’’ایورسٹ گیلوا‘‘ فرانس کا ایک ہونہار طالب علم تھا۔ بچپن سے ہی ریاضی اس کا پسندیدہ مضمون بن گیا۔ ابھی عمر کی 20 بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ اس کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ دوسرے شخص نے دو بدو لڑائی کا چیلنج کر دیا۔ گیلوا معاشرتی رواج کے باعث چیلنج قبول کرنے پر مجبور تھا۔ کشتی کا دن طے ہو گیا۔ گیلوا کو یقین ہو گیا کہ لڑائی میں زندہ بچنا مشکل ہو گا۔ لڑائی سے ایک رات پہلے وہ اپنی میز پر بیٹھا۔ الجبرے کی تمام مساواتوں (equations) سے متعلق اپنی تحقیق لکھنے لگا۔ وہ رات بھر جوش و جذبے سے الجبرے کی گرہیں کھولتے رہا۔ ایک جگہ اس نے لکھا: وقت بہت کم ہے۔


رات بیت گئی اور 20 سالہ گیلوے الجبرا کے بہت اہم مسئلے پر لکھ کر فارغ ہو گیا۔ صبح سویرے اس کے دو دشمن پہنچ گئے۔ گیلوے کے پیٹ میں گولی لگی اور وہ ہسپتال میں جان سے گزر گیا۔ موت کے کئی سال بعد گیلوے کے نوٹس دیکھے گئے۔ ریاضی دان حیران رہ گئے۔ گیلوے نے انتہائی دباؤ کے عالم میں الجبرا کے کئی مسئلے حل کر دیے۔ آج ہر ریاضی دان جانتا ہے کہ''The Galois group of the polynomial'' الجبرا کا اہم ترین حصہ ہے۔


٭…اچھے سلوک کا مطلب ہے ان کی خیرخواہی کرے، ان کے مسائل اسی طرح حل کرے جس طرح اپنی اولاد کے کرتا ہے۔ بلاوجہ ملازمین کو تنگ نہ کرے


جب کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے۔ میں کسی بھی وقت کام مکمل کرلوں گا۔ ایسے آدمی کا ذہن سستی کا شکار ہوجاتا ہے۔ دماغ کی کارکردگی بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک مخصوص وقت دیا جائے۔ جب تک دماغ کو ڈیڈ لائن نہیں ملے گی وہ بھرپور انداز میں کام نہیں کرے گا۔ بہت سے دوست اسے دباؤ کا نام دیں گے، مگر یاد رکھیے! انسانی صلاحیت بڑھانے کے لیے کچھ نہ کچھ دباؤ ضروری ہے۔

کروشی
کچھ نہ کچھ دباؤ تو ضرور ہونا چاہیے مگر اتنا نہیں کہ لوگ خود کشی کرنے لگیں۔ اگر لوگ ذہنی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں یا مایوسی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں تو اس پر بھر پور توجہ کی ضرورت ہے۔ دفتری دباؤ کی وجہ سے خود کشی کو جاپان میں ’’کروشی‘‘ کہا جاتا ہے۔ جاپانی حکومت ہر سال ملک میں کروشی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ جوں جوں کروشی کے واقعات بڑھنے لگے حکومت نے قانون سازی شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیوٹا نے اپنے کارکنوں کا اوور ٹائم کم کر دیا۔ مٹسوبشی نے قانون بنایا کہ ملازمین، والدین یا بچوں کی دیکھ بھال کے لیے تین گھنٹے پہلے بھی چھٹی کر سکتے ہیں۔ مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ جاپان کے علاوہ دنیا کے کسی ملک میں دفتری دباؤ کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام کے قانون موجود نہیں ہیں۔ اس لیے بہت ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں ذہنی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

دباؤ کیسے کم کریں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ دباؤ ایک عالمگیر مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مگر اس سے نمٹنا بھی کوئی مشکل نہیں۔ آپ مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرکے دباؤ کم کرسکتے ہیں۔ دباؤ میں مرکزی کردار مالکان اورانتظامیہ کا ہوتا ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں مالکان کو دباؤ کم کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے:

دباؤ کم کرنے میں کمپنی کا کردار
ملازمین اسی وقت دباؤ کا شکار ہوتے ہیں جب کمپنی ان پر بے جا بوجھ ڈال دیتی ہے۔ مالکان جب ملازمین اور ورکرز کو اپنا دست و بازو سمجھنے کے بجائے کام چور، نکما ، سست اور کاہل سمجھنے لگتے ہیں۔ ملازمین کو چھوٹی چھوٹی بات پر ڈانٹ دینا اور انہیں سب کے سامنے بے عزت کردینا کمپنی کے لیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ ایسا ملازم خوف اور دباؤ میں کام کرتا ہے۔ اس کا دل کمپنی، مالکان اور انتظامیہ کے خلاف بغض سے بھر جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ بہتر کام نہیں کرتا۔ مالکان جن مسائل پر آج پریشان ہوتے ہیں، ان کا حل ایک حدیث شریف میں بیان کردیا گیا ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے: عبید اللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں کہ اگر میں مرنے والا نہ ہوتا تو میں تجھ سے وہ حدیث بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جو آدمی مسلمانوں کا امیر ہو اور پھر ان کی بھلائی کے لیے جدوجہد نہ کرے اور خلو ص نیت سے ان کا خیر خواہ نہ ہو تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘(مسلم شریف: 362)اس حدیث میں بتادیا گیا کہ اپنے ماتحت لوگوں کی خیر خواہی اور بھلائی دیکھیں۔ انہیں بلاوجہ دباؤ میں نہ رکھیں۔ ان پر اتنا کام نہ ڈالیں کہ وہ ذہنی مریض بن جائیں۔ ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے: اپنے ملازمین سے براسلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جس شخص نے کسی مسلمان کو تکلیف دی یا اسے دھوکہ دیا، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ (العلل لابن ابی حاتم، رقم: 2326)

اگر ہر شخص اپنے ملازم سے اچھا سلوک کرے گا تو امید ہے دفتروں کا ماحول بہت اچھا ہوگا۔ اچھے سلوک کا مطلب ہے ان کی خیرخواہی کرے، ان کے مسائل اسی طرح حل کرے جس طرح اپنی اولاد کے کرتا ہے۔ بلاوجہ ملازمین کو تنگ نہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کرنے والے آدمی کے لیے فرمایا: ’’اے اللہ !میری امت کا جو آدمی بھی کسی پر نگران ہو اور وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی کراور اگر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر: 1828) دفتر کا ماحول خوش گوار بنانے کے لیے اگر ہر منیجر مندرجہ ذیل اقدامات کرے تو امید ہے کارکن مطمئن ہوں گے:

ہر ملازم کی صلاحیت اور طاقت کے مطابق کام تقسیم کیے جائیں کام کا بوجھ ڈالنے، تنخواہ مقرر کرنے میں تمام ملازمین کے درمیان انصاف کیا جائے ہر شخص حوصلہ افزائی کا بھوکا ہوتا ہے۔ اپنے ملازمین کی تعریف میں کنجوسی مت کریں دفتر میں تعاون کا ماحول پیدا کریں۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی حوصلہ شکنی کریں ملازمین کے مسائل اور مشکلات کو نظر انداز نہ کریں۔ ان کے ساتھ دلی ہمدردی رکھیں ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے شعبے کو متحرک کریں۔ ہر ہر ملازم کی گھریلو مشکلات اور ذاتی مسائل کو معلوم کریں لوگوں کی نفسیات سمجھنے والے ماہرین کی مدد لیں۔ اپنے ملازم کی نفسیات کے مطابق اس سے معاملہ کریں ان احادیث اور ہدایات پر عمل کرنے سے امید ہے ہمارے دفاتر کا ماحول خوش گوار ہو گا۔ دفتر آتے ہوئے ملازم کا دل نہیں گھبرا رہا ہو گا۔ ہر شخص خوش و خرم ہو گا۔