''سونا'' سبھی چاہتے ہیں۔ دو طرح کے لوگ اور دو قسم کا سونا۔ کاہل لمبی تان کے ''سونا'' چاہتا ہے، جبکہ محنت کا خوگر کاروبار کی معراج پر پہنچ کر سونا جمع کرنے کا ارمان اٹھار کھتا ہے۔ ہم دوسر ی قسم کی ایک شخصیت کے سامنے بیٹھے تھے۔ جن کے خوابوں کی تعبیر حقیقت کاروپ دھار چکی تھی۔ عزم، جفاکشی، جہد مسلسل کی ایک مربوط داستان، جناب الحاج ہارون رشید چاند۔ گفتگو کا آغاز

تعارف سے ہوتا ہے۔
''ہارون رشید چاند میرا نام ہے۔ سن 80ء سے کراچی صرافہ جیولرز گروپ کا صدر ہوں۔ 82ء سے آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کا صدر ہوں۔ آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کا ممبر بھی ہوں۔ امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹیکسوں کے حوالے سے حکومت سے رابطہ اور صورت حال سے آگاہ کرنا بھی میرے فرائض میں شامل ہے۔ پرنٹ میڈیا کو خبریں فراہم کرتا اور الیکٹرانک میڈیا کو انٹرویو دیتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ جیولر برادری کے چھوٹے، بڑے سبھی مسائل کا حل بھی پیش کرتا ہوں۔
جہاں تک سونے کے بزنس کی بات ہے تومیرے والد ''افضل'' انڈیا میں اسی کاروبار سے وابستہ تھے، جبکہ میرے دادا جڑی بوٹی کا کاروبار کرتے تھے۔ بمبئی میں ہماری دکانیں تھیں۔ 46ء کے بعد پاکستان آگئے۔ یہاں آکر میں ان کے ساتھ کام کرتا رہا۔ وہ کہا کرتے تھے: ''ہم نے کشتی ریت میں چلا کر تمہیں پانی میں ڈال کر دی ہے۔'' سو، ہماری یہ کامیابیاں دراصل ہمارے والدین کی محنتوں کا ثمرہ ہیں۔''
تاجرہلکان، زندگی اجیرن، مستقبل تاریک
بزنس کمیونٹی بھی ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کی طرح حکومت سے نالاں ہے۔ صرف ناراض ہی نہیں، سخت اذیت میں مبتلا ہے، یہی کہانی جیولرز براداری سناتی نظر آئی۔ پوچھا: ''آپ بزنس معاملات حکومت سے ڈیل کرتے ہیں، کیا حکومت تاجر برادری سے تعاون کرتی ہے اور کس حدتک؟'' الحاج صاحب کا جواب تھا: ''گزشتہ 5 سال کے حوالے سے تو یوں کہیے کہ حکومتی رٹ نام کی کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔ ہڑتال پر ہڑتال ہوتی رہتی ہے، کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ اسٹرائیک کو ایک طرف رکھیے، دن میں کتنی معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں، حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کے علاوہ اغوا، بھتہ، لینڈ مافیا کی منہ زوریاں الگ ہیں۔ یوں لوگوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ ان وجوہ سے بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور اسٹریٹ کرائم بے قابو نظر آئے ہیں۔ اگر حکومت پاکستان صرف ''انرجی'' کا مسئلہ حل کردے تو اس سے بڑی حد تک ''پرچیزنگ'' پاور نکل آئے گی۔ انڈسٹری کو فروغ ملے گا، بے روزگاری کا حل سامنے آئے گا۔ ان حالات میں انڈسٹری مسلسل بند ہورہی ہے، لوگ ہجرت کر کے جارہے ہیں۔ انویسٹر یہ نہیں سوچتا کہ ذرا صبر کرلوں اور میرے چندپیسے کافائدہ اپنے وطن کوہوجائے۔ ہم توہجرت کرکے اس وطن میں آئے تھے، اب ہمارا جینا مرنا بس اسی دھرتی پر ہو گا۔''
سب سے سستا سوناکہاں ہے؟


اگر حکومت پاکستان صرف ''انرجی'' کا مسئلہ حل کردے تو اس سے بڑی حد تک ''پرچیزنگ'' پاور نکل آئے گی۔ انڈسٹری کو فروغ ملے گا، بے روزگاری کا حل سامنے آئے گا۔ ان حالات میں انڈسٹری مسلسل بند ہورہی ہے، لوگ ہجرت کر کے جارہے ہیں۔ انویسٹر یہ نہیں سوچتا کہ ذرا صبر کرلوں اور میرے چندپیسے کافائدہ اپنے وطن کوہوجائے۔ ہم توہجرت کرکے اس وطن میں آئے تھے، اب ہمارا جینا مرنا بس اسی دھرتی پر ہو گا۔''

''حالات دگر گوں ہیں، حکومتی رٹ عنقا ہے، اس کے نتیجے میں '' سونے کی تجارت'' پر کیا اثرات ہوئے؟'' ہمارے اس سوال کے جواب میں چاند صاحب کا کہنا تھا: ''بڑی بات تو یہ ہے کہ 2005ء میں زلزلہ آیا۔ اس کے بعد دو دفعہ سیلاب آیا جو تقریباً پورا ملک بہا کرلے گیا۔ لوگوں کے پاس جو کچھ سوناتھا، بچوں کے شادی بیاہ کے لیے، لوگ اسے بیچنے پر مجبور ہوئے۔ حکومت کی طرف سے امداد کے جو اعلانات ہوتے رہے، انہیں کچھ مل نہ پایا تو انہوں نے اپنا سونا جیسے تیسے بیچ ڈالا۔ تین سال سے ملک میں سونا انڈر کاسٹ ہے۔ یعنی لوگ پہلے دبئی اور سعودی عرب وغیرہ جاکر سونا خرید لاتے تھے۔ اب یہاں سے اُدھر جانے لگا، کیونکہ یہاں پر چیزنگ پاور ہی نہیں۔ سب سے سستا سونا اس وقت ایشیا میں ہے۔''پاکستان میں اسٹریٹ کرائم اس قدر بڑھ گئے کہ لوگوں نے زیور پہننا چھوڑ دیا۔ لوگوں نے آرٹیفیشل زیور پہننا شروع کیا تو ڈاکو وہ بھی لوٹ کر لے جاتے ہیں۔
دنیا گولڈ میں سرمایہ کاری کے لیے سرگرم
پاکستان سورہا ہے یاجھگڑ رہا ہے یا جوڑ توڑ میں ہمہ تن مصروف ہے تو باقی دنیا ایسی نہیں۔ پوری طرح بیدار اور معاشی مقاصدکے لیے سرگرم ۔ جب لوگوں نے سونا بیچنا شروع کیا تو حکومتیں حرکت میں آئیں اور دھڑا دھڑ لگیں سونا خریدنے۔ اس تناظر میں صدرآل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کیا سمجھتے ہیں؟ پوچھا گیا تو جواب ملا: ''میں نے آج سے تقریباً 8سال پہلے میڈیا پر کہا تھا کہ حکومت کے پاس جتنا ''ریزرو'' ہے، وہ اسے ''گولڈ'' میں Convert کرلے۔ آگے چل کے بڑے نفع کی توقع ہے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد چائنا، انڈیا اور سری لنکا نے ایسا ہی کیا۔جس کا انہیں بہت فائدہ ہوا۔ ڈالر دنیا بھر میں غیر مستحکم ہورہاہے، پاکستان میں مستحکم ہورہا ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں مسلسل نوٹ چھاپے جارہے ہیں، اسی طرح سنٹرل بینک نے بھی امریکا کو اجازت دی ہے، وہ Over Limitڈالر چھاپ رہا ہے۔ معلوم ہوا اس کی معیشت بھی ختم ہے۔ نائن الیون سے پہلے تیل بیچنے والے ممالک ڈالر پر انحصار کرتے تھے، اب وہ گولڈ پہ آگئے ہیں۔ پہلے انٹرنیشنلی سٹہ ہوتا تھا، اب تمام بڑے ممالک گولڈ میں انویسٹ کر رہے ہیں۔
انڈیا سے پچاس سال پیچھے
جب حالات، حکومتی دلچسپی، انویسٹرز کا رویہ اور عوامی رجحان کا حال وہ ہوجو اوپر ذکر ہوا تو قوم سونے کے ذخائرسے محروم تو ہوگی ہی، یہ بات الحاج ہارون صاحب کے سامنے دہرائی گئی کہ پاکستان کے پاس صرف 65 ٹن ہیں، جبکہ چین اور بھارت میں یہ ہزاروں ٹن کے حساب سے ہے تو اس عظیم فرق کے پیش نظر جیولربرداری کیا سمجھتی ہے؟ انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا:''پچھلے ہی سال میں انڈیا میں ایک نمائش کے اندر گیا۔ اندازہ ہواکہ ہم انڈیا سے ابھی 50سال پیچھے ہیں۔ یہاں حکومتی رٹ نہ ہونے، امن وامان کی تباہ صورت حال اور ریزرو گولڈ پر توجہ نہ دینے کے باعث ہم مسلسل تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔'' سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤکی وجہ؟
دارالاسباب میں ہرچیز کسی نہ کسی سبب سے جڑی ہے۔ افراد کی کامیابی اور قوموں کی ترقی بھی کچھ اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اسی طرح ناکامیوں کے پیچھے بھی کچھ اہم اسباب ہی کار فرما ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا کوئی سبب تو ہو گا؟یہی سوچ کر ''بابائے گولڈ'' سے سوال کیا: ''پاکستان میں سونے کے نرخ کچھ عرصہ قبل 63 ہزار روپے فی تولہ تک جا پہنچے تھے، جبکہ حالیہ دنوں میں 10 ہزار تک بریک ڈاؤن دیکھنے میں آیا، سونے کی مارکیٹ کے اس اتار چڑھاؤ کا سب کیا ہے؟'' جواب تھا: ''اصل میں یورپ میںیونان اور قبرص دو ممالک ڈیفالٹ ہوئے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے ان کی ہیلپ نہ کی۔ انہوں نے اپنا 18 کیرٹ کا گولڈ مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کیا۔ اس سیل کی وجہ سے سٹہ باز جنہوں نے وعدے کے سودے کیے تھے ان کی Limit ہٹ گئی۔ جن کے پاس ڈیفنس کے پیسے تھے۔ انہوں نے تو سودے کھرے رکھے۔ جن کے پاس رقم موجود نہ تھی، انہوں نے سودے ختم کردیے۔ ان کو یہ لگا کہ سونا کچھ عرصے میں 12 سو ڈالر فی اونس ہوجائے گا۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے مزید بد عنوانی سے کام لیا ۔
یہ مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ یہودی لابی جو امریکا کو چلاتی ہے، وہ گولڈ اور تیل دونوں کوہاتھ میںرکھے ہوئے ہیں۔ خود امریکا کے صدور تک انہی دو چیزوں کے کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہی یہودی لابی گولڈ کو اوپر لے جاتی اورنیچے بھی لے آتی ہے۔ 95 فیصد یہ نفع کماتے ہیں۔ یوں پورے یورپ اور امریکا پران کی اجارہ داری ہے۔ اس سے پہلے گولڈ میںاتنی ٹریڈ نہیں ہوتی تھی۔ اب چائنا، انڈیا اور سری لنکا نےبہت بڑی مقدار میںخریداری کی ہے۔اب جو سونے میں بریک ڈاؤن ہوا تو جس کے پاس سونا پہلے سے تھا وہ خاموش ہو کے بیٹھ گیا کہ اب مجھے سونا نہیںبیچنا، یہ خراب ہونے سے تو رہا، مستقبل میں قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے، لہٰذا انتظار کرلیتے ہیں۔ اسی دوران سونا آہستہ آہستہ اوپر ہوا، پھر تھوڑی بریک ڈاؤن آئی۔ اب میرا تجزیہ یہ ہے کہ مزید بریک ڈاؤن ہوگا۔ ابھی یہ لوگوں کو اوپر لارہے ہیں، پھر اچانک نیچے گرائیں گے۔ اس کے بعد جواس کی قیمتیں بڑھیں گی، اس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ وجہ یہ ہے کہ گولڈ انٹرنیشنل کرنسی ہے۔ دنیا بھر کی کرنسی ناکارہ ہو سکتی ہے، مگر سونا دیہات سے لے کر کسی بھی ترقی یافتہ ملک تک یکساں کارآمد ہے۔''
سونے کی قیمتیں کیسے متعین ہوتی ہیں؟
سمجھ میں آیا کہ سونے کی قیمتوں پر عالمی طاقتیں پوری طرح پراثر انداز ہیں۔ تب پھر سونے کی قیمتیں عالمی سطح پرکیسے متعین ہوتی ہیں۔ اور کون کرتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں الحاج صاحب کاکہنا تھا: ''صبح کے وقت ہانگ کانگ کھلتا ہے، دوپہر کولندن او ر شام کے وقت امریکا کھلتاہے، 24 گھنٹے میں صرف دو گھنٹے مارکیٹ بند ہوتی ہے، ورنہ ہر وقت کھلی ہوتی ہے۔ یوں ہانگ کانگ اپنی مرضی کی قیمت لگاتا ہے، لندن اپنے حساب سے ریٹ طے کرتا ہے،جبکہ امریکا چاہے تو قیمت چڑھا دے اور چاہے تو اتار دے۔ اس سے ہمارے ملک پر اثر یہ پڑتاہے کہ ہماری کرنس مسلسل ڈی ویلیو ہورہی ہے۔ ڈالر مسلسل مستحکم ہوتے ہوئے اب 100روپے کا ہوگیا ہے۔ یوں کہیے کہ ایشیا میں سب سے گرا ہوا روپیہ ہمارا ہی ہے۔ ماضی میں یہی روپیہ ایشیا میں بہت مضبوط سمجھا جاتا تھا۔ اس کاسب سے زیادہ نقصان چھوٹے تاجر کو ہورہا ہے۔ حکومت پاکستان کو 68 پرسنٹ ریونیو دینے والاشہر کراچی اب 44 فیصد تک نیچے آگیا ہے۔ حکومت کوچاہیے روپے کو مضبوط کرنے پر توجہ دے۔ شہر کراچی اگر ڈوب گیا تو پورا پاکستان ڈوب جائے گا۔ اس سب کے باوجود یہ اﷲ تعالیٰ ہی کا خصوصی کرم ہے کہ یہ شہر انڈیا سے سستا ہے۔ کتنے ہی لوگوں نے اسے نوچا، مگر یہ ابھی تک قائم ہے۔''
سونے کی قیمتوں پر متوقع عالمی جنگوں کے اثرات جنگیں اگر شاہوں کا بزنس کہلاتی ہیں تو دوسری طرف ملکوں کی تجارت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ ہم نے پوچھا: ''کیا یہ درست ہے گولڈ کی قیمتوں کے گرنے میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی متوقع جنگ بھی سبب کے طور پرموجود ہے، امریکا اس جنگ کی تیاری کے لیے سونا ذخیرہ کر رہا ہے، سونے کی قیمتوں پر اس قسم کی جنگوں کا کیا اثر ہے اور مذکورہ بالا پیشن گوئیوں کی کیا حقیقت ہے؟'' صدر صرافہ مارکیٹ کہنے لگے: ''جنگوں کا اثر دیگر بہت سی چیزوں کی طرح سونے پر بھی پڑتا ہے، مثلاً: ایران پر اگر حملہ ہوتا ہے تو گولڈ کرائس وجود میں آسکتا ہے۔''
''سونا'' سبھی چاہتے ہیں۔ دو طرح کے لوگ اور دو قسم کا سونا۔ کاہل لمبی تان کے ''سونا'' چاہتا ہے، جبکہ محنت کا خوگر کاروبار کی معراج پر پہنچ کر سونا جمع کرنے کا ارمان اٹھار کھتا ہے۔ ہم دوسر ی قسم کی ایک شخصیت کے سامنے بیٹھے تھے۔ جن کے خوابوں کی تعبیر حقیقت کاروپ دھار چکی تھی۔ عزم، جفاکشی، جہد مسلسل کی ایک مربوط داستان، جناب الحاج ہارون رشید چاند۔ گفتگو کا آغاز تعارف سے ہوتا ہے۔
''ہارون رشید چاند میرا نام ہے۔ سن 80ء سے کراچی صرافہ جیولرز گروپ کا صدر ہوں۔ 82ء سے آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کا صدر ہوں۔ آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کا ممبر بھی ہوں۔ امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹیکسوں کے حوالے سے حکومت سے رابطہ اور صورت حال سے آگاہ کرنا بھی میرے فرائض میں شامل ہے۔ پرنٹ میڈیا کو خبریں فراہم کرتا اور الیکٹرانک میڈیا کو انٹرویو دیتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ جیولر برادری کے چھوٹے، بڑے سبھی مسائل کا حل بھی پیش کرتا ہوں۔
جہاں تک سونے کے بزنس کی بات ہے تومیرے والد ''افضل'' انڈیا میں اسی کاروبار سے وابستہ تھے، جبکہ میرے دادا جڑی بوٹی کا کاروبار کرتے تھے۔ بمبئی میں ہماری دکانیں تھیں۔ 46ء کے بعد پاکستان آگئے۔ یہاں آکر میں ان کے ساتھ کام کرتا رہا۔ وہ کہا کرتے تھے: ''ہم نے کشتی ریت میں چلا کر تمہیں پانی میں ڈال کر دی ہے۔'' سو، ہماری یہ کامیابیاں دراصل ہمارے والدین کی محنتوں کا ثمرہ ہیں۔''
تاجرہلکان، زندگی اجیرن، مستقبل تاریک
بزنس کمیونٹی بھی ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کی طرح حکومت سے نالاں ہے۔ صرف ناراض ہی نہیں، سخت اذیت میں مبتلا ہے، یہی کہانی جیولرز براداری سناتی نظر آئی۔ پوچھا: ''آپ بزنس معاملات حکومت سے ڈیل کرتے ہیں، کیا حکومت تاجر برادری سے تعاون کرتی ہے اور کس حدتک؟'' الحاج صاحب کا جواب تھا: ''گزشتہ 5 سال کے حوالے سے تو یوںکہیے کہ حکومتی رٹ نام کی کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔ ہڑتال پر ہڑتال ہوتی رہتی ہے، کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ اسٹرائیک کو ایک طرف رکھیے، دن میں کتنی معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں، حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کے علاوہ اغوا، بھتہ، لینڈ مافیا کی منہ زوریاں الگ ہیں۔ یوں لوگوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ ان وجوہ سے بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور اسٹریٹ کرائم بے قابو نظر آئے ہیں۔ اگر حکومت پاکستان صرف ''انرجی'' کا مسئلہ حل کردے تو اس سے بڑی حد تک ''پرچیزنگ'' پاور نکل آئے گی۔ انڈسٹری کو فروغ ملے گا، بے روزگاری کا حل سامنے آئے گا۔ ان حالات میں انڈسٹری مسلسل بند ہورہی ہے، لوگ ہجرت کر کے جارہے ہیں۔ انویسٹر یہ نہیں سوچتا کہ ذرا صبر کرلوں اور میرے چندپیسے کافائدہ اپنے وطن کوہوجائے۔ ہم توہجرت کرکے اس وطن میں آئے تھے، اب ہمارا جینا مرنا بس اسی دھرتی پر ہو گا۔''
سب سے سستا سوناکہاں ہے؟
''حالات دگر گوں ہیں، حکومتی رٹ عنقا ہے، اس کے نتیجے میں '' سونے کی تجارت'' پر کیا اثرات ہوئے؟'' ہمارے اس سوال کے جواب میں چاند صاحب کا کہنا تھا: ''بڑی بات تو یہ ہے کہ 2005ء میں زلزلہ آیا۔ اس کے بعد دو دفعہ سیلاب آیا جو تقریباً پورا ملک بہا کرلے گیا۔ لوگوں کے پاس جو کچھ سوناتھا، بچوں کے شادی بیاہ کے لیے، لوگ اسے بیچنے پر مجبور ہوئے۔ حکومت کی طرف سے امداد کے جو اعلانات ہوتے رہے، انہیں کچھ مل نہ پایا تو انہوں نے اپنا سونا جیسے تیسے بیچ ڈالا۔ تین سال سے ملک میں سونا انڈر کاسٹ ہے۔ یعنی لوگ پہلے دبئی اور سعودی عرب وغیرہ جاکر سونا خرید لاتے تھے۔ اب یہاں سے اُدھر جانے لگا، کیونکہ یہاں پر چیزنگ پاور ہی نہیں۔ سب سے سستا سونا اس وقت ایشیا میں ہے۔''پاکستان میں اسٹریٹ کرائم اس قدر بڑھ گئے کہ لوگوں نے زیور پہننا چھوڑ دیا۔ لوگوں نے آرٹیفیشل زیور پہننا شروع کیا تو ڈاکو وہ بھی لوٹ کر لے جاتے ہیں۔
دنیا گولڈ میں سرمایہ کاریکے لیے سرگرم
پاکستان سورہا ہے یاجھگڑ رہا ہے یا جوڑ توڑ میں ہمہ تن مصروف ہے تو باقی دنیا ایسی نہیں۔ پوری طرح بیدار اور معاشی مقاصدکے لیے سرگرم ۔ جب لوگوں نے سونا بیچنا شروع کیا تو حکومتیں حرکت میں آئیں اور دھڑا دھڑ لگیں سونا خریدنے۔ اس تناظر میں صدرآل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کیا سمجھتے ہیں؟ پوچھا گیا تو جواب ملا: ''میں نے آج سے تقریباً 8سال پہلے میڈیا پر کہا تھا کہ حکومت کے پاس جتنا ''ریزرو'' ہے، وہ اسے ''گولڈ'' میں Convert کرلے۔ آگے چل کے بڑے نفع کی توقع ہے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد چائنا، انڈیا اور سری لنکا نے ایسا ہی کیا۔جس کا انہیں بہت فائدہ ہوا۔ ڈالر دنیا بھر میں غیر مستحکم ہورہاہے، پاکستان میں مستحکم ہورہا ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں مسلسل نوٹ چھاپے جارہے ہیں، اسی طرح سنٹرل بینک نے بھی امریکا کو اجازت دی ہے، وہ Over Limitڈالر چھاپ رہا ہے۔ معلوم ہوا اس کی معیشت بھی ختم ہے۔ نائن الیون سے پہلے تیل بیچنے والے ممالک ڈالر پر انحصار کرتے تھے، اب وہ گولڈ پہ آگئے ہیں۔ پہلے انٹرنیشنلی سٹہ ہوتا تھا، اب تمام بڑے ممالک گولڈ میں انویسٹ کر رہے ہیں۔
انڈیا سے پچاس سال پیچھے
جب حالات، حکومتی دلچسپی، انویسٹرز کا رویہ اور عوامی رجحان کا حال وہ ہوجو اوپر ذکر ہوا تو قوم سونے کے ذخائرسے محروم تو ہوگی ہی، یہ بات الحاج ہارون صاحب کے سامنے دہرائی گئی کہ پاکستان کے پاس صرف 65 ٹن ہیں، جبکہ چین اور بھارت میں یہ ہزاروں ٹن کے حساب سے ہے تو اس عظیم فرق کے پیش نظر جیولربرداری کیا سمجھتی ہے؟ انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا:''پچھلے ہی سال میں انڈیا میں ایک نمائش کے اندر گیا۔ اندازہ ہواکہ ہم انڈیا سے ابھی 50سال پیچھے ہیں۔ یہاں حکومتی رٹ نہ ہونے، امن وامان کی تباہ صورت حال اور ریزرو گولڈ پر توجہ نہ دینے کے باعث ہم مسلسل تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔'' سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤکی وجہ؟
دارالاسباب میں ہرچیز کسی نہ کسی سبب سے جڑی ہے۔ افراد کی کامیابی اور قوموں کی ترقی بھی کچھ اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اسی طرح ناکامیوں کے پیچھے بھی کچھ اہم اسباب ہی کار فرما ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا کوئی سبب تو ہو گا؟یہی سوچ کر ''بابائے گولڈ'' سے سوال کیا: ''پاکستان میں سونے کے نرخ کچھ عرصہ قبل 63 ہزار روپے فی تولہ تک جا پہنچے تھے، جبکہ حالیہ دنوں میں 10 ہزار تک بریک ڈاؤن دیکھنے میں آیا، سونے کی مارکیٹ کے اس اتار چڑھاؤ کا سب کیا ہے؟'' جواب تھا: ''اصل میں یورپ میںیونان اور قبرص دو ممالک ڈیفالٹ ہوئے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے ان کی ہیلپ نہ کی۔ انہوں نے اپنا 18 کیرٹ کا گولڈ مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کیا۔ اس سیل کی وجہ سے سٹہ باز جنہوں نے وعدے کے سودے کیے تھے ان کی Limit ہٹ گئی۔ جن کے پاس ڈیفنس کے پیسے تھے۔ انہوں نے تو سودے کھرے رکھے۔ جن کے پاس رقم موجود نہ تھی، انہوں نے سودے ختم کردیے۔ ان کو یہ لگا کہ سونا کچھ عرصے میں 12 سو ڈالر فی اونس ہوجائے گا۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے مزید بد عنوانی سے کام لیا ۔
یہ مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ یہودی لابی جو امریکا کو چلاتی ہے، وہ گولڈ اور تیل دونوں کوہاتھ میںرکھے ہوئے ہیں۔ خود امریکا کے صدور تک انہی دو چیزوں کے کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہی یہودی لابی گولڈ کو اوپر لے جاتی اورنیچے بھی لے آتی ہے۔ 95 فیصد یہ نفع کماتے ہیں۔ یوں پورے یورپ اور امریکا پران کی اجارہ داری ہے۔ اس سے پہلے گولڈ میںاتنی ٹریڈ نہیں ہوتی تھی۔ اب چائنا، انڈیا اور سری لنکا نےبہت بڑی مقدار میںخریداری کی ہے۔اب جو سونے میں بریک ڈاؤن ہوا تو جس کے پاس سونا پہلے سے تھا وہ خاموش ہو کے بیٹھ گیا کہ اب مجھے سونا نہیںبیچنا، یہ خراب ہونے سے تو رہا، مستقبل میں قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے، لہٰذا انتظار کرلیتے ہیں۔ اسی دوران سونا آہستہ آہستہ اوپر ہوا، پھر تھوڑی بریک ڈاؤن آئی۔ اب میرا تجزیہ یہ ہے کہ مزید بریک ڈاؤن ہوگا۔ ابھی یہ لوگوں کو اوپر لارہے ہیں، پھر اچانک نیچے گرائیں گے۔ اس کے بعد جواس کی قیمتیں بڑھیں گی، اس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ وجہ یہ ہے کہ گولڈ انٹرنیشنل کرنسی ہے۔ دنیا بھر کی کرنسی ناکارہ ہو سکتی ہے، مگر سونا دیہات سے لے کر کسی بھی ترقی یافتہ ملک تک یکساں کارآمد ہے۔'' سونے کی قیمتیں کیسے متعین ہوتی ہیں؟
سمجھ میں آیا کہ سونے کی قیمتوں پر عالمی طاقتیں پوری طرح پراثر انداز ہیں۔ تب پھر سونے کی قیمتیں عالمی سطح پرکیسے متعین ہوتی ہیں۔ اور کون کرتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں الحاج صاحب کاکہنا تھا: ''صبح کے وقت ہانگ کانگ کھلتا ہے، دوپہر کولندن او ر شام کے وقت امریکا کھلتاہے، 24 گھنٹے میں صرف دو گھنٹے مارکیٹ بند ہوتی ہے، ورنہ ہر وقت کھلی ہوتی ہے۔ یوں ہانگ کانگ اپنی مرضی کی قیمت لگاتا ہے، لندن اپنے حساب سے ریٹ طے کرتا ہے،جبکہ امریکا چاہے تو قیمت چڑھا دے اور چاہے تو اتار دے۔ اس سے ہمارے ملک پر اثر یہ پڑتاہے کہ ہماری کرنس مسلسل ڈی ویلیو ہورہی ہے۔ ڈالر مسلسل مستحکم ہوتے ہوئے اب 100روپے کا ہوگیا ہے۔ یوں کہیے کہ ایشیا میں سب سے گرا ہوا روپیہ ہمارا ہی ہے۔ ماضی میں یہی روپیہ ایشیا میں بہت مضبوط سمجھا جاتا تھا۔ اس کاسب سے زیادہ نقصان چھوٹے تاجر کو ہورہا ہے۔ حکومت پاکستان کو 68 پرسنٹ ریونیو دینے والاشہر کراچی اب 44 فیصد تک نیچے آگیا ہے۔ حکومت کوچاہیے روپے کو مضبوط کرنے پر توجہ دے۔ شہر کراچی اگر ڈوب گیا تو پورا پاکستان ڈوب جائے گا۔ اس سب کے باوجود یہ اﷲ تعالیٰ ہی کا خصوصی کرم ہے کہ یہ شہر انڈیا سے سستا ہے۔ کتنے ہی لوگوں نے اسے نوچا، مگر یہ ابھی تک قائم ہے۔''
سونے کی قیمتوں پر متوقع عالمی جنگوں کے اثرات جنگیں اگر شاہوں کا بزنس کہلاتی ہیں تو دوسری طرف ملکوں کی تجارت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ ہم نے پوچھا: ''کیا یہ درست ہے گولڈ کی قیمتوں کے گرنے میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی متوقع جنگ بھی سبب کے طور پرموجود ہے، امریکا اس جنگ کی تیاری کے لیے سونا ذخیرہ کر رہا ہے، سونے کی قیمتوں پر اس قسم کی جنگوں کا کیا اثر ہے اور مذکورہ بالا پیشن گوئیوں کی کیا حقیقت ہے؟'' صدر صرافہ مارکیٹ کہنے لگے: ''جنگوں کا اثر دیگر بہت سی چیزوں کی طرح سونے پر بھی پڑتا ہے، مثلاً: ایران پر اگر حملہ ہوتا ہے تو گولڈ کرائس وجود میں آسکتا ہے۔''