیں اور مسلمانوں کو عالمی طاقت بنائیں۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہر ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ، جاں فشانی اور تن دہی کے ساتھ کام کرے۔

شریعہ اینڈ بزنس

عبدالمنعم فائز

تجارت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ تجارت کی مخدوش صورت حال میں کسی بھی ملک کی ترقی کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ خوش حال تاجر ہی ترقی یافتہ ملک کی ضمانت ہوتا ہے۔ ہردور میں انہی ممالک نے دنیا پر حکمرانی کی ہے جن میں تاجر آسودہ حال تھا۔ سرخ ریچھ سوویت یونین اس وقت تک عالمی طاقت بنا رہا جب تک اس کی معیشت مضبوط رہی۔ آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکا صرف اپنی عسکری قوت کے بل بوتے پر ہی چودھراہٹ نہیں جما رہا بلکہ اس کی اقتصادی طاقت اس کی ترقی کا بنیادی عنصر ہے۔ رواں سال پاکستان کا مجموعی بجٹ 43 بلین ڈالر مقرر کیا گیا مگر امریکا کا صرف دفاعی بجٹ 642 ارب ڈالر کا ہے۔ امریکا کا GDP ( مجموعی قومی پیداوار) اس وقت 15 ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ اس حیرت انگیز اقتصادی ترقی کی وجہ امریکاکا تاجر ہے۔ فوربز میگزین کی رپورٹ کے مطابق امریکا ارب پتیوں کی تعداد میں دنیا بھر میں نمبر ون ہے۔ دنیا میں ایک ہزار 6 سو ارب پتی ہیں ان میں سے چار سو صرف امریکی ہیں۔ اسی اقتصادی ترقی نے امریکا کو دنیا کا بلاشرکت غیرے بادشاہ بنا رکھا ہے۔

تاجر اور تجارت ہر دور میں اہم رہے ہیں۔ صدیوں پہلے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد بنائی اس کے بعد ’’سوق المدینہ‘‘ یعنی مارکیٹ قائم کی۔ یہ دنیا کا پہلا ’’ماڈل اسلامی بازار‘‘ تھا۔ اس بازار میں حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عثمان غنی اور دیگر صحابہ کرام بزنس کرتے۔ یہاں کے خریداربھی صحابی اور بیچنے والے بھی۔ مگر اس بازار میں دھوکہ دہی، نقصان رسانی اور ذخیرہ اندوزی نہیں ہوتی تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ تمام تاجر شرعی احکام سے بھی واقف ہوتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو بازار میں جاکر تاجروں سے کہتے: ’’یہاں تجارت کرنے وہی آئے جسے شرعی مسائل کا علم ہو‘‘۔علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں:’’ پرانے زمانے میں جب تاجر دور دراز علاقوں کا سفر کرتے تو اپنے ساتھ ایک عالم دین کو بھی لے جاتے اور پیش آمدہ مسائل کا حل دریافت کرتے‘‘۔ خوارزم کے علماء کہتے ہیں: ’’ہر تاجر کا ایک دوست عالم دین بھی ہونا چاہیے‘‘۔ مگر آج پورے پورے بازار گھوم جائیے، شرعی مسائل سے واقف تاجر بہت کم نظر آتے ہیں۔ ایسے تاجر بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیںکہ تجارت اور شریعت جدا جدا چیزیں ہیں۔ حالانکہ اسلام وہ دین ہے جس نے عبادت کے ساتھ ساتھ لین دین اور معاملات میں بھی مکمل رہنمائی دی ہے۔

شریعہ اینڈ بزنس بھی اسی بھولے ہوئے سبق کی بازگشت ہے۔ یہ بھی ایک فراموش کردہ فرض کی یا د دہانی ہے۔ اس کا مقصد شریعت اور تجارت کو یکساں کرنا ہے۔ شریعت کا اہم ترین موضوع تجارت ہے۔ شریعہ صرف نماز، روزہ یا حج و زکوۃ کا نام نہیں، بلکہ بزنس بھی اس کی ایک اہم شاخ ہے۔ ہمارا مقصد شریعہ بھی ہے اور بزنس بھی۔ اس میگزین میں تاجر برادری کو درپیش مسائل کا شرعی حل پیش کیا جائے گا۔ کامیاب تاجروں کے انٹرویوز شائع کیے جائیں گے۔ ہر شمارے میں ’’مارکیٹ سروے‘‘ بھی شامل کیا جائے گاتاکہ تاجروں اور عام قارئین کو معلوم ہو کہ تجارت کی کون کون سی نئی شکلیں رائج ہوچکی ہیں۔ مفتیان کرام اس رسالے کو پڑھ کر تجارت کی بدلتی صورت حال اور نئے پیش آمدہ مسائل سے آگاہ ہوسکیں گے۔ تجارتی تجزیے اور حل ( business analysis and solutions) پیش کیے جائیں گے۔ اسی طرح تجارتی خبریں اور مستقبل کی تجارتی صورت حال پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ کامیاب تاجروں کی کہانیاں، صحابہ کرام، فقہا اور علما کی تجارت کے واقعات بھی آپ پڑھ سکیں گے۔ ’’شریعہ اینڈ بزنس‘‘ دراصل ’’سوق المدینہ‘‘ کی بازیابی کا نقیب ہے۔ یہ کامیاب تبھی ہوسکتا ہے جب تاجر برادری ہمارے قدم بقدم چلے۔ میگزین آپ کے ہاتھوں میں ہے، امید ہے اپنی آرائ، تنقید اور تبصروں سے آگاہ کرتے رہیں گے۔


والسلام