انفارمیشن ٹیکنالوجی کے خصوصی ماہر عمیر صلاح الدین سے شریعہ اینڈ بزنس کی گفتگو

٭۔۔۔۔۔۔بزنس کمیونٹی کو خوب سمجھنا چاہیے کہ انویسٹمنٹ صرف رئیل اسٹیٹ پر نہیں ہوتی، انویسٹمنٹ آئی ٹی پر بھی ہوتی ہے
٭۔۔۔۔۔۔ ایک ایپلی کیشن کی قیمت کروڑوں ڈالر میں ہوئی، اس کے مقابلے میں موٹر سائیکل کمپنی کی فروخت بہت کم پیسوں میں ہوئی
٭۔۔۔۔۔۔باہر کی دنیا اور ہم میں یہی فرق ہے کہ وہ سیلز کو سائیکالوجی کے ساتھ جوڑ کر چلتے ہیں

شریعہ اینڈ بزنس آپ پاکستانی تاجروں کو آئی ٹی سے ہم آہنگ عالمی تجارت کے تناظر میں کیسے دیکھتے ہیں؟ 

یہ ہمارے ملک کے بزنس مین کا بڑا مسئلہ ہے، وہ بزنس کرنے سے پہلے بزنس پڑھنے کے لیے ہرگز آمادہ نہیں۔ ہمارے ''سیلز مین'' کو ایک گھٹیا آدمی تصور کیا جاتا ہے۔ کہیں رشتہ ناتا طے کرنے کی بات ہو اور یہ پیشہ بتایا جائے تو لوگ چیں بجبیں نظر آتے ہیں۔ مگر آپ کے تصور سے باہر ہے کہ ''سیلز'' کتنا اہم اور بڑا شعبہ ہے۔

سیلز کا کام اگر طریقے کے مطابق کیا جائے تو یہ سب سے زیادہ کمائی والا پیشہ ہے۔ بیرون ممالک میں کاروبار اور نفسیات کو آپس میں جوڑا گیا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ مؤثر چیز سائیکالوجی پر عبور حاصل کرنا ہے۔ باہر کی دنیا اور ہم میں یہی فرق ہے کہ وہ سیلز کو سائیکالوجی کے ساتھ جوڑ کر چلتے ہیں۔ Talk Tadکے نام سے ایک ویب سائٹ ہے۔ بہت مشہور ہے۔ اس میں میں نے دیکھا کہ ایک مشین دکھا کر لکھا ہوا تھا وہ ''Lie Detector'' ہے۔ یعنی جھوٹ پکڑنے کا آلہ۔ وہ لوگ بزنس کے لیے اس قسم کی چیزوں کو بھی استعمال میں لارہے ہیں۔ جھوٹ پکڑنے کے لیے وہ باقاعدہ اپنے افراد کو تربیت دیتے ہیں۔ دور سے چلتے ہوئے شخص کو دیکھ کر اس کی باڈی لینگوئج سے پہچان لیتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس بزنس کمیونٹی میں آئی ٹی کے استعمال کے رجحان میں اضافے کے لیے کچھ نکات شیئر کیجیے؟

عمیر صلاح الدین بزنس کمیونٹی میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ آپ کا کاروبار جتنا آئی ٹی سے ہم آہنگ ہوگا، وہ کلاؤڈ کی طاقت کو استعمال کر سکتا ہے۔ عنقریب ایسا ہونے جارہا ہے کہ پاکستان میں بینکنگ سیکٹر کے اندر شفٹ آئے گا، جہاں جہاں آئی ٹی انسٹرکچر موجود ہے، وہ سب کرے گا۔ جابز کٹ ڈاؤن ہوں گی۔ یہ سب کے سب اپنے پاس کلاؤڈ کو ڈپلائے کریں گے۔ بینکنگ سیکٹر کے بعد یہ سلسلہ گورنمنٹ کے اداروں میں جائے گا۔ اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن جن کے ملین آف ڈالرز انفراسٹرکچر پر لگے ہوئے ہیں وہ اپنے آپ کو رڈیوس کریں گے۔ موبائل کمپنیوں کے ذمہ داران سے میری بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا ہمیں جلد از جلد کلاؤڈ پر منتقل ہونے کی ہدایات مل چکی ہیں۔ یونیورسٹیز اور ہوسٹنگ کمپنیز اب اسی پر Convert ہورہی ہیں۔

کلاؤڈ پر منتقل ہونے کے براہِ راست دو فائدے ہیں: کے پکس بھی رڈیوس ہوگا، ریونیو ایکسپنڈیچر بھی رڈیوس ہوگا۔ کلاؤڈ کی سروسز اتنی مضبوط ہیں کہ انہوں نے اسے جغرافیائی طور پر بھی تقسیم کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے سال کے اندر اگر صرف 10 منٹ کے لیے ان کی سروسز بند ہوں تو ایک کہرام بپا ہوجائے گا۔ ہم تو ویب ایپلی کیشن کو ذرا اہمیت نہیں دیتے۔ جن کے ملین ڈالر اس سے پیدا ہورہے ہیں، وہ چند منٹ کے لیے سروسزکے بند ہونے پر آسمان سر پر نہ اٹھالیں تو اور کیا کریں؟ اسی وجہ سے آج ایک ایپلی کیشن فروخت ہوئی تو اس کی قیمت کروڑوں ڈالر میں ہوئی، اس کے مقابلے میں موٹر سائیکل کمپنی کی فروخت بہت کم پیسوں میں ہوئی۔

بزنس کمیونٹی کو خوب سمجھنا چاہیے کہ انویسٹمنٹ صرف رئیل اسٹیٹ پر نہیں ہوتی، انویسٹمنٹ آئی ٹی پر بھی ہوتی ہے۔ ''ابھی دراز ڈاٹ پی کے'' کے نام سے ایک ویب سائٹ حال ہی میں لانچ ہوئی ہے۔ باہر سے آئے ہوئے ایک انویسٹر نے اسے لانچ کیا ہے۔ کم از کم 40، 50 لاکھ کی انویسٹمنٹ ضرور ہوگی۔ یہ بھی بہت چھوٹی انویسٹمنٹ ہے مگر صرف ہم لوگ ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں کہ انویسٹمنٹ ویب سائٹ پر بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ یہی ویب جس کا میں نے ذکرکیا کپڑے، ٹوپی، جوتے وغیرہ بہت سی چیزیں ویب سائٹ پر فروخت کررہی ہے۔

OLX ہمارے لیے ایک بڑی مثال ہے۔ آخر اسے کس نے اتنے پیسے دیے ہیں کہ وہ پاکستان میں آکر بڑے بڑے بل بورڈ نصب کرکے اپنے بزنس کو فروغ دے رہی ہے؟ ان کے پاس پیسہ اسی ویب سائٹ کے ذریعے جنریٹ ہورہا ہے۔ وہ گوگل کے ذریعے ریونیو کما رہی ہے۔
قوم کے عدم رجحان کا یہ حال ہے کہ لوگ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں کہ 5000 روپے میں ویب سائٹ بنادو۔ 5000 سے تو ایک معیاری ویب سائٹ نہیں بنائی جاسکتی۔ بہر حال! گزارش یہ ہے کہ پاکستانی بزنس کمیونٹی آئی ٹی کی طرف قدم بڑھائے۔ انویسٹمنٹ کے لحاظ سے بھی، اپنے کاروبار کی بہتری اور ترقی کے لیے بھی۔