اگر آپ بزنس اسٹارٹ اپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ’’برین مارگن‘‘ کی زندگی پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔ اس کی پیدائش امریکا میں ہوئی تھی۔ مگر قسمت نے اسے ملازم بنا دیا۔ دفتری ملازم کی طرح ہی ہر لمحہ اچھی تنخواہ کی فکر، اچھی کمپنی کی تلاش اور زندگی سے ہر لمحہ نبرد آزما۔ اپنے گھر سے بہت دور جنوبی امریکا کے ملک ایکواڈور میں ملازمت کرتا تھا۔ پردیس کی زندگی سے اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ گھر واپس آ بیٹھا۔ روزانہ صبح سویرے اٹھتا۔ اپنی فائلیں سمیٹتا اور دفتروں کے چکر لگانا شروع کر دیتا۔

ہمت جواب دینے لگی مگر نوکری کہیں نہ ملی۔ ایک دن انوکھا خیال اس کے دل میں کوندا۔ اس نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا ایسا کاروبار شروع کروں جو کوئی اور نہ کر رہا ہو۔ وہ ایک بار پھر امریکا سے نکلا اور ایکواڈور پہنچ گیا۔ نئی جگہوں کی سیر کی اور تاریخی مقامات دیکھے۔ 1998 ء شروع ہو رہا تھا۔ واپس امریکا پہنچا تو منصوبہ تیار تھا۔ براین مورگن نے ایک لیپ ٹاپ خریدا۔ ’’ایڈوینچر لائف‘‘ کے نام سے کمپنی رجسٹرڈ کروائی۔ کچھ بروشر چھپوائے۔ ان پر صرف تین ہزار ڈالر خرچ آیا۔ اب اس کی کمپنی تیار تھی۔ اس نے تمام بروشر ایئرپورٹس پر تقسیم کروا دیے اور خود لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔ دن بھر مختلف ویب سائٹس، فیس بک، ٹویٹر پر اپنی کمپنی کے اشتہارات جاری کرتا رہتا۔ ان لوگوں کے ای میل ایڈریس تلاش کیے جو امریکا کے قریبی ممالک میں رہتے تھے۔ ان تمام لوگوں کو ای میل بھیجنا شروع کیں۔ خدا خدا کر کے ایک شخص کا فون آیا۔ مورگن نے اس سے بات کی۔ وہ شخص سیر کرنا چاہتا تھا۔ مورگن نے اسے سیر کے لیے اہم اہم مقامات کے نام بتائے، ریٹ طے کیا اور اگلے دن یہ سیاح اس کے ساتھ تھا۔

مورگن نے تمام تاریخی مقامات کے بارے میں بہت سی معلومات یاد کر لی تھیں۔ جب اہم مقامات کی سیر پر نکلے تو سیاح بہت خوش ہوا۔ مورگن نے سیاح کا دل جیت لیا۔ ایڈونچر لائف کو نئے نئے گاہک ملنے لگے۔ ایک سال میں مورگن نے چار افراد کو اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔ اب مورگن اپنی کمپنی کی تشہیر کرتا اور سیاحوں کو سیر کروانے کی ذمہ داری ملازمین ادا کرتے۔ ایک سال میں ہی کمپنی نے نفع دینا شروع کر دیا۔ مورگن بہت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا تھا۔ اسے پتا تھا کہ جتنی زیادہ تشہیر کی جائے گی اتنے زیادہ سیاح اس کے پاس آئیں گے۔ اس لیے مورگن نے تشہیر پر بھر پور توجہ دی۔ شروع میں وہ امریکا سے صرف ایکواڈور جانے والے سیاحوں کو لے کر جاتا۔ رفتہ رفتہ اس نے اپنا دائرہ پھیلانا شروع کردیا۔ جنوبی امریکا کے دیگر ملکوں میں بھی سیاحوں کو لے جانے لگا۔ 2005 ء میں انٹارکٹیکا دفتر شروع کیا اور پہلی دفعہ سیاحوں کو انٹارکٹیکا لے جانے لگا۔ آج اس کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ صرف 2008 ء میں اس کمپنی نے ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ ریونیو کمایا۔

ہر دور میں نئے بزنس شروع ہوتے رہے ہیں۔ مگر اسٹارٹ اپ کی اصطلاح انٹرنیٹ کے دور میں بہت مشہور ہوئی۔ آئی ٹی کے اس دور میں اسٹارٹ اپ سے مراد کاروبار کا وہ نیا امکان ہوتا ہے جو طویل عرصہ تک کامیابی سے چل سکے۔ بزنس اسٹارٹ اپ میں آئی ٹی، انٹرنیٹ اور ویب سائٹ کا بنیادی کردار ہوتا ہے، بلکہ کاروبار کا اکثر حصہ انٹرنیٹ، ویب سائٹ یا انفارمیشن ٹیکنالوجی پر انجام دیا جا رہا ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں روزانہ سیکڑوں اسٹارٹ اپ شروع کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کامیاب ہوتے ہیں اور کچھ ناکام ہوتے ہیں۔ مگر کامیاب ہونے والے اسٹارٹ اپ اس قدر نفع بخش ہوتے ہیں کہ دنوں میں سالوں جتنا منافع دے جاتے ہیں۔ تمام بڑی کمپنیاں اپنے سرمائے کے ایک حصے سے اسٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ جو نہی کوئی اسٹارٹ اپ کامیاب ہوتا ہے، کمپنی حیران کن منافع حاصل کر لیتی ہے۔ بلاشبہ اسٹارٹ اپ میں رسک ہے مگر کامیاب تاجر وہی ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ رسک کا سامنا کرنے کے لیے ہردم تیار رہتا ہے۔ ’’بزدل تاجر محروم رہتا ہے، جرات مند تاجر نفع کماتا ہے۔‘‘