٭۔۔۔۔۔۔ بزنس کمیونٹی یہ سمجھتی ہے امن وامان قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل نہیں ہے 

٭۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہو چکے ہیں، یہ ذخائر اسی وقت بڑھیں گے جب حکومت صنعت و تجارت کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دے گی۔
٭۔۔۔۔۔۔ جو ٹیکس نہیں دے رہے انہیں کوئی نہیں پوچھتا اور جو دے رہے ہیں سارا بوجھ انہیں پہ ڈالا جارہا ہے

 ٭۔۔۔۔۔۔ بڑا مسئلہ بجلی کا ہے، فیصل آباد جو ٹیکسٹائل کا بہت بڑا '' حب '' ہے، وہاں تو بجلی ہے ہی نہیں
٭۔۔۔۔۔۔٭
شریعہ اینڈ بزنس
کراچی چیمبر کو کیا مشکلات درپیش ہیں؟
ہارون اگر
کراچی چیمبر کی طرف سے صنعت وتجارت کو پروموٹ کرنے کے لیے جو مشکلات آرہی ہیں ان تمام کا حل گورنمنٹ کے پاس ہے، مشکلات تو پیش آتی ہیں، جس طرح ابھی امن و امان کا مسئلہ چل رہا ہے۔ اس میں 18 ویں، 19 ویں اور 20 ویں ترامیم کے بعد امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری صرف وفاق کی نہیں رہی، بلکہ صو بوں کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔ اسی طریقے سے ہیلتھ، ایجوکیشن ، لاء اینڈ آرڈر اور ٹیکسوں پر ٹیکس پر جمع کرنا خاص طور پر سروسز (خدمات) کے ٹیکس جمع کرنا بھی صوبوں کے انڈر آگیاہے۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ امن وامان کا ہی ہے۔ اس کے لیے کراچی چیمبر نے تقریباً آئی جی سے لے کر صدر پاکستان اور وزیر اعظم سب سے رابطہ کیا ہے اور اپنی آواز پہنچائی ہے، لیکن صرف وعدے کیے جاتے ہیں جو پورے نہیں ہوتے۔
شریعہ اینڈ بزنس
پولیس او رسیکورٹی فورسز کے ادارے کام تو کررہے ہیں، پھر بھی حالات اتنے خراب کیوں ہیں ؟


مغربی میڈیا جو پاکستان کی تصویرکشی کررہاہے، جیسے CNBC اور BBC وغیرہ وہ انتہائی بھیانک ہے، وہ ہر وقت ہی دکھاتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں بم پھٹ رہے ہیں۔ ہمارا اپنا میڈیا بھی اس کے اندر وہی رول پلے کررہا ہے، مثلاً: پاکستان کے کونے کھانچے میں کوئی ایک واقعہ پیش آجاتا ہے، کوئی چھوٹا سا بم بلاسٹ ہوجاتا ہے، اسے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے پاکستان میں جنگ ہورہی ہو

ہارون اگر
دیکھیں! کنٹرول تب ہو گاجب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا صحیح کردار ادا کریں گے۔ جرائم پیشہ افراد کو جاکر پکڑیں گے۔ ہم یہ نہیںکہتے کہ حکومت کرنا نہیں چاہتی، لیکن بزنس کمیونٹی یہ سمجھتی ہے کہ امن وامان قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے اس کی ترجیحات کچھ اور ہوں؟
شریعہ اینڈبزنس
پاکستان کی ایکسپورٹس کیسے بڑھ سکتی ہیں،موجودہ صورتحال کیا ہے؟
ہارون اگر
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہو چکے ہیں، یہ ذخائر اسی وقت بڑھیں گے جب آپ صنعت و تجارت کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں گے ۔ صدر صاحب کہہ رہے تھے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کچھ ایسے آرڈرز جاری کردیے ہیں، جن کی وجہ سے ٹریڈرز اور صنعت کے اوپر کچھ اضافی بوجھ لادیا گیا ہے۔ اصل میں بیورو کریسی ہی حکومت کررہی ہے، نگران سیٹ اپ میںنئے قوانین نہیں بنائے جاسکتے یا ا س وقت نیا مسئلہ اگر آجائے تو ان کے پاس نظام کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامی اختیارات تو ہیں، مگریہ فیصلہ سازی نہیں کرسکتے۔ اب جاتے جاتے حکومت نے نئے قوانین پاس کیے، رولز میں تبدیلیاں کر دیں۔ جو لوگ پہلے سے ٹیکس ادا کررہے ہیں ان پر مزید ٹیکس لگاد یے۔ بزنس کمیونٹی کہتی ہے جہاں آمدنی ہورہی ہو وہاں پہ ٹیکس ہونا چاہیے۔ میری آمدنی اگر ہے اور میں ٹیکس نہیں دے رہا تو یہ حکومت کی کمزوری ہے جو مجھ سے ٹیکس وصول نہیں کر رہی۔
شریعہ اینڈ بزنس
آپ نے ٹیکس نیٹ ورک کی بات کی ۔ ہم ویسے سنتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام باہر کی دنیا کے مقابلے میں تو بہت محدود ہے اور آپ جو کہہ رہے ہیں کہ یہاں ٹیکس بہت ظالمانہ ہیں ،کیا یہ حقیقت کے خلاف نہیں؟
ہارون اگر
دیکھیں! ٹیکس ظالمانہ نہیں ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جو ٹیکس نہیں دے رہے انہیں کوئی نہیں پوچھتا اور جو دے رہے ہیں سارا بوجھ انہیں پہ ڈالا جارہا ہے۔ اس کو آپ اس طرح سمجھیں، مثلاً: میری آمدنی 10 لاکھ روپے ہے۔ ساڑھے 3 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی چھوٹ ہے، آپ سے ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ اب گورنمنٹ نے مختلف ٹیکس لگائے ہیں جو میں نے ادا کرنے ہیں۔ میں یہ ادا نہیں کرتا۔ آپ کی آمدنی 4 لاکھ روپے ہے۔ آپ نے 50 ہزار ٹیکس دینا ہے ۔کیونکہ آمدنی ساڑھے 3 لاکھ سے اوپر ہے۔ ٹیکس والے آگئے ،وہ ٹیکس بھی لے لیا پھر کہتے ہیں اوربھی دو۔ یہ انصاف نہیں ہے۔
اسی طرح روڈ پر چلنے والا ہر آدمی وہ بھی ٹیکس دے رہا ہے۔ ''اِن ڈائریکٹ'' ٹیکس اس سے وصول کیا جارہا ہے۔ آپ کوئی بھی چیز خریدتے ہیں، مثلاً: آپ نے مارکیٹ میں جا کر موبائل خرید ا۔ آپ نے اس پر 16 فیصد جی ایس ٹی ادا کردیا ۔تو یہ ان ڈائریکٹ ٹیکس آپ دے رہے ہیں۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی شرح زیادہ ہے بہ نسبت ڈائریکٹ ٹیکس کے۔ حالانکہ ڈائریکٹ ٹیکس کی شرح زیادہ ہونی چاہیے۔ کراچی چیمبر آف کامرس کا موقف ہے: ''جہاں آمدنی ہو وہاں ٹیکسز لگائے جائیں۔'' وہ کوئی وڈیرا ہو، چاہے عام روڈ پر پان کھوکھے والا اگر زیادہ پیسے کمارہا ہے تو ایمانداری سے اپنا ٹیکس ادا کرے۔ متوازی معیشت (Parallel Economy) جسے بلیک اکانومی کہا جاتا ہے، جس میں چٹوں کے اوپر کاروبار ہوتاہے ۔ اس پر ٹیکس عائد کرنا چاہیے۔ کراچی چیمبر کاممبر بننے کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ آپ ٹیکس این ٹی این پر ہوں۔ آپ نے آخری ٹیکس فائل کیا ہوا۔ متوازی معیشت (Parallel Economy) کے لوگ جب تک قومی ادارے میں نہیں آئےں گے، ٹیکس نہیں بڑھے گا۔
اسی طریقے سے ہمارا ملک ایگریکلچرل ملک ہے۔ اس ایگریکلچر کے اوپر جس کی جتنی آمدنی بنتی ہے اس کے مطابق وہ ٹیکس ادا کرے۔ چاہے وہ چھوٹا کسان ہی کیوں نہ ہو۔ نیز بڑے بڑے وکلاء اور ڈاکٹرز جو سروسز دے رہے ہیں ان پر ٹیکس نہیں ہے۔ ان کو بھی ٹیکس دینا چاہیے۔ اس لیے کہ جہاں آمدنی ہو وہاں ایمانداری سے جائز ٹیکس لیا جائے۔ اس کے لیے سہولت دینا ہوگی۔ زمین سستے دام پر فراہم کریں، چار پانچ سال کے لیے آپ ٹیکس کی چھوٹ دے دیں ۔ تاکہ وہ اپنی مشینری لگائے، چلائے کم از کم جب آدھی انویسٹمنٹ تک کا ریٹرن مل جائے اور کمانا شروع کردے، اس وقت آپ ٹیکس لگادیں۔ اس کے ساتھ آپ کو چاہیے کہ تاجر برداری کو مراعات بھی دیں۔ بجلی، گیس، پانی اور ٹریولنگ وغیرہ جیسے مسائل حل کریں، ان کی وجہ سے عام آدمی کے ساتھ بزنس کمیونٹی کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ غیر ملکی Bayersحالات کی وجہ سے پاکستان نہیں آرہے۔ ان کے پاسپورٹ بھی (Renewal) تجدید کے لیے پڑے ہوئے ہیں۔ دو تین مہینے ہوگئے ابھی تک نہیں ملے۔ بزنس کمیونٹی کے لوگ جو حج و عمرے کے لیے جانا چاہ رہے ہیں، ان کے پاسپورٹ تجدید کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ اس کا حل نکالنا ہوگا۔
شریعہ اینڈبزنس
پاکستان میں نئی صنعتیں کیوں نہیں لگ رہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
ہارون اگر
سرمایہ کاری کے لیے سب سے اہم چیز امن و امان ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ آپ مراعات کیا دے رہے ہیں؟ مثال کے طور پر شہر کے اندر انڈسٹری لگانے کی جگہ نہیں ہے۔ گورنمنٹ آپ کو آفر کرتی کہ شہر سے باہر بن قاسم یا سُپر ہائی وے پر انڈسٹریز لگالیں۔ تو کیا وہاں انفراسٹرکچر ہے؟ اس وقت سائٹ جو پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم انڈسٹریل زون ہے، جس میں تقریباً 40 ہزار انڈسٹری کام کررہی ہے۔ ابھی بھی آپ وہاں چلے جائیںآپ کو بجلی کے مسائل نظر آئیں گے۔ پانی کی کمی ہوگی۔ تکنیکی مسائل(Technical Problems) ہوں گے۔ یعنی آج بھی وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ واٹر بورڈ ٹیکس لے رہا ہے، لیکن ان کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دے رہا۔ انڈسٹری چاہتی ہے اس کو گیس ملے۔ صنعتیں چلیں گی۔ ایکسپورٹ بڑھے گی۔ زرمبادلہ پاکستان آئے گا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے، لیکن گیس نہیں مل پاتی۔ درمیان میں گیس کی بندش آجاتی ہے۔ بجلی کا تو ویسے ہی بحران چل رہا ہے۔
کاروبار کو چلانے کی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے، مثال کے طور پر لوڈشیڈنگ اگر ہوجاتی ہے تو آپ متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرتے ہیں، جس سے آپ کا ایڈیشنل خرچہ ہوجاتا ہے۔ اس سے آپ کا پرافٹ مارجن کم ہوجاتا ہے۔
تاجر حضرات جو کاروباری مراکز میں بیٹھے ہوئے ہیں جو امپورٹ کرتے ہیں یا ہمارے 500 کے قریب کمرشل سینٹرز ہیں جن کو آپ بڑی مارکیٹیں کہہ لیں۔ چھوٹے تاجران بھی کراچی چیمبر کے ممبر ہیں۔ ان کے جو مسائل آتے ہیں، ان کے لیے بھی کراچی چیمبر آواز اٹھاتا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ بجلی کا ہے۔ کراچی میں تو پھر بھی صورتحال نسبتاً بہتر ہے اگر آپ پنجاب میں چلے جائیں۔ خاص طور پر فیصل آباد جو ٹیکسٹائل کا بہت بڑا '' حب '' ہے، وہاں تو بجلی ہے ہی نہیں۔ بے چارے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے بجلی پر چلنے والے بوائلروں کو کوئلے اور اسٹیم پر تبدیل کرکے اپنی فیکٹریاں چلارہے ہیں اور اپنی انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کررہے ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس
مغربی میڈیا کا پاکستان کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟
ہارون اگر
مغربی میڈیا جو پاکستان کی تصویرکشی کررہاہے، جیسے CNBC اور BBC وغیرہ وہ انتہائی بھیانک ہے، وہ ہر وقت ہی دکھاتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں بم پھٹ رہے ہیں۔ ہمارا اپنا میڈیا بھی اس کے اندر وہی رول پلے کررہا ہے، مثلاً: پاکستان کے کونے کھانچے میں کوئی ایک واقعہ پیش آجاتا ہے، کوئی چھوٹا سا بم بلاسٹ ہوجاتا ہے، اسے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے پاکستان میں جنگ ہورہی ہو۔
پاکستان کے اچھے پہلوؤں کو بیان کرنا چاہیے، مثال کے طور پر پاکستان میں 350 کے قریب ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو کئی دہائیوں سے کچھ 50ء اور 60ء سے کام کررہی ہیں۔ پرافٹ پہ پرافٹ کمائے جارہی ہیں۔ ایک بھی غیر ملکی کمپنی پاکستان سے بند ہوکر نہیں گئی۔ نئی سرمایہ کاری آنے میں بہت سے مسائل ہیں، جیسے نیسلے پاکستان سوئس کمپنی ہے۔ اس وقت ا س کا کاروبار اتنا وسیع ہے کہ وہ اسے بڑھا ئے جارہی ہے۔ اسی طرح اینگرو والوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دنیا کا سب سے بڑا فرٹیلائزر پلانٹ پاکستان میں لگایا ہے۔ ہمارے لوگ انہیں گیس ہی نہیں دیتے۔ غرض! اس طرح کی رکاوٹیں ہیں۔