قرضِ حسن اور مائیکروفائنانس

اس نے اپنی جیب سے 27 ڈالر کا قرض دیا۔ 1976 ء کا تباہ حال، بدحال اور خستہ حال بنگلہ دیش۔ یہ رقم گائوں کی 42خواتین کو دی گئی۔ یہ عورتیں چند مقامی سود خوروں کے جال میں پھنس گئی تھیں۔ دیہاتی عورتوں نے اس تھوڑی سی رقم سے کاروبار شروع کیا۔ اللہ تعالی نے نوے فیصد رزق تجارت میں رکھا ہے۔ خواتین نے نفع کمایا۔ اپنے خاندان کو پائوں پر کھڑا کیا۔ قرض کی رقم واپس کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بہنوں کو بے نقاب نہ کیجیے

اس کے گھر پر قیامت سے پہلے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ والد صاحب کا انتقال ان کے گھرانے کو سوگوار کرگیا۔ اپنے پیچھے روتی سسکتی بیوہ اور تڑپتی بلکتی بیٹی کو چھوڑ گئے۔ اے موت تجھے موت ہی آئی ہوتی! مدیحہ تو ابھی ایم بی اے کی طالبہ تھی۔ بوڑھی ماں عمر کے اس حصے میں ہے جہاں سہاروںاور آسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایم بی اے کی فیس کہاں سے ادا ہوگی؟ باپ کے جمع کردہ پیسے سے کب تک گزارہ ہوگا؟ بچپن سے پردہ کرنے کی عادت کہیں نوکری بھی نہیں کرنے دیتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی مائیکروفائنانس

عبداللطیف بھٹائی نے تھر کے بارے میں کہا تھا: ’’اے ساون کے بادلو! کبھی ہمارا حال بھی پوچھ لو۔‘‘ بھٹائی کے دور میں تو صرف تھر ہی آٹھ آٹھ آنسو روتا تھا، اب تو وطن عزیز کا ہر ہر گوشہ دہائی دے رہا ہے۔ ہر دوسرے سال تھر کے تن بدن سے سسکیاں بلند ہوتی ہیں۔ ایک ایک دن میں دوسو معصوم نونہال خون آشام بھوک کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ وزیر خزانہ تسلیم کرتے ہیں کہ 54 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب کمپنیوں کے دفاتر

ہیڈ کوارٹرز
’’امریکا آن لائن‘‘ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک مشہور و معروف کمپنی ہے۔ کمپنی کی نئی انتظامیہ نے ہیڈ کوارٹر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہیڈ کوارٹر میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی کسی بڑے ادارے سے توقع کی جاسکتی ہے۔ بے شمار آرام کرنے کی جگہیں، گیم کھیلنے کے لیے ہال، مطالعہ کے لیے لائبریری، جابجا موجود کچن اور سوئمنگ پول۔ ایسے خوبصورت دفتر میں کام کے دوران دماغی بوجھ، دبائو اور ٹینشن کبھی نہیں محسوس ہوسکتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لین دین کے جھگڑے کیوں؟

حضرت تھانوی کے ایک خلیفہ بہت عرصہ بعد آج ان کی خدمت میں حاضر تھے۔ دن رات ذکر اذکار، کڑی شرائط اور بارہا آزمائش کے بعد خلافت دی گئی تھی۔ دور دراز سے سفر کرکے پہنچے تو ان کے ہمراہ ایک بچہ بھی تھا۔ معانقہ و سلام اور حال احوال ہوئے۔ بچے کو ملوایا اور دعا کی درخواست کی۔ حضرت نے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔ ویسے ہی پوچھا: بچے کی عمر کتنی ہے؟ عرض کرنے لگے: 13سال۔ حضرت نے پوچھا: آپ نے ریل گاڑی پر سفر کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب کمپنی کا دفتر کیسا ہوتا ہے؟

کمپنیاں صرف سرمائے کے بل بوتے پر ترقی نہیں کرتیں، ملازمین کی بھر پور محنت ہی خوش حالی کے دروازے کھولتی ہے۔ جس کمپنی کے ملازمین خوش ہوں وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہو سکتی۔ ملازمین پر ذہنی دباؤ ڈال کر کام نکلوانا بدترین طریقہ بن چکا ہے۔ ملازم کو خوش کر کے اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہی کامیاب بزنس کی کنجی ہے۔ ذہنی دباؤ کا شکار ملازم خود بے شمار مسائل میں گھر جاتا ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔