مکیش امبانی والد کا حکم مان کر ہندوستان کا امیر ترین شخص بن گیا

سرکاری ملازمین اپنے اپنے دفاتر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ مائیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ یہ نوجوان بھی کوٹ پتلون پہن کر یونیورسٹی جانے والا ہی تھا کہ اچانک اسے آواز سنائی دی۔ بیٹا! آج سے آپ نے یونیورسٹی نہیں جانا۔ اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو اس کا باپ اسے یونیورسٹی جانے سے منع کر رہا تھا، جو اسے اب تک اپنا پیٹ کاٹ کر بڑے چاہ سے تعلیم دلوا رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دیانت داری اور امیری ایک ساتھ! اٹلی کاامیر ترین شخص لیونارڈو ڈیل

میں اس بات کا زندہ ثبوت ہوں کہ آپ دیانت دار رہتے ہوئے دولت بھی کما سکتے ہیں
اٹلی کی اس عورت کے لیے وہ دن بہت کٹھن تھا، جس روز اس کا خاوند اس دنیا سے کوچ کر چکا تھا۔ ڈھیروں ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر ڈال دی تھیں۔ چار بچے اور پانچواں بچہ ماں کے پیٹ میں تھا۔ ان کی پرورش کا بوجھ اسے ہلکان کیے جا رہا تھا۔ چھ ماہ کے بعد پانچواں بچہ بھی اس دنیا میں آوارد ہوا، جہاں غربت اور تنگدستی کی حکومت تھی۔ گھر میں فاقے پر فاقہ ہو رہا تھا۔ پانچ سال کا عرصہ اسی کیفیت میں بیت گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یونیورسٹی کی فیس ادا نہ کرسکنے والا فریڈ ڈیلوکا Subway کمپنی کا بانی کیسے بنا

مقررہ تاریخ پر فیس جمع نہ کرانے والوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘‘ یہ اعلان ہونے کے بعد میری پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کافی دنوں سے میں اپنی یونیورسٹی فیس کے بارے میں بہت پریشان تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے نہ تھے کہ میں اپنی بھاری بھر کم فیس کا بوجھ اپنے والدین کے کاندھوں پر ڈال دیتا۔ادھر میرے پاس بھی اس کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اسے مقررہ دن پر ادا کرپاتا۔مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا، لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں میرا ڈاکٹری کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قلی۔ جب ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا

ٓج تو میں بہت امیر ہو چکا ہوں، وال مارٹ کو مات دے چکا ہوں۔ بہت خوش ہوں۔ میری تو یہی خواہش تھی کہ دنیا میں شہرت اور نام کماؤں اور آج کے اخبارات میری دولت اور مال کے گن گا رہے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کو فون کر کے بتا رہا ہوں کہ میری غربت پر ہنستے تھے، آج میری امیری کو بھی دیکھو۔ یہی کہتے کہتے وہ خوشی سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔ وہ اپنی حیرت انگیز کامیابی کی خبر رشتہ داروں کو بھی دے رہا تھا۔ وہ دوڑنا چاہتا تھا کہ ہر ایک کو اپنی کامیابی کی نوید سنائے، مگر خوشی کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔ اس سے بھاگا بھی نہیں جا رہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باپ کی سختی آخر کام آگئی

اس نے اپنے والدکے روبرو چند سیکنڈ میں درجنوں سوال داغ دیے۔ اس کا والد اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صرف اس نوجوان کے سوال نہیں تھے، بلکہ ہر اس بچے کے سوالات ہوتے ہیں جو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ نہیں پاتا کہ اس کے کاندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ وہ اسے اپنے ساتھ ظلم گردانتا ہے اور تنہائی میں خود کلامی کرتے ہوتے سوالات دہراتا ہے اور موقع ملنے پر پھٹ پڑتا ہے۔ یہی سوال نوجوان کی ترقی، کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ دنیا کا ہر نوجوان، بلکہ ہر ذی شعور شخص اگر ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے لگے تو اس کا سفر مختصر بھی ہو جاتا ہے اور بامراد بھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیابی کا سفر مختصر نہیں ہوتا

امریکا کے اس نوجوان کے لیے جنوری کی ایک عام رات تھی، سرد، اداس اور اجنبیت لیے ہوئے۔ وہ ایک سائنس کا طالب علم تھا، مگر اسے بزنس پڑھنے کا جنون تھا۔ کاروبار سے اسے بے حد دلچسپی تھی، مگر کبھی اس نے تجارت کے لیے عملی قدم نہیں اٹھایا تھا۔ وہ دنیا کے معروف کامیاب تاجروں کی داستانیں پڑھتا اور لطف اٹھاتا… اور بس۔ ایک دو بار کسی دوست نے اسے کہا کہ تم بزنس کے بارے میں اتنا پڑھتے ہوں اور اٹھتے بیٹھے اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہو، کبھی خود بھی کوئی کاروبار کرو، نوجوان یہ سن کر ہنس دیا۔ اس نے کہا یہ میرے بس کی بات نہیں۔ پھر اس کی زندگی میں ایک ایسی رات اتری، جس نے اس کی زندگی اور تقدیر بدل ڈالی۔

مزید پڑھیے۔۔۔