انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کو دنیا بھر میں معلومات کا سب سے بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا تھا۔ اس انسائیکلوپیڈیا کو لکھنے میں ڈھائی سوسال کا عرصہ لگا۔ روزانہ کم ازکم سو محقیقین بیٹھتے اور دنیا بھر کی معلومات لکھنا شروع کردیتے۔ اب تک اسے لکھنے والے افراد کی تعداد چار ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ ان مصنفین میں سے 110 افراد ایسے بھی ہیں جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ڈھائی سوسال میں اربوں ڈالر اس منصوبے پر خرچ ہوئے۔

کہا جاتا تھا کہ جس لائبریری میں یہ بریٹانیکا کی 32 جلدیں نہیں ہیں وہ لائبریری ہی نہیں ہے۔ مگر وہ دن بھی آگیا جب اعلان کردیا گیا کہ اب معلومات کا یہ انوکھا خزانہ شائع نہیں ہوگا۔ کسی نے پڑھنا ہے تو انٹرنیٹ سے پڑھ لے۔

 

آپ نے کبھی سوچا کہ اتنی محنت سے تیار ہونے والی کتاب کو کس چیزنے شکست دی؟ دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب آج کے بعد کسی کتب خانے پر کیوں نظر نہیں آئے گی؟ اسے شکست دینے والی طاقت کا نام ہے: انفارمیشن ٹیکنالوجی۔ لکھنے والا سوچتا ہے کہ کون اتنی بڑی کتاب کھولے اور حوالے تلاش کرے؟ اپنا کمپیوٹر آن کریں، مطلوبہ لفظ لکھیں اور سیکنڈوں میں بے پناہ معلومات حاصل کرلیں۔ دور کیوں جائیں! صرف وکی پیڈیا کو دیکھ لیں۔ اس ویب سائٹ کا آغاز 2001ء میں ہوا۔ مگر آج اس پر اتنی معلومات موجود ہیں کہ ہزاروں جلدیں تیار ہوجائیں۔ یہ معلومات ہر سیکنڈ، منٹ اور گھنٹے میں بڑھتی جارہی ہیں۔ کس کے پاس اتنی فرصت کہ برٹانیکا اٹھا کر صفحے الٹتا رہے؟

آئی ٹی نے دنیا کی ہرچیز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ فاصلے اور دوریاں بے معنی ہوکر رہ گئی ہیں۔ ساری دنیا ایک چھوٹے سے موبائل اور لیپ ٹاپ میں سما گئی ہے۔ کاروبار چلانا، سنبھالنا، آگے بڑھانا، کنٹرول کرنا اور تشہیر کرنا، سب کچھ انٹرنیٹ کا محتاج ہوتا جارہا ہے۔ جو بزنس مین جتنا جلدی آئی ٹی سے وابستہ ہوگیا وہ اتنا فائدے میں رہا۔ کاروبار کا مستقبل اب انٹرنیٹ سے جڑگیا ہے۔

کسی بھی کاروبار کے لیے سب سے اہم کام منیجمنٹ، اکاونٹنگ اور مارکیٹنگ ہوتی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی تاجر ایسا ملے جو ان تینوں شعبوں کا ماہر ہو۔ مگر آئی ٹی نے اب یہ مشکل بھی آسان کردی ہے۔ منیجمنٹ، اکائونٹنگ اور مارکیٹنگ کے ایسے ایسے سافٹ ویئر اور جدید طریقے متعارف ہوئے ہیں کہ بڑی آسانی سے تینوں شعبوں کو سنبھالا جاسکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تاجر طبقہ کہتا تھا کہ پڑھے لکھے لوگ تو ہمارے نوکر، ملازم اور ماتحت ہوتے ہیں، مگر تیزی سے بدلتی دنیا نے ثابت کردیا کہ جو بزنس آئی ٹی کی دنیا سے وابستہ نہیں ہوگا، وہ تیز ترین ترقی نہیں کرسکے گا، اس کا شمار دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ہرگز نہیں ہوگا۔ آپ دنیا کی تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کا جائزہ لیں، ان کاکا روبار جدا ہوگا، ان کا طریقہ کار مختلف ہوگا مگر ایک بات ان سب میں مشترک ہوگی کہ وہ آئی ٹی کو ضرور استعمال کررہے ہوں گے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کبھی سمجھا جاتا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے کاروبار نہیں ہوسکتا، وہاں پر آج تین کروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں ہمارے دیس میں آتی ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنوں میں اربوں روپے کمالیتی ہیں۔ دنیا کی 33 فیصد دولت انہی آئی ٹی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ بل گیٹس کہتے ہیں ’’کہ کپڑے، جوتے اور سامان بیچ کر کاروبار چمکانے کا دور اب ختم ہوگیا۔ بزنس کرنا ہے تو آئی ٹی کے کاروبار میں سرمایہ کاری کریں۔‘‘

کتنی حیرت کی بات ہے کہ آج تک ہر تاجر بیٹھ کر خود کاروباری فیصلے کرتا تھا۔ دماغ لڑاتا اور مسئلے کے حل تجویز کرتا تھا۔ مگر اب ایسے سافٹ ویئر آچکے ہیں جو آپ کو بتاتے ہیں کہ اس مرحلے پر کون سا فیصلہ کرنا ہوگا۔ پہلے ایک دور تھا جب تاجر بیٹھ کر سوچتے تھے کہ گاہکوں سے تعلقات کیسے بحال رکھیں؟ گاہکوں کو کمپنی سے کیسے خوش رکھیں؟ ان کے جذبات، خیالات اور احساسات کے بارے میں کیسے جانیں؟ مگر اب سیکڑوں سافٹ ویئر وجود میں آچکے ہیں۔ انہیں استعمال کریں اور تمام مشکلات سے چھٹکارا پالیں۔ کسی تاجر نے کیا اچھی بات کہی: ’’جو تاجر ہر لمحہ بزنس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا رہتا ہے وہ ایک دن ملٹی نیشنل کمپنی بنا لیتا ہے، جبکہ جو شخص جدید ٹیکنالوجی سے نظریں چراتا ہے، وہ عمر بھر ایک دوکان ہی چلاتا رہتا ہے۔ ‘‘