شریعہ اینڈ بزنس:
سب سے پہلے آپ کا تفصیلی تعارف، خاندانی پس منظر اور تجارت میں آنے اور ترقی پانے کی روداد سننا چاہیں گے۔
شمیم احمد فرپو:
میں ایک تاجر پیشہ خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ الحمد للہ! میرے والد صاحب ایک اچھے بزنس مین تھے۔ ان کا ’’گلاس ویئر‘‘ کا کاروبار تھا۔

میں ابھی چھوٹا تھا جب بد قسمتی سے میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ ہماری والدہ سمجھ دار خاتون تھیں۔ انہوں نے ہماری اچھی تربیت کی تھی۔ والد صاحب کے رحلت فرما جانے پر والدہ کے کاندھوں پر جو ماں کے ساتھ ساتھ ایک باپ کی ذمہ داری آن پڑی تھی، انہوں نے اسے احسن طریقے سے نبھایا۔ بہر حال! میں ان کی دعاؤں، تمناؤں اورمسلسل رہنمائی کے سہارے میں پروان چڑھا۔ بڑے ہو کر میں نے اپنا کاروبار شروع کیا۔ طارق روڈ پر ایک ریسٹورنٹ ’’فرپو ریسٹورنٹ‘‘ کے نام سے کھولا۔ یہ میرا پہلا بزنس تھا۔ یہی ’’فرپو‘‘ میری شناخت بن گیا۔
میراپورا نام شمیم احمد عارف اور میرے والد کا نام محمد عارف تھا۔ ہماری برادری میں شمیم نام کے افراد بہت زیادہ تھے، اس لیے میری شہرت ’’فرپو‘‘ سے ہوئی۔ پبلک فورم پر سب سے پہلے میری انٹری ’’پنجابی سوداگران‘‘ کے توسط سے ہوئی۔ جو ہماری برادری کا سب سے بڑا اور فعال ادارہ ہے۔تب میں حج پر گیا ہوا تھا، جب مجھے اس ادارے کا رکن بنایا گیا۔ اس وقت کمیٹی میں سات شمیم تھے۔ ہر ایک کے نام ’’شمیم‘‘ کے ساتھ کچھ نہ کچھ شناخت کے لیے لگا ہوا تھا، میرے نام کے ساتھ فرپو لگ گیا۔ فرپو نہ صرف میری پہچان ہے بلکہ اب یہ میرا ’’برانڈ‘‘ بھی ہے۔ ’’فرپو گروپ آف کمپنیز‘‘ کے نام سے میرا کاروبار ہے۔
اس میں کئی کمپنیاں ہیں، جن میں مین لائن’’ آٹو پارٹس‘‘ کی ہے۔ سارے آئٹمز آٹو پارٹس سے متعلق ہیں۔ چیمبر سے منسلک ہونے سے پہلے بھی میرے پا س کئی اور پورٹ فولیوز تھیں۔ اس وقت بھی کہیں میں چیئرمین ہوں تو کہیں پریذیڈنٹ، اسی طرح مجھے مختلف عہدے ملے ہوئے ہیں۔ چیمبر کے BMGرولنگ گروپ نے ممکن ہے مجھ میں کوئی خوبی دیکھ کر اعتماد کیا اور سینئر وائس پریذیڈنٹ کی ذمہ داری عطا کی۔ گزشتہ 6 سالوں سے مسلسل چیمبر میں اسی عہدے پر Electہوتا رہا ہوں۔ اب میری یہ ذمہ داری تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اکتوبر میں نئے لوگ آ کر اس کی باگ ڈور سنبھال لیں گے۔
اپنے دور میں ہماری یہ کوشش رہی ہے جو بندہ بھی اس چیمبر سے تعلق رکھتا ہے، وہ کراچی کا ہو یا باہر کا، مشکل میں اس کے کام آ سکیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکا، اس کی مدد ۔ دامے، درمے اور سخنے جیسے بھی ممکن ہوا، اس کے ساتھ تعاون کیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے ہماری ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے اور آیندہ کے لیے میری رہنمائی فرمائے۔ شریعہ اینڈ بزنس:
آپ اپنے تجارت کے طویل تجربے کی روشنی میں بتائیے کہ ایک تاجر کن اصولوں پر عمل کر کے کامیاب ہو سکتا ہے؟ شمیم احمد فرپو:


٭…آپ کا یہ حق ہے خود کو ہوشیار سمجھیں، مگر یہ ہرگز ٹھیک نہیں کہ آپ سامنے والے کو بے وقوف سمجھیں ٭… آپ روپیہ وہیں تلاش کریں، جہاں گرا ہے،اس کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش میں آپ تہہ تک جائیں گے ٭…وہ کروڑوں جو مجھ سے اوپر ہیں، ان کو دیکھنے کے بجائے ان اربوں پر نظر رکھتا ہوں جو مجھ سے نیچے ہیں

اس بارے میں تین باتیں ذہن میں رکھنی چاہییں: (1) کسی کے نقصان میں اپنا فائدہ مت تلاش کریں، بلکہ اپنے فائدے میں دوسروں کو شامل کریں۔ یہ سو باتوں کی ایک بات ہے۔(2) آپ کا یہ حق ہے کہ آپ خود کو ہوشیار سمجھیں۔ ہوشیار ہونا بری چیز نہیں۔ مگر یہ ہرگز ٹھیک نہیں آپ سامنے والے کو بے وقوف سمجھیں۔ جس دن آپ نے یہ تصور کر لیا کہ سامنے والا بھی عقلمند ہے، یقیناً آپ اس سے سوچ سمجھ کر بات کریں گے۔ خوب غور و فکر کے ساتھ لین دین کریں گے۔ جو معاملہ ، معاہدہ طے کریں گے، اسے آپ پورا کریں گے۔ خواہ آپ کو نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، اپنی کمٹمنٹ کو پورا کریںگے۔ ہر تاجر اس بات کو اپنے پلے باندھ لے، اس کے ان شاء اللہ دیرپا فوائد ہوں گے۔(3)انسان زندگی میں بہت سے کام کرتا ہے۔ وہ اپنی ذہنی میلان کی کھوج لگائے۔ پھر وہ کام منتخب کرے، جس میں پیسے بھلے کم ہوں، مگر عزت زیادہ ہو۔ ایسا کرنے سے ہو سکتا ہے آپ کچھ رقم کھو دیں۔ مگر اس سے بد دل نہ ہوں۔ آپ روپیہ وہیں تلاش کریں، جہاں گرا ہے۔ اگر آپ لڑھکیں گے تو لڑھکتے ہی چلے جائیں گے۔ فلاں کو دیکھا تو اس طرف مائل ہو گئے، دوسروں کی ترقی دیکھ کر فیصلہ تبدیل کر لیا، یہیں سے آپ لڑھکنا شروع ہوتے ہیں۔اس طرح آپ کی کوئی بنیاد نہ بن سکے گی۔ جس چیز میں آپ نے روپیہ کھویا، اسی میں تلاش کریں کہ آخر روپیہ گیا کیوں؟ اس کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش میں آپ تہہ تک جائیں گے۔ مثال کے طور پر آپ نے سمندر میں روپیہ پھینکا تو وہ سمندر کی تہہ میں ہی گرا ہوگا۔ اس طرح آپ تلاش بھی تہہ میں جا کر ہی کریں گے،اگر اوپر ہی اوپر ہاتھ مارتے رہے تو وہ روپیہ کبھی نہیں ملے گا۔
شریعہ اینڈ بزنس:
آپ کے بزنس میں کیا اور کیسے کیسے نشیب و فراز آئے؟
شمیم احمد فرپو:
میں نے کئی ایک بزنس کیے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان سب میں کوئی بھی میرا آبائی بزنس نہیں تھا۔ میرا آبائی بزنس ’’گلاس ویئر‘‘ کا کام تھا۔ میرے والد کی دو شادیاں تھیں۔ آبائی کاروبار والد کی پہلی اولاد کے پاس چلا گیا۔ ہم اس وقت تک ابھی ’’طفل مکتب‘‘ تھے۔ بڑے ہوئے تو گویا ہم نے ’’خود کھودا اور خود پیا۔‘‘ میری والدہ نے مجھے ایک ہی نصیحت کی تھی کہ ’’ بیٹا! پیسہ تو بہت اچھا لگتا ہے اور یہ ہے بھی ہر ایک کے پاس۔ پیسہ طوائف کے پاس بھی ہے اور ایک بزنس مین کے پاس بھی۔ مگر ان دونوں پیسوںمیں بڑا فرق ہے۔ ایک کے پیسے میں عزت ہے، اور دوسرے کے پیسے میں عزت نہیں ہے۔ پھر غلط کام میں شاید زیادہ پیسے ہوں، مگر وہاں عزت کا کوئی گزر نہیں۔ بس! آپ یہ کرنا کہ کم پیسے اور عزت زیادہ تلاش کرنا۔ وہ کام کرنا جس میں عزت زیادہ ہو۔‘‘
میں نے اپنی والدہ کی اس نصیحت پر الحمد للہ! ہمیشہ عمل کیا۔ اللہ نے میرے کام میں بڑی برکت دی۔ ایک کام سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا شروع کرتا چلا گیا۔
میں کوشش کرتا ہوں، اپنے سے اوپر نہ دیکھوں، اپنے سے نیچے والے پر نظر رکھوں۔ وہ کروڑوں لوگ جو مجھ سے اوپر ہیں، ان کو دیکھنے کے بجائے وہ اربوں لوگ جو مجھ سے نیچے ہیں، انہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ اللہ نے مجھے اتنے لوگوں سے بہتر بنایا ہے۔ ان کے لیے بھی دعا گو ہوتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کی ضرورتوں کو اپنے فضل سے پورا فرمائے۔ کسی کی کامیابی پر خوش ہونا اور آگے بڑھ کر اس کا ہر ممکن تعاون کرنا، یہ چیز مجھے میرے بزرگوں نے سکھائی اور میں نے اس پر عمل کیا۔ جانے کون کس کے نصیب سے کھاتا ہے، میرے ساتھ کم از کم یہی معاملہ ہے کہ مجھے اللہ نے اسی تعاون کی برکت سے نواز رکھا ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس: .
آپ کاکاروبار امپورٹ سے متعلق ہے یا ایکسپورٹ سے؟
شمیم احمد فرپو:
دونوں ہی ہیں۔ مینوفیکچرنگ بھی ہے۔ اسمبلنگ بھی ہے۔ مزے کہ بات یہ ہے کہ یہ ساری ایک دوسرے سے بہت ہی مختلف فیلڈز ہیں۔ ایک طرف میرا پرفیوم کا کام ہے۔ دوسری جانب لیڈیز بوتیک ہے۔ تیسری طرف چشموں کا کام ہے۔ چوتھی جانب میرے فارم ہاؤسز ہیں، وغیرہ۔ ماشاء اللہ! میرے تین بیٹے ہیں جنہوں نے کام کو اچھی طرح سنبھالا ہوا ہے۔ بس اسی طرح گاڑی چل رہی ہے۔
’’شمیم احمد فرپو‘‘بزنس کی دنیا کا ایک معروف نام ہے۔ امپورٹ، ایکسپورٹ اور اشیا و خدمات ہر طرح کے بزنس سے مختلف انداز سے وابستہ ہیں۔ تاجر سیاست میں ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے سینئر وائس پریذیڈنٹ کے علاوہ14دیگر عہدوں پر فائز ہیں۔
٭… فرپو گروپ آف کمپنیز ان کی خصوصی پہچان ہے۔
٭…پاکستان یوکرائین ٹریڈ اینڈ کلچر انفارمیشن کے صدر بھی ہیں۔
٭…2007ء سے تا حال کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی منیجنگ کمیٹی سے وابستہ ہیں اور متعدد سب کمیٹیوں کی سربراہی بھی کرتے رہے ہیں۔
٭…2000ء سے تا حال دہلی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چیئرمین ہیں۔
٭…2005ء سے تا حال کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔
٭…2007ء سے یونین کوآپریٹیو کلب لمیٹینڈ کے خازن کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، لیکن گذشتہ 2 سال سے اسی کلب کے سینئر وائس پریذیڈنٹ کی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔
٭…سوسائٹی ریذیڈنٹ ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔
٭…آرٹس کونسل آف پاکستان کے بہت فعال لائف ممبر ہیں۔
تجارت میں آپ کے طویل تجربے کے پیش نظر تجارت اور تاجر کی اساسی بنیادوں کے نکتے پر آپ سے گفتگو ہوئی۔ آپ کی بیان کی ہوئی خاندانی اخلاقی، مجرب اصول اور تیربہدف ہدایات یقینا قارئین کے لیے بے شمار فوائد کا باعث اور مسائل کا حل ثابت ہوں گی۔جناب کا بقیہ تعارف گفتگو کے ذیل میں آ رہا ہے۔