یہ پاکستان کے ایک گھرانے کا واقعہ ہے۔ میاں بیوی دونوں نوکری پر جاتے ہیں۔ گھر چلانا اتنا آسان تو نہیں ہے نا۔ دونوں کی ڈیوٹی شام گئے تک ہے۔ بیٹا اسکول سے جلدی واپس آ جاتا ہے مگر والدین کو تو دفتر میں حاضری دینا پڑتی ہے۔ اس مشکل کا حل یہ تلاش کیا گیا کہ روزانہ بچے کو اسکول سے واپس آتے ہی ’’کیل پول‘‘ پلا کر سلا دیا جائے۔ بچہ گہری نیند سو جاتا ہے اور میاں بیوی شام ڈھلے دفتر میں کام کرتے رہتے ہیں۔


٭ دفتر میں جانے والے طویل وقت میں سے صرف 20 فیصد وقت ہی کام میں گزرتا ہے، اس کے علاوہ 80 فیصد وقت ضائع ہوتا ہے ٭ جب باس آپ کے کام سے مطمئن ہو گا وہ آپ کا ہر مطالبہ ماننے کے لیے تیار ہو گا ٭


دفتر اور گھر میں توازن رکھنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ہر دوسرا شخص وقت کی کمی کا شکوہ کرتا نظر آئے گا۔ دنیا بھر میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 1986 ء سے 1996 ء تک دنیا بھر میں کاروباری زندگی کی مصروفیات پر 32 مضامین شائع ہوئے، مگر صرف 2007 ء میں اسی موضوع پر 1674 مضامین شائع ہوئے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کی کاروباری مصروفیات بڑھتی جا رہی ہیں اور گھر کے لیے وقت نکالنا بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی ہر بڑی کمپنی نے اپنے ملازمین کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے کئی طرح کی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔

دراصل ہر شخص خوشی چاہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ فارغ وقت ملے۔ دفتر، کام اور نوکری کو ہر شخص بوجھ سمجھتا ہے۔ ترقی اور آگے بڑھنے کی دوڑ میں شامل لوگوں کے لیے گھر کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کبھی نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر میں نے گھر کا وقت بھی دفترمیں دے دیا تو ہر کام ہو جائے گا۔ ایسا کرنے سے تمام کام بگڑ جائیں گے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ کامیاب لوگ اپنا وقت ضائع نہیں کرتے، مگر ایسا ہرگز نہیں کہ اپنے گھریلو کاموں کے لیے وقت فارغ نہیں کرتے۔
آئیے! ہم دیکھتے ہیں کہ کاروباری زندگی اور گھریلو مصروفیات میں توازن کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے:

1 ترجیحات کا تعین کریں
لوگ یہ تو چاہتے ہیں کہ دفتر میں کم سے کم وقت گزاریں اور گھر پر رہیں۔ مگر یہ سوال اہم ہے کہ وہ دفتر پر وقت کیوں نہیں دینا چاہتے؟ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کسی نے اپنے بچے کو اسکول پہنچانا اور واپس لانا ہو گا، کسی نے اپنے بیمار والدین کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو گا۔ اپنی ترجیحات کو متعین کر لیں، پھر باس یا انتظامیہ سے گفتگو کریں۔ ترجیحات متعین ہونے کی وجہ سے آپ انتظامیہ کو بہت آسانی سے اعتماد میں لے سکیں گے۔ اگر میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں تو اپنے دفتری اوقات اس طرح ترتیب دیں کہ بچوں کو وقت دیا جا سکے۔

2 اپنے آپ کو پہچانیے!
آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ دفتر میں گزارے جانے والے طویل وقت میں سے صرف 20 فیصد وقت ہی کام میں گزرتا ہے، اس کے علاوہ 80 فیصد وقت ضائع ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ دفتر میں گزارے جانے والے وقت کا صرف 20 فیصد یکسوئی اور تن دہی سے گزار لیں تو کام مکمل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی طبیعت پر قابو پالیتے ہیں تو کام مکمل کرنا اور انتظامیہ کو کارکردگی سے مطمئن کرنا کوئی مشکل نہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ جب باس آپ کے کام سے مطمئن ہو گا وہ آپ کا ہر مطالبہ ماننے کے لیے تیار ہو گا۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ کمپنی میں ترقی پانے والے اور زیادہ تنخواہ لینے والے افراد کو بہت کم یہ شکوہ ہوتا ہے کہ گھر کے لیے وقت نہیں مل رہا۔

3 کون سا کام آپ کے بغیر نہیں ہو سکتا؟
گھر اور دفتر میں کون سا کام آپ کے بغیر نہیں ہو سکتا؟ اس ایک سوال کا جواب تلاش کر لیں، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میری ترجیح کیا ہونی چاہیے۔ اگر آپ کو گھر پر کپڑے دھونے، صفائی کرنے اور چھوٹے موٹے کام کرنے کا شوق ہے تو اسے قربان کر دیں۔ مینجمنٹ کے ماہر ’’پیٹر ڈرکر‘‘ مشورہ دیتے ہیں کہ گھر یا دفتر میں اس کام پر توجہ دیں جو آپ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ بہترین منیجر وہ ہوتا ہے جو اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اسے انہی کاموں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جو اس کے بغیر کوئی نہیں کر سکتا۔ آسان کام دوسروں کو دیں اور مشکل کام خود کریں، اسی میں آپ کی عزت ہے۔

4 ابھی کیا کروں؟
دنیا میں کوئی بھی شخص فارغ نہیں ہوتا۔ بے شمار چھوٹے بڑے کام کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن سمجھدار لوگ ہمیشہ اپنے کاموں کی فہرست میں سے انہی کاموں کا انتخاب کرتے ہیں جو فوری طور پر اہم ہوتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے کام اہم ہو سکتے ہیں مگر انہیں فوری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ دوسری طرف بے شمار کام فوری کرنا ہوتے ہیں مگر ان کا اہم ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس لیے ایسا کام منتخب کریں جو فوری بھی کرنا ہو اور اہم بھی ہو۔