ایک شخص نے دولت مندوںکے حالات زندگی پڑھنا شروع کیے۔ ایک سو ایک دولت مندوں کے حالات پڑھ کر وہ حیران کن نتیجے تک پہنچا۔ یہ عجیب بات سامنے آئی کہ دنیا کے تمام امیر ترین آدمیوں نے کاروباری کامیابی کے لیے کم و بیش ایک ہی جیسا طریقہ اپنایا ہے۔ فیس بک کا مالک مارک زکر برگ ہو، مائیکروسوفٹ کا بانی بل گیٹس،ایپل کمپیوٹر کا روح رواں اسٹیو جابس، اسٹاک مارکیٹ کا بے تاج بادشاہ وارن بفیٹ، ٹیلی کام کا شہنشاہ کارلوس سلم یا بھارتی امیر ترین شخص مکیش انبانی ، ان تمام کے تمام افراد نے ایک ہی طریقہ اپنایا ہے۔ اس ایک طریقے پر عمل کرکے یہ تمام لوگ دنیا کے سو امیر ترین لوگوں کی فہرست میں کئی سالوں سے مستقل براجمان ہیں۔

 


بغور مطالعہ سے پتا چلا کہ ان طریقوں کے نام تو بالکل الگ الگ ہیں لیکن ان کی بنیاد ایک ہی ہے۔آپ جاننا چاہیں گے کہ وہ بنیاد کیا ہے؟ ارے گھبرائیے مت! کوئی ایسی لمبی چوڑی ترکیب نہیں۔ سنیے، سخت محنت ہی وہ بنیاد ہے جس پر عمل کرتے ہوئے آپ کوئی بھی طریقہ اختیار کریں، کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ جی ہاں! کسی بھی جائز طریقے پر عمل کرنے کی صورت میں آپ کو سخت محنت کرنا پڑے گی اور جائز طریقے سے حاصل کی گئی دولت ہی آپ پر خوشی کے دروازے کھولے گی۔ اگر آپ تجارت کے شعبے میں قسمت آزما رہے ہیں تو سخت سے سخت محنت کو اپنی عادت بنا لیجیے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں فوری امیر بننے کا کوئی بھی طریقہ نہیں ہے، یعنی مالی کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

مگر یہ حقیقت آج کے جدید ذہن کو سمجھ نہیں آتی۔ دوسروں کی شان و شوکت دیکھتے ہی دل میں مال کی محبت انگڑائیاں لیتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ دنوں میں امیر ہوجائوں۔ دنیا کی تمام چیزیں خریدلوں۔ حالانکہ اپنے سے زیادہ مال دار شخص کی دولت کو حرص بھری نظروں سے دیکھنا بھی ممنوع ہے۔ جب انسان حرص بھری نظروں سے دیکھتا ہے تو جائز و ناجائز دولت کمانے کا سوچتا ہے۔

زندگی میں کامیابی اسی کے قدم چومتی ہے جو محنت کو اپناتا ہے۔ سستی، کاہلی اور بے کاری انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے ہر انسان پر فرض کیا ہے کہ جو کام بھی کرے، اسے بہت عمدگی سے سرانجام دے۔ (جامع العلوم و الحکم، لابن رجب، رقم: 17) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تجارتی سامان لے کر بصرہ گئے۔ (التراتیب الاداریہ:ج: 2ص: 10)ایک بار حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ بات میں اس لیے نہیں جان سکا کیونکہ میں بازار میں تجارت کرنے جاتا تھا۔(صحیح البخاری، کتاب الصوم، رقم: 1956) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں انتہائی غربت کے عالم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وقت گزارتا تھا۔ مہاجر صحابہ کرام بازار میں تجارت کے لیے تشریف لے جاتے۔ انصاری صحابہ کرام بھی اپنی دولت کا حساب کتاب رکھنے میں مصروف رہتے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، رقم: 2492) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام تجارت پر بھرپور توجہ دیتے۔ اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی تشریف فرماہوتی مگر صحابہ کرام نے اپنے کاروبار کو کبھی فراموش نہیں کیا۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں! کامیابی تک پہنچنے کے تمام راستے محنت، مشقت اور جدوجہد کی شاہراہ سے ہی گزرتے ہیں۔ یہ زندگی کا ایسا راز ہے جس نے جتنی جلدی پالیا وہ اتنی جلدی کامیاب ہوگیا۔