پانچ خصوصیات والی کمپنی

’’ہوائی جہاز اوپر کو اٹھا۔ چند لمحوں میں فضاؤں کے سینے میں اتر گیا۔ میرے خیالات مجھ سے بھی بلند اڑان پر محو پرواز تھے۔ ’’شی !!‘‘کی آواز نے مجھے متوجہ کیا۔ میرے متوازی سیٹ والے بابا مجھ سے کچھ کہنا چاہتے تھے۔بڑے میاں شاید اس سرد ماحول سے بیزار ہو چکے تھے۔ میں نے ان کے چہرے کو دیکھا، جہاں مجھے طویل تجربے، زیرک کی انتہا اور فہم کا ایک آبشار بہتا دکھائی دیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میںCatalog Business شروع کرنے ہی والا تھا۔ لیکن نیا کاروبار شروع کرتے وقت جو خیالات آتے ہیں، مجھے بھی انہی سوچوں نے آگھیراتھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب تاجر کی سچی داستان

اس کا باپ ریلوے ملازم تھا۔ تنخواہ نہایت کم،جس سے گزارا کرنا بھی مشکل تھا۔ اپنے والد کی کمائی اور گھر کے حالات دیکھ کر اس نے بھی محنت مزدوری شروع کر دی۔ وہ کپڑوں کی دکان پر کبھی کام کرنے لگتا تو کبھی کسی فیکٹری میں۔ کہیں بھی اس کا دل نہ لگتا تھا۔ اس کے دل میں یہ بات گھر کر گئی تھی کہ وہ کپڑے کا اپنااسٹور کھولے گا۔ جس کے ذریعے وہ کپڑے کا کاروبار کر ے گا۔ مگر اس کے پاس دکان کھولنے کے لیے سرمایہ نہ تھا۔ اس نے اسی چیز کو اپنا ہدف بنایا اور مسلسل مزدوری کرتا رہا۔ اس دوران اس نے کئی کاروباری گر سیکھ لیے، تا کہ جب وہ اپنا کاروبار شروع کرے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے

مزید پڑھیے۔۔۔

ایپل کمپنی کی داستان

والدین نے رخت سفر باندھا۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور کاندھوں پہ رکھ لیا۔ پھر جانے کیا خیال آیا کہ انہوں نے سامان میں سے ایک نگ کو الگ کر لیا۔ یہ انہیں زائد از ضرورت بوجھ محسوس ہوا۔ اسے اٹھایا اور دونوں نے اپنے مشترکہ دوستوں پال اور کالار جابز کو گفٹ کر دیا۔ یہ اضافی بوجھ ایک ننھا سا بچہ تھا۔ والدین نہ جان سکے وہ سونے کی ایک چڑیا کسی کو تھما کر دنیا کی خاک چھاننے نکل رہے ہیں۔24فروری1955ء کو جنم لینے والے اس بچے کا نام جو کچھ بھی تھا، نئے والدین نے اس کا نام ’’اسٹیو پال جابز‘‘ رکھا۔جو آگے چل کر مشہور زمانہ کمپنی ’’دی ایپل‘‘ کا بانی ہوااور ہارڈویئر کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کے ایف سی کی کہانی

چار سال کی عمر میں والد کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا۔ والدہ نے باپ کی ذمہ داریاں بھی اپنے ذمے لے لیں۔ اس بچے کی سمجھ بوجھ کچھ بڑھی تو گھریلو کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے لگا۔ ماں کبھی دیر سے واپس آتی تو یہ خود کھانا پکا کر دوسرے بہن بھائیوں کو کھلا دیتا۔ ایک دن ماں نے بھی اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھایا۔ خوش ہو کر اسے گلے سے لگالیا۔ پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا :’’دنیا تیرے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھائے گی۔‘‘بچے کی چھپی ہوئی صلاحیتیں روز بروز نکھرتی گئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملازمت سے بہتر تجارت ’’نوکری نہیں، نوکر مانگو‘‘

میرے فون کی گھنٹی بجی۔ فرحان بول رہا تھا۔ ’’علی بھائی! اس جمعے کو عصر کے بعد میرے نئے دفتر کا افتتاح اور دعا ہے، آپ نے ضرور آنا ہے۔‘‘ مجھ سے آنے کا وعدہ لے کر اس نے فون بند کر دیا۔ میں نے جلدی سے موبائل میں ریمائنڈر سیٹ کیا اور فرحان کے دفتر کے لیے تحفے کا سوچنے لگا۔سوچتے سوچتے میرا ذہن سالوں پہلے ہماری ملاقات کی طرف چلا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب تاجر کی سچی داستان ٹھیلے سے میکڈونلڈ تک

مشہور ومعروف امریکی کمپنی ’’میکڈونلڈ‘‘، دنیا میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی سب سے بڑی چین ہے۔ اس کمپنی کے 121 ممالک میں 40 ہزار سے زائد ریسٹورنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد دنیا بھر میں 17 لاکھ ہے۔ کہا جاتا ہے ہر 8 امریکیوں میں سے ایک ایسا ہوتا ہے، جس نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں میکڈونلڈ میں کام کیا ہوتا ہے۔ اس فاسٹ فوڈ کمپنی کے مختلف ادارے کئی شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔