ہمت، عزم اورحوصلے کا ناقابلِ یقین سفر

ناکامی نے پے درپے پانچ بار چنگ کے چاروں شانے چت کر دیے، مگر اس نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ استاد بننا چاہتا تھا۔ وہ دیکھتا تھا ہر شخص اس کے استاد کا احترام کرتا ہے۔ اور علم کی بڑی قدر کی جاتی ہے۔ دوسری جانب ظاہری حالات اس کے لیے ہرگز ساز گار نہ تھے۔ اس نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ جہاں کئی دنوں تک چولہا نہ جلتا تھا۔ یہ آٹھ بہن بھائیوں میں سے سب سے بڑا تھا۔ والدین کے کہنے پر اسکول چھوڑ کر کھیتوں میں کام کرنے لگا۔ صبح سویرے اٹھتا اور کھیتوں کی طرف چل دیتا۔ سارا دن کام کرتا۔ یہ سلسلہ چند ماہ تک چلتا رہا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خیرخواہی

لارس ارسن (Lars Ericsson) ایک موجد اور انٹرپرینور تھا۔ اس نے 1876 ء میں اپنے ایک دوست کی مدد سے ایک چھوٹی سی الیکٹرو مکینیکل ورکشاپ کھولی، جس نے ترقی کرتے کرتے ایک دن کمپنی ارسن (Ericsson)کی صورت اختیار کر لی۔ آج اس کی پروڈکٹ دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس کی سالانہ آمدن 230 ارب ڈالر ہے۔ لارس اپنی کامیابی کا سہرا اپنے ملازمین کے سر باندھا کرتا تھا۔ ایک بار اس سے سوال کیا گیا کہ اپنے ملازمین سے بہت شفقت سے پیش آتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ لارس رنجیدہ ہوگیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے، وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعدکچھ یوں بولا۔ آئیے! سنتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیلز مین سے کمپنی مالک تک

بیسٹ بائی کے بانی رچرڈ شلزے کی کہانی

ماں باپ کے لیے وہ دن خوشی کا سامان لایا جس روز ان کا بیٹا شلزے پیدا ہوا۔ وہ اس خوشی میں اپنے ہمسایوں کو بھر پور طریقے سے شامل نہ کر پائے، کیونکہ غربت اور تنگ دستی نے ان کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ان کا گھر ایک جھونپڑی پر مشتمل تھا۔ کھانے پینے کے برتن بھی بقدرِ ضرورت نہ تھے۔ یہ تو اپنی زندگی میں خوشی کا منہ دیکھنے کو ترس گئے تھے، لیکن بچے کی آمد سے ان کے گھر میں خوشی اور ہنسی کی بہار آگئی ۔ شلزے کا باپ ایک مزدور تھا، جو صبح سویرے بیوی بچے کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نکل کھڑا ہوتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

موقع شناسی نسان بانی ایکواکی کہانی

یوشی سوک ایکوا (Yoshisuke Aikawa)ایک جاپانی انٹرپرینور، بزنس مین اور سیاست دان تھا۔ اس کے ساتھ یہ نسان (Nissan) کارمیکر کمپنی کا بانی بھی ہے۔ ایکوا نے 6 نومبر 1880ء کو جاپان کے شہر Yamaguchi میں آنکھ کھولی۔ پانچ سال کی عمر میں اسکول جانا شروع کیا۔ ان کے خاندان میں تعلیم کے بجائے سیاست پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ ایکوا نے اس کے برعکس سیاست کے بجائے تعلیم اور پڑھائی کو ترجیح دی۔ اس کے دوست بھی یہی کہا کرتے کہ یہ بڑا بن کر سیاست کرے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انتقام

اگر آپ نے فرانس، دبئی، سعودیہ، یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کی سیر کی ہے تو ضرورت آپ کی نظروں سے Hilton Hotels & Restaurant نامی بلند و بالا اور پرشکوہ عمارتیں گزری ہوں گی۔ آئیے! ان کے موجد سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ کونرڈہلٹن کو ان عمارتوں کا موجد اول کہا جاتا ہے۔ اس نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد ملک میں مختلف ملازمتوں پر فائز رہا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گداگری یا سوداگری؟

ڈیو تھامس (Dave Thomas) ایک امریکی بزنس مین اور سماجی شخصیت تھا۔ یہ ’’Wendy‘‘ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چین کا بانی اور چیف ایگزیکٹو تھا۔ اس نے ایک فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس میں لاوارث اور یتیم بچوں کی پرورش کا سامان کیا جاتا ہے۔ یہ فاؤنڈیشن مختلف پروگرام کے ذریعے یہ مہم چلاتی رہتی ہے کہ لوگ بے سہارا بچوں کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا کر ان کی تعلیم و تربیت کریں۔ ڈیوڈ خود ایک لاوارث بچہ تھا۔ اسے اپنی ماں تک معلوم نہ تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔