مولانا قاسم نانوتوی لکھتے ہیں: ’’سرزمین ہند میں اگر صرف شاہ ولی اللہ ہی پیدا ہوتے تو ہندوستان کے لیے یہ فخر کافی تھا۔‘‘ آپ اٹھارویں صدی میں ایک مجدد کی حیثیت سے ابھرے۔ ایک جید عالم دین، باکمال فقیہ اور دانش مند سیاسی مدبر تھے۔ صرف 17 سال کی عمر میں عالم دین بن گئے، بلکہ تصوف کے تمام درجات بھی طے کرلیے۔ آپ کی درخواست پر احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو تاریخی شکست دی تھی۔


آپ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ اس قدر مشہور ہوئی کہ آج دنیا کی ہر بڑی زبان میں اس کا ترجمہ موجود ہے۔ اسی کتاب میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’آج سے پہلے دنیا کے تمام مذاہب کی بنیاد اخلاقیات پر تھی۔ ہر مذہب کی مقبولیت اور عدم مقبولیت کا دارو مدار اس کے معاشرتی حسن اور اخلاقی خوبصورتی پر تھا۔ جب کوئی شخص عیسائیت، یہودیت یا اسلام قبول کرنے لگتا تو سب سے پہلے یہ معلوم کرتا کہ اس مذہب کے اخلاق کیسے ہوں گے؟ زندگی کے دن رات کی فطری قدریں اور معاشرتی رہن سہن کے آداب کیا ہوں گے؟ مگر آنے والے دور میں جب صنعتی انقلاب شروع ہوگا تو ترجیحات بدل جائیں گی۔ صنعت و حرفت اور محنت و مشقت کے دور میں مذہب کی بنیاد اخلاقیات کے بجائے معیشت پر ہوگی۔ ہر شخص کسی مذہب کو قبول کرنے سے پہلے پوچھے گا کہ اس میں ہمیں روٹی ملے گی یا نہیں؟‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ معیشت کو جدید دو ر میں بنیاد ی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے تعلقات میں پہلی ترجیح مالی مفادات کو ہی رکھتا ہے۔ فقر و فاقہ کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا۔ معاشی بدحالی کفر تک پہنچانے لگی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سچ ثابت ہورہا ہے کہ ’’عن قریب غربت کفر تک پہنچادے گی۔‘‘ (شعب الایمان، رقم : 6101)یہ فقر و فاقہ ہی ہے جو نوجوانوں کو جرائم کے رستے پر ڈال دیتا ہے۔ یہ پیسے کی دوڑ ہی ہے جو انسان کو برے اور بھلے کی تمیز مٹادیتی ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو کسی کی معصوم جان لینے پر آمادہ کردیتے ہی۔ یہ دولت ہی ہے جو دھوکے، فریب اور بدعنوانی کو جنم دیتی ہے۔ سرور کونین ہر نماز کے بعد دعا مانگتے تھے: ’’اے اللہ! میں کفر اور فقر و فاقہ سے پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (الادب المفردللبخاری، رقم: 699) شاہ ولی اللہ دہلوی نے کیا خوب کہا: ’’انسان شائستگی و خوش اخلاقی میں اسی وقت ترقی کرسکتا ہے جب بھوک، پیاس اور جنسی تسکین وغیرہ جیسی جسمانی ضرورتوں سے فارغ ہوجائے۔ ‘‘(البدور البازغہ)

غربت کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ بے سہاروں کا خیال رکھنا کسی ٹرسٹ کا فرض نہیں۔ یہ ہر اس شخص کا فرض ہے جو سینے میں دھڑکنے والا دل رکھتا ہے۔ جو معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتا ہے۔ جس کی خواہش ہے میری قوم اخلاق و روایات میں سب سے بہتر ہو۔ معاشرے میں تبدیلی کے لیے سب سے پہلے ہمیں بدلنا ہوگا۔ ہم میں سے ہر شخص کو اپنی بساط کے مطابق تبدیلی کا آغاز کرنا ہوگا۔ معاشرے میں انقلاب سے پہلے اپنی ذات میں انقلاب لائیے۔ دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہمیشہ یاد رکھیے: ’’اللہ تعالی نے دولت مندوں پر غریبوں کی ضروریات کو پورا کرنا فرض کیا ہے۔ اگر غریب بھوکے، ننگے یا مشکلات کا شکار ہیں اور مال دار بھی ان کی مدد نہیں کرتے تو اللہ تعالی ان دولت مندوں سے باز پرس کرے گا اور انہیں عذاب دے گا۔‘‘ (المحلی لابن حزم، کتاب الزکاۃ، قسم الصدقۃ، مسئلہ: 725)