گھڑیوں کے پٹے بیچنے والا کمپنی کا مالک کیسے بنا؟

اس کا والد پرائمری اسکول کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ اسکول جایا کرتا تھا۔ استاد کا بیٹا ہونے کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ بھی اس سے پیار کرتے تھے۔ ایک دن استاد نے طلبہ سے پوچھا کہ آپ پڑھ کر کیا بنیں گے؟ ہر ایک نے مختلف عہدوں اور ملازمتوں کو اپنا مقصد اور ہدف بتلایا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس کا جواب خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ لڑکوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ جب اس کا ابو استاد ہے تو یہ بھی استاذ بنے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لوہار کی بھٹی سے کار کی کمپنی تک

ہنڈا کے بانی سوئی شیرو ہنڈا  سوئی شیرو ہُنڈا(Soichiro Honda) ایک جاپانی انجینئر اور صنعت کار تھا۔ اس نے 1948ء میں اپنے خاندان کے نام پر Honda کمپنی کی داغ بیل ڈالی، جو ایک لکڑی کی مینو فیکچرنگ بائیسائیکل موٹرز سے بڑھتی، پھلتی اور پھولتی ایک ملٹی نیشنل کمپنی برائے آٹو موبائل اور موٹر سائیکل مینو فیکچرر بن گئی۔ ہُنڈا 17 نومبر 1906 ء کو شیزوکا (Shizuoka) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنا بچپن، باپ کے کام کاج

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹافیاں بیچنے والا جب کمپنی کا (CEO) سی ای او بن گیا

اس نے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولی۔ چار سال کی عمر میں وہ اسکول جانے لگا۔ وہ ابھی بچہ تھا لیکن اسیپیسے جمع کر نے کا بہت شوق تھا۔ خوشی کے موقع پر کسی سے پیسے ملتے تو وہ ان کو سنبھال کر رکھ لیتا۔ چھ سال کی عمر میں اس نے اپنے دادا کے دیکھا دیکھی کاروبار شروع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسکول جاتے ہوئے اپنے ساتھ بیچنے کے لیے چیونگم، کوکا کولا، ٹافیاں اور کھانے کی چھوٹی موٹی چیزیں لے جاتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک تاجر ایسا بھی

Telemex کے بانی کار لوس سلم کی کہا نی
وہ چھ بچوں کا باپ تھا۔ اسے ہر وقت ان کی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تر بیت کی فکر رہتی۔ اگر اس کے لیے اسے اپنی جنم بھومی کو بادلِ نخواستہ چھوڑنا پڑتا تو وہ اس سے بھی دریغ نہ کرتا۔Lebanonمیں رہتے ہوئے وہ بچوں کی جسمانی دیکھ بھال اچھے طریقے سے انجام دے رہا تھا، لیکن وہاں ان کی تعلیم کے لیے سامان مہیا نہ کرسکتا تھا۔اپنے آبائی وطن کو نم دیدہ آنکھوں ، رنجیدہ دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ چھوڑنا پڑا۔میکسیکو آکر ازسرِنو کاروبار شروع کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب تاجر بنیے

کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ پیسہ، جذبہ، جہد مسلسل یا کچھ اور؟ زیر نظر تحریر میں اس سوال کا جواب کھوجتے ہیں۔
کامیابی کی تڑپ انسانی فطرت میں شامل ہے۔ اسی کی تگ و دو میں وہ اپنی ساری زندگی صرف کر دیتا ہے۔ کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں انسان زندگی سے بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے۔ ناکامی سے سبق اور عبرت حاصل کرتاہے۔ کامیابی سے دولت، شہرت اور عزت حصے میں آتی ہے۔کامیابی اور ناکامی میں سب سے زیادہ اہم سمت کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہی چیز انسان کو بلندی یا پستی میں لے جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

TOYOTAکی کہانی

وہ اسکول سے واپس لوٹتا تو اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا۔ اس کاوالد بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ جب سے اس نے آنکھ کھولی، اپنے گھر میں ہر طرف لکڑیاں ہی لکڑیاں بکھری دیکھیں۔ اس کا باپ ان لکڑیوں کو کام میں لاکر ان سے مختلف چیزیں تیار کرتا۔ لیکن ان سے اتنی آمدنی نہ ہو پا رہی تھی کہ جس سے گھر کا چولہا جلتا رہے۔ گھر کے حالات دیکھ کر اس کا دل کڑھتارہتا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ اس نے بھی بڑھئی کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔ تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو اور خوش حال زندگی گزار سکیں۔ محنت اور لگن سے کام کرتا اور مختلف اشیاء بناتا، ایک دل پسند مشغلہ اس کے ہاتھ آ گیا۔ باپ بھی اپنے بیٹے سے بہت خوش تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔