رچرڈ جسے ایک نیک کام نے سیئرز کمپنی کا مالک بنا دیا

اس نوجوان نے ایک مسافر کو ریلوے اسٹیشن پر دیکھا جو بنچ پر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ کافی وقت گزر گیا تھا لیکن وہ ایک حالت پر بے حس وحرکت بیٹھا رہا جیسے اس میں جان نہ ہو۔ اس کی یہ حالت اس نوجوان سے برداشت نہ ہوئی۔ اس نے مسافر کے پاس جا کر پریشانی کی وجہ پوچھی۔ وہ اس کے چہرے کو سرخ اور سوجھی آنکھوں سے تکنے لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عملی مشق نے کامیاب کیا

’’انسان اپنے بچپن میں کسی ایسی چیز کی تمنا کر بیٹھتا ہے ، جس کے مطلب اور مفہوم سے بالکل ناواقف ہوتا ہے، لیکن یہی آرزو پوری ہوجاتی ہے جب انسان بڑا ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا۔‘‘ الیکسی موردیشو اپنی کامیابیوں کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتا ہے: ’’ایک دن کلاس میں میرے استاذ نے پوچھا: الیکسی! بڑے ہوکر کیا بنو گے؟‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: ’’اکانومسٹ۔‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں ان کا چہرہ تکنے لگا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’’کچھ نیا کرکے دکھاؤں گا‘‘

’’کاش! آج میرا باپ زندہ ہوتا اور اپنی آنکھوں سے دیکھتا کہ میرا بیٹا کہاں کھڑا ہے اور فخر سے سر اٹھا کر کہتا: میرے بیٹے نے میرا خواب شرمندۂ تعبیر کر دیا ہے۔‘‘ رپورٹر نے فِل سے اس کے کسی ارمان کی بابت پوچھا تو اس نے جواب دیا ۔ فِل نائٹ ’’Phil Knight‘‘ ایک امریکی بزنس مین اور سماجی شخصیت ہے۔ یہ ’’NIKE‘‘ کمپنی کا چیئرمین اور بانی ہے۔ NIKE کا تلفظ ’’نائیکی اور ’’نائیک‘‘ دونوں طرح سے کیا گیا ہے۔ ہمارے دیار میں دورسرا زیادہ مشہور ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جس نے عظیم پریم جی کی کایا پلٹ دی

اگست 1966 ء ایک غمگین دن تھا، جس روز 21 سالہ نوجوان اسٹین فورڈ یونیورسٹی امریکا سے واپس اپنے کمرے میں آیا۔ کھانا کھانے کے بعدکچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا تو دوسری طرف اس کی ماں رو رہی تھی۔ یہ پریشان ہوگیا اور پوچھنے لگا امی! امی! کیا ہوا؟؟ بیٹا! آپ کے ابو… وہ… وہ… ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا مطلب!؟ آپ کے ابو کوہارٹ اٹیک ہوا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خطروں سے کھیلنے والا شیلڈن جو مسلسل ناکامیوں کے بعد 51ویں بزنس میں کامیاب ہوگیا

جمعرات کا دن تھا۔ یونیورسٹی میں صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ ایک لان میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ خوبصورت شامیانے لگے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طلبہ کی ٹولیاں جگہ جگہ نظر آ رہی تھیں۔ وہ گپ شپ میں مصروف تھے اور بات بات پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔وہ خوش اس لیے تھے کہ آج ان سے دنیا کے دسویں امیر ترین شخص نے خطاب کرنا تھا۔ اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھانا تھا کہ بارہ سالہ اخبار فروش بچہ کیسے دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

موچی سے کمپنی مالک تک خاندانی روایت توڑنے والا ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر

ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔