جس نے روشن کیا جہاں کو

آپ کو ایک بلب ایجاد کرنے سے پہلے ایک ہزار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ ایک رپورٹر نے اس سے سوال کیا۔ یہ سن کر وہ مسکرا دیا۔ پھر اس نے پر اعتماد لہجے میں وہ جواب دیا جو تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔ اس کا کہنا تھا: ’’مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا نہیں پڑا، بلکہ بلب کو آخری اور حتمی شکل ملنے کے لیے ایک ہزار منزلیں درکار تھیں، جو مجھے طے کرنی پڑیں۔‘‘ یہ تھے دنیا کے سب سے بڑے موجد تھامس ایڈیسن، جس نے ایک ہزار سے زیادہ ایجادات کیں۔ یہ بہت بعد کی بات ہے، اصل کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ آئیے! ملاحظہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سلاخوں کے اُس پار سے… Table Golf کا بانی کلائڈ بیزلی

منچلے اور لاابالی نوجوان دھرتی کا بوجھ تصور کیے جاتے ہیں۔ بری صحبت کا شکار اولادیں زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کو ناکارہ مال سمجھ کر حکومتیں انہیں مزید خراب ہونے کے لیے بے کار چھوڑ دیتی ہیں۔ مگر یہ سارے تصورات اور رویے یکسر غلط ثابت ہو جاتے ہیں جب ہم کلائڈ ایل بیزلی کی کہانی پڑھتے ہیں۔ یہ داستان ہمیں اپنا ایسا کوئی بھی فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمیں بتاتی ہے جب نوجوان کسی بات کا عزم کر لیں تو دنیا کا کوئی طوفان یا کوئی پہاڑ ان کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اس سے سمجھ میں آتا ہے انسان اخلاقی گراوٹ کی کسی بھی حد تک جا کر اچھے مقاصد کی طرف لوٹ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انہونیاںہوتی چلی گئیں… مزدا کابانی’’جوجیرو

ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی، صرف تین سال۔ دوپہر کا وقت تھا۔ چند افراد اس کے باپ کو چارپائی پر ڈالے کاندھوں پر لے کر گھر داخل ہوئے، حالانکہ پہلے وہ شام کو پاؤں پر چل کر گھر آتا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی بانہیں پھیلا دیتا تھا۔ اِس کی آنکھیں بھی ان کی تلاش میں ہوتیں تھیں۔ دیکھتے ہی یہ بھاگ کر اپنے باپ سے چمٹ جاتا تھا، لیکن آج اس کا باپ آنکھیں موندے خاموش تھا۔ یہ اپنی توتلی زبان سے ابو ابو کہہ کر آوازیں دیتا رہا۔ اس کے باپ نے جواب دینا تھانہ دیا ۔ یہ اس کی زندگی کی پہلی مشکل تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسٹینو گرافر سے کمپنی مالک تک Volvo کمپنی کا بانی عصر گیبریلسن

ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے کسی ادارے میں کام کرتے کرتے اپنی پوری زندگیاں گزار دیں۔کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ ایک معمولی کلرک، گارڈ یا باورچی کی حیثیت سے کسی ادارے یا کمپنی میں ملازمت کرتے گزار دیا، لیکن اس سے آگے نہ بڑھ سکے۔کیا ایسا ممکن ہے معمولی درجے سے کام کا آغاز کرنے والا آدمی اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے ہوئے دولت مند بن پایا ہو؟ تاریخ اس کا جواب ہاں میں دیتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غربت کے تعاقب میں اگسٹ ہورچ کی داستان

ہورچ نے سرِراہ ایک لوہار کی بھٹی لگا رکھی تھی۔ جس پر یہ کام کرتا تھا۔ یہ ابھی بچہ ہی تھا۔ غریب ہونے کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتا تھا، لیکن ایک خواہش تھی کہ وہ بھی تعلیم حاصل کرے۔ جب صبح کے وقت بچے اسکول جاتے تو اس کا مذاق اڑاتے، اسے لوہار لوہار کہہ کر پکارتے۔ ہورچ کو اس نام سے چڑ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے اور پھر واپسی پر بھی بچے اس سے ٹھٹھہ کیا کرتے۔ اس کے دل میں ہونک سی اٹھتی کہ کاش! یہ بھی اسکول جا سکتا۔ لوہار کے نام سے انتہائی درجے کی نفرت اس کے دل میں بیٹھ چکی تھی۔ غربت کی وجہ سے اس کام کو چھوڑ نہیں سکتا تھا، کیونکہ یہی اس کے دانہ پانی کا ذریعہ تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مارسل بِک کی کہانی

آپ کو اپنے ارد گرد تین طرح کے انسان ملیں گے:
ایک وہ ہوں گے،جو خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں سرگرداں رہتے ہیں۔ ہر وقت خیالی پلاؤ پکاتے رہیں گے۔ خیالات میں کھوئے کھوئے فضائی قلعے تعمیر کرتے رہیں گے۔ دوسری قسم کے وہ ہوں گے، جو باتوں کے دھنی ہوتے ہیں۔ عملی زندگی میں قدم رکھنا ان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جست میں زمین سے آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں گے۔ بسا اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں سب کچھ کہہ رہے ہیں ، لیکن ان کی باتیں کھوکھلے نعرو ں کی طرح ہوتی ہیں۔ تیسری قسم کے لوگ جو دھن کے پکے اور عزم کے سچے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔