٭۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں انرجی، ٹیکسٹائل، زراعت، معدنیات اور قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں

٭۔۔۔۔۔۔ اس وقت KCCI کے براہ راست ممبران کی تعداد 18 ہزار کے لگ بھگ ہے، جبکہ بالواسطہ ممبران ملاکر یہ تعداد50 ہزار تک پہنچ جاتی ہے

٭۔۔۔۔۔۔ بیرون ملک سرمایہ کاری کے خواہش مند تاجروں کے لیے سری لنکا، ملائیشیا، دبئی اور بنگلہ دیش بہترین ممالک ہیں تعارف

جناب محمد ہارون اگر کا تعلق ''بانٹوا میمن'' برادری سے ہے۔ آپ ملک بھر کے کاروباری وتجارتی حلقوں کی معروف شخصیت ہیں ۔ آپ اس وقت '' اگر انٹرنیشنل'' (پرائیویٹ لمیٹڈ ) کے ڈائریکٹر ہیں۔ 1988ء سے تاحال اس منصب پر فائز ہیں۔ 2008ء میں وزیر اعظم پاکستان نے انہیں ''ایکسپورٹ پر فارمنس ٹرافی'' سے نوازا تھا۔ ''جناب محمد ہارون اگر'' درج ذیل پیشہ وارانہ تنظیموں سے مختلف حیثیتوں سے بھی وابستہ رہے۔


پاکستان میں اخلاقیات خراب نہیں ہیں۔ یہ تو صرف ہمارے ہاںا سے ایشو بنایا جارہا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،حالانکہ چائنہ میں بھی اس حوالے سے حالات اچھے نہیں ہیں۔ یہی صورتحال ترکی اور یورپ میں ہے۔ ظاہری بات ہے ماحول کو خراب کرنے والے دو چار لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان کے بزنس ایتھکس بہت اچھے ہیں

2010 تا 2011 چیئرمین پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹ ایسوسی ایشن
2007 تا 2008 نائب صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری
2001 تا 2004 ممبر منیجنگ کمیٹی کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری
2001 تا 2004 چیئرمین کسٹمز اور ویلیویشن سب کمیٹی کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری
2012 تا حال صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
شریعہ اینڈ بزنس
چیمبر کا بنیادی رول کیا ہے؟
ہارون اگر
چیمبر آف کامرس کا قیام 1959ء میں ہوا۔ چیمبر بنیادی طور پر گورنمنٹ آف پاکستان کی منسٹری آف کامرس کے قوانین کے مطابق کام کرتا ہے۔ اس کی رجسٹریشن منسٹری آف کامرس کے ساتھ ہر سال ہوتی ہے، جو اسے چلانے کا لائسنس جاری کرتی ہے۔
اس کا اپنا کوئی رول نہیں ہے، بلکہ یہ تاجر کمیونٹی اور گورنمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا مقصد صنعت و تجارت کو فروغ دینا، کراچی کی حدود کے اندر صنعت و تجارت کے حوالے سے جو بھی کام ہیں ان کو پروموٹ کرنا۔ کراچی چیمبر کے جو ممبران ہیں ان کو اگر کوئی مسائل در پیش ہوتے ہیں تو ان کے حل کرنے کے لیے یہ ایک آواز بلند کرتا ہے۔اسی طرح جب بجٹ پیش ہوتا ہے تو اس میں یہ حکومت کو تجاویز دیتا ہے۔ حکومت ہماری کئی تجاویز کوبجٹ اور ٹریڈ پالیسی کی تشکیل میں بھی شامل کرتی ہے۔ اب یہ صرف تاجروں کا چیمبر نہیں، بلکہ یہ صنعت کاروں، ٹریڈرز اور انڈسٹریلسٹ کا بھی چیمبر ہے۔ اس وقت تقریباً 18 ہزار تاجر، صنعت کار اور انڈسٹریلسٹ اس کے باقاعدہ رکن ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس سے ملحق 7 انڈسٹریل زون ہیں۔1 لانڈھی، 2 کورنگی، 3 FB ایریا، 4 نارتھ کراچی، 5 بن قاسم، 6 سپر ہائی وے، اور 7 سائٹ ایریا۔ ان تمام کا الحاق کراچی چیمبر کے ساتھ ہے۔ ان تمام انڈسٹریل زون کے ممبران کو شامل کر لیا جائے تو اس وقت KCCI کے 50 ہزار سے زائد ممبرز ہیں۔ خود کراچی چیمبر کا الحاق ''فیڈریشن آف پاکستان'' کے ساتھ ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
کراچی چیمبر کس طرح کام کرتا ہے؟

 

ہارون اگر

صدر صاحب چیمبر کی ٹیم کے ہیڈ ہیں۔ اس کی مینیجنگ کمیٹی کے 32 لوگ ہیں، جن میں 2 خواتین کی بھی سیٹیں ہیں۔ ان خواتین کو بھی نمائندگی دی گئی ہے جو کاروبار کرتی ہیں۔ 25 کے قریب کمیٹیاں ہیں جو کام کرتی ہیں، مثلاً: امن و امان کی کمیٹی، امپورٹ، ایکسپورٹ کمیٹی وغیرہ۔ پھر ہم ایک نمائش کرتے ہیں جو ''مائی کراچی'' میں ہوتی ہے۔ اس کمیٹی کے ارکان جو مختلف ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو کمیٹی دے دی جاتی ہے جو پریزیڈنٹ کی سربراہی میں کام کرتے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس
حکومت کی طرف سے جو SROجاری ہوتے ہیں۔ کیا اس سے پہلے حکومت کی تاجر تنظیموں سے مشاورت ہوتی ہے یا نہیں؟
ہارون اگر
بعض معاملات میں حکومت بزنس کمیونٹی کے ساتھ رابطہ کرتی ہے، جیسے بجٹ تجاویز وغیرہ۔ البتہ عام طور پر حکومت کی جانب سے بزنس کمیونٹی کے ساتھ روابط کا فقدان ہے۔وہ اپنی بزنس پالیسیوں سے متعلق مشاورت نہیں کرتی، حالانکہ تاجر برادری ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے جس کے ساتھ مشاورتی عمل سے حکومت کو فائدہ ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے نئے چیئرمین بزنس کمیونٹی پرتوجہ نہیں دیتے۔وہ فرینڈ لی بزنس کے حق میں نہیں ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس

اس وقت نگران حکومت ہے۔ اس کے بعد نئی حکومت منتخب ہوگی۔ آپ کیاسمجھتے ہیں آنے والی حکومت میں انویسٹمنٹ بڑھے گی؟

ہارون اگر
دراصل لوگ ذرا محتاط رہنے لگے ہیں، کیونکہ پچھلی حکومت کی 5 سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ لوگوں نے انویسٹمنٹ بڑھائی نہیں، کم ہی کی ہے۔لہذا جب تک یہ پتا نہ چل جائے کہ کون آتا ہے اور اس کی بزنس پالیسیاںکیا ہیں۔ تب تک نئی انویسٹمنٹ مشکل ہے۔ لوگ کاروبار پھیلائیں گے نہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس

پاکستان میں کون سے ایسے شعبے ہیں جہاں انویسٹمنٹ کے مواقع ہیں اور تاجر برادری کو اس میں انویسٹمنٹ کرنی چاہیے؟
ہارون اگر
تجارتی حوالے سے پاکستان کے حالات بہت خراب ہیں، جو کاروبار تھے وہ بھی اب پہلے جیسے نہیںرہے۔ اس کے باوجود انرجی میں بہت زیادہ مواقع ہیں۔ ظاہری بات ہے جب انرجی ہوگی تو سب کچھ چلے گا۔اس کے علاوہ ٹیکسٹائل،ایگری کلچر، بلوچستان میں مائنزاور نیچرل ریسورسزہیں،جیسے دودھ وغیرہ۔دودھ سے آپ بہت ساری (بائی) پروڈکٹ بنا سکتے ہیں، مثلاً: چیز، فوڈ فلیور وغیرہ۔ غیر مسلم ملک نیوزی لینڈ کی دودھ پروڈکٹ کی ایکسپورٹ 8 ارب کی ہے۔ تو بہت سارے مواقع ہیں جہاں انویسٹمنٹ کی جاسکتی ہے۔ بس آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ شریعہ اینڈ بزنس بزنس کے حوالے سے پاکستان کے جو موسٹ فیورٹ کنڑیز ہیں، آپ کی نظر میں ان میں سے کون سے ایسے ملک ہیں جہاں ہمارا بزنس زیادہ ہونا چاہیے؟
ہارون اگر
جو لوگ یہاں سے بزنس منتقل کر کے باہر جارہے ہیں ۔وہ سری لنکا، بنگلہ دیش، دبئی اور ملائیشیا جارہے ہیں۔ میرے خیال میں یہی تین چار ملک ہیں جہاں بزنس کو پھیلایا جاسکتاہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
پاکستان میں بزنس، آئی ٹی سےrelated نہیں ہے۔ آئی ٹی سے واقفیت بھی پاکستان میں بہت کم ہے۔ اس حوالے سے آپ کے اس پلیٹ فارم سے کیا کام ہورہا ہے؟
ہارون اگر
آئی ٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں وفاقی لیول پر بھی اس کی وزارت ہے اور صوبائی لیول پر بھی مگر یہ غیر فعال ہیں۔حکومت اگراس طرف توجہ دے تو اس سے بہت فائدہ ہو گا،جیسے مشرف کے دور میں وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو فعال کیا گیا۔ باہر سے جو بہت سارا کام آؤٹ سورس کیا جاتا ہے۔ اس میں پروگرامنگ سوفٹ ویئر، لیگل سروسزاور میڈیکل سروسز جو باہر مختلف جگہوں سے آرہی ہیں۔ وہ سارے کا سارا کام انڈیا کو جارہا ہے۔ انڈیا کی اس وقت آئی ٹی کی جو ایکسپورٹ ہے، وہ اس کی مین ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے ایسا کیا کہ آئی ٹی میں جو بڑے بڑے نام ہیں جیسے:مائیکروسوفٹ، گوگل، یاہو وغیرہ ان کے ساتھ اسٹریجیٹک پارٹنر شپ کی ہے۔ ان کو کہا ہے کہ آپ ہمارے پاس آئیں۔وہ اس میں بہت محنت کر رہے ہیں۔ آج وہ آئی ٹی میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اگر ہم لوگ آئی ٹی میں آگے بڑھنا چاہیں تو ہمارے پاس لوگوں کی کمی ہے نہ ٹیلنٹ کی۔ بس صرف توجہ کی کمی ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
کیا اس کی بڑی وجہ بزنس ایجوکیشن کی کمی نہیں ہے؟ کیونکہ ہمارے ہاں بزنس کے لیے تعلیم کو ضروری خیال نہیں کیا جاتا۔
ہارون اگر
یہ ہماری بہت بڑی کمزوری ہے۔ کوئی بھی بزنس شروع کرنے سے پہلے ہم منصوبہ بندی نہیں کرتے، اور نہ ہی اس کے لیے تعلیم کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ اسی لیے میں اکثر نئے تاجروں کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ کاروبار، تجارت اور بزنس کے شعبے میں آنے سے پہلے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ اس شعبے (بزنس) کی لازمی ضرورت ہے۔ یہی مسئلہ ہمارے اوور سیز پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہے۔ وہاں جو ہمارے پاکستانی ہیںوہ ٹیکنیکل میں نہیں آتے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ نہیں ہے۔ اگر یہ چیزیں ہوں گی تو ہماری میک پاور بھی زیادہ سے زیادہ ہوگی۔نائیجیریا میں 24بلین ڈالر تو صرف ان کے اوورسیزمین پاور کے لوگ بھیجتے ہیں۔انہوں نے مہارتیں بہتر بنانے کے ادارے قائم کررکھے ہیں۔ انڈیا میںانسٹیٹیوٹ بہت زیادہ ہیں۔ انڈیا چونکہ ہمارے قریب ہے۔ اس لیے ہم اس سے موازنہ کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کو دیکھ لیں۔ پہلے ہماری ایکسپورٹ مضبوط تھی۔ لیکن اب ان کی ایکسپورٹ بہت بڑھ گئی ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
آئی بی اے دنیا بھرمیں بزنس کا پہلا ادارہ ہے۔ اتنے عرصے سے یہ کام کررہا ہے۔ اس کے باوجود انڈسٹری میں کوئی بوم نہیں آیا۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟
ہارون اگر
آئی بی اے ایک لوکل انسٹیٹیوٹ ہے۔ ایسے اداروں کی اسکیل ڈیویلپمنٹ کے لیے گورنمنٹ اقدامات نہیںکرتی، کیونکہ زیادہ تر یہ فری انسٹیٹیوٹ ہوتے ہیں۔ دنیا میں ہرجگہ ایسے ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں ایسے اداروں پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی۔ جتنے زیادہ انسٹیٹیوٹ ہوں گے۔ اتنی زیادہ ہمیں فارن ایکسچینج لانے میں مدد ملے گی۔
شریعہ اینڈ بزنس
پاکستان کے بزنس مین کی کون کون سی ایسی خامیاں ہیں، جن کو ہمارے بزنس مین دور کرکے ان ہی وسائل میں رہتے ہوئے ترقی کرسکتے ہیں؟
ہارون اگر
ہماری جو ویلیو ایڈڈ چیزیں ہیں ان کو برآمد کر کے زرمبادلہ حاصل ہوگا، مثلاً: ہم کاٹن، روئی وغیرہ برآمد کرتے ہیں۔ اگر اس کے بجائے ہم انہی چیزوں کو ویلیو ایڈڈ کر کے ایکسپورٹ کریں تو اس سے روزگار بڑھے گا۔ مقامی افراد کو روزگار بھی ملے گا اور برآمدات میں بھی تیزی آئے گی۔ لوکل انڈسٹری کو بھی کافی سپورٹ ملے گی، جیسے: بنگلہ دیش ہے، وہ ہم سے ہی کاٹن امپورٹ کرتا ہے، لیکن اس کی ایکسپورٹ ہم سے زیادہ ہے۔ اس لیے کہ وہ ہمار ے خام مال سے پھر دیگر مصنوعات تیار کرتا ہے، پھر ان ویلیو ایڈڈ اشیاء کو بیرون ملک فروخت کر دیتا ہے۔ ویلیو ایڈڈ چیزوں کی طرف ہمارا رجحان بہت کم ہے۔ اس رجحان کے کم ہونے کی وجہ قانون کی بالادستی کا فقدان نہ ہونابھی ہے۔ ملکی صورت حال اتنی خراب ہے کہ تاجر بڑے آرڈر لے ہی نہیں رہے، اس لیے کہ انہیں معلوم ہے کہ حالات خراب ہوئے تو وہ آرڈر مکمل نہیں کرسکیں گے، کیونکہ گزشتہ سال ہڑتالوں اور ہنگاموں کی وجہ سے 365 دنوں میںسے 100 دن انڈسٹری بند رہی۔ جب فیکٹری بند رہے گی تو ایکسپورٹر کو تجارتی طور پر نقصان ہوگا۔
شریعہ اینڈ بزنس
ترکی میں ''جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی'' ابھی برسر اقتدار آئی ہے۔ اس کے پیچھے جو بزنس کمیونٹی تھی وہ اسے لائی ہے۔ اس کی وجہ سے ترکی میں بڑاامن ہو گیا ہے۔ وہاںکی انڈسٹری دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے، پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہورہا؟
ہارون اگر
ہمارے ہاں( بزنس کمیونٹی میں) جو لیڈر ہیں، ان کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ ملک کے لیے کام کیا جائے۔ ہمارے ہاں بیورو کریسی سسٹم بہت خراب ہے۔ جن کا انڈسٹری کے ساتھ کوئی لنک نہیں ہوتا، اسے انڈسٹری میںلگادیاجاتا ہے۔ پوری دنیا میں جو منسٹر ہوتے ہیں، وہ تاجروں سے براہ راست تعلق استوار کرتے ہیں۔ یہاں جو منسٹرز بنتے ہیں، اگر وہ بزنس کمیونٹی سے ہوں یا ان کو تھوڑا بہت بزنس کا پتا ہو، تھوڑی سی واقفیت ہو تو جو بیورو کریسی ہمارے راستے میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں، وہ نہیں ڈالے گی ،کیونکہ جو منسٹر وہاں بیٹھا ہوگا وہ کسی کو من مانیاں نہیں کرنے دے گا۔ اس سے خود بخود انڈسٹری پروان چڑھے گی۔
شریعہ اینڈ بزنس:
کاروباری اخلاقیات(Business Ethecs) پاکستان میں مردہ ہوچکی ہیں۔ پاکستانی تاجر ایک مرتبہ جو چیزایکسپورٹ کرتا ہے، امپورٹر ایک بارامپورٹ کرنے کے بعد دوسری دفعہ توبہ کرلیتا ہے۔ آخر اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟
ہارون اگر:
پاکستان میں اخلاقیات خراب نہیں ہیں۔ یہ تو صرف ہمارے ہاںا سے ایشو بنایا جارہا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،حالانکہ چائنہ میں بھی اس حوالے سے حالات اچھے نہیں ہیں۔ یہی صورتحال ترکی اور یورپ میں ہے۔ ظاہری بات ہے ماحول کو خراب کرنے والے دو چار لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان کے بزنس ایتھکس بہت اچھے ہیں۔
پاکستان کی 68فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہوتی ہے۔ وہ کبھی بھی بیک آؤٹ نہیں ہوئی۔ بہت کم ایسا سنا گیا ہے یہاں سے غلط مال بھیجا گیا ہو۔ البتہ باہر سے غلط مال آنے کا بہت سنتے ہیں۔ یہ سب حقیقی شکایات ہوتی ہیں۔