شریعہ اینڈ بزنس
آپ کا مقالہ کس معاشی ضرورت کی تکمیل کے لیے لکھا گیا؟

مولانا شیخ نعمان
مقالے کا عنوان تھا:’’ وقف :پائیدارترقی کے لیے مجوزہ طریقہ ،عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کا تجزیاتی مطالعہ۔‘‘ معاشیات میں اس کا تعلق ترقیاتی معاشیات سے ہے جس کا موضوع ترقی پذیر اقوام کی ترقی سے بحث کرنا ہے۔ پس منظر اس مقالے کا یہ ہے کہ اقوام عالم میں سے ترقی یافتہ ممالک نے مختلف حالات سے گزر کر ترقی کا سفر طے کیا۔ جنگ عظیم اول و دوم کے بعد آزاد ہونے والے ممالک ترقی پذیر ہیں۔وہ کس طرح اپنی ترقی کے سفر کو جاری رکھیں؟

اس پر ماہرین معاشیات نے بہت سے نظریات دیے ہیں اور ان پر عمل کرکے کئی ممالک ترقی کے سفر کو طے کر چکے ہیں۔مزید آج کل ماہرین معاشیات ایک اور تصور استعمال کرتے ہیں۔پائیدار ترقی یعنی جس کی عمر زیادہ ہو ایسا نہ ہو کہ ابتدا میں تو ترقی نظر آئے، مگر بالآخر بحرانوں کا سبب بنے، بلکہ ان عناصر کو دیکھا جائے کہ یہ ترقی پائیدار ہو،اس پر بھی کافی نظریا ت آچکے ہیں۔
جب ہم اسلامی اقتصادیا ت کی با ت کر تے ہیں تو اس کی بنیادیں پہلی صدی ہجر ی میں ہیں،جب ایک نو خیز قوم نے حیرت انگیز ترقی کی۔اس وقت معاشرے میں کرادار ادا کرنے والے تین عناصر تھے: حکومت،عوام (Private Sector) اور اوقاف(Altrustic Sector)۔یہ تینوں مل کر ترقی کا سفر کررہے تھے۔ اس وقت دو سیکٹر تو ہیں لیکن تیسرا سیکٹر یعنی اوقاف معیشت سے باہر ہے، حالانکہ اس میں بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت پوٹینشل ہے۔ ماہرین معاشیات ترقی کو ناپنے کے لیے صحت، تعلیم اور پیداوار کو بنیادی عناصر قرار دیتے ہیں تو’’ وقف‘‘ کی بنیا د پر ہم تعلیمی ادارے بنا سکتے ہیں، اسپتال بنا سکتے ہیں۔ وقف کی بنیاد پر ہم انڈسٹری کو درکار ہنرمندی سکھانے والے ادارے بنا کر روزگار کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں جس سے بالآخر معیشت کو سہارا ملے گا۔ اسی طرح ہم وقف کی بنیا د پر تمویلی ادارے بنا سکتے ہیں جو کاروباری حضرات کو اسلامی تمویل فراہم کریں، اس سے بھی پیداوار پر مثبت اثر پڑے گا۔ نیز ہم وقف کی بنیا د پر غیر سودی قرض حسنہ کے ادارے بنا سکتے ہیں جو کاروبار شروع کرنے یا چلانے کے لیے غیر سودی قرضے دے سکیں۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کا مقصد نفع کمانا یا نفع کو زیادہ سے زیادہ کرنا نہیں، بلکہ یہ ادارے خالصتاً رضائے الہی کے لیے اور معاشرے کی خدمت کے لیے بنائے جائیں گے، دوسرا یہ کہ یہ ہمیشہ کے لیے ہیں، لہذا پائیدار بھی ہیں جس کے ثمرات دیر پا ہیں۔
خلاصہ یہ کہ میرا مقالہ معیشت میں دیر پا ترقی کے لیے وقف کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے لیے عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیاہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
آپ کا مقالہ تجارت و معیشت کے کن زندہ مسائل کا حل پیش کرتا ہے؟
مولانا شیخ نعمان
جہاں تک تعلق ہے تجارت اور معیشت کے زندہ مسائل کا تو اس میں ہمارے زندہ مسائل بے روزگاری، غربت،تمویلی مسائل،تعلیمی مسائل،کا حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسے ادارے بنائے جائیں جو مارکیٹ کی طلب کے مطابق ہنر فراہم کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔ مزید ایسے ہنر فراہم کریں جن سے وہ اپنا کام کرنا چاہیں تو کرسکیں، اس سے روزگار کی شرح میں اضافہ ہوگا۔غربت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں یا ہماری آمدنی نہیں ہے،بلکہ ان کی تقسیم غیر منصفانہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ بہت مالدار ہیں اور آبادی کا ایک بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔وقف کی بنیاد پر بنائے جانے والے ادارے نہ صرف تعلیم ،صحت اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے، بلکہ مالداروں سے دولت کے رخ کو غریبوں کی طرف بھی کریں گے جس سے غربت سے مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ کاروباری طبقے کی بہت سی تمویلی ضروریات، جو نفع کمانے کی بنیاد پر بنائے گئے تمویلی ادارے پوری نہیں کر پاتے، وہ وقف کی بنیاد پر بنائے جانے والے ادارے بطریق احسن پوری کرپائیں گے۔ جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔مزید ایک پہلو یہ کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور مارکیٹ میں تعلقات نہیں ہیں یا پھر کم از کم ایسے نہیں ہیں جو ہنر مندی مارکیٹ کو چاہیے اسی کے مطابق تعلیم فراہم کی جائے۔جو ادارے مقالے میں مجوز کیے گئے ہیں، ان کا مقصد ہی مارکیٹ کی طلب کے مطابق تعلیم فراہم کرنا ہے۔ اس سے تعلیمی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ایک پہلو یہ کہ غریب کے لیے بھی اعلی تعلیم کا حصو ل آسان ہو جائے گا۔ شریعہ اینڈ بزنس
ترکی پہنچنے پر آپ نے علم و فن کے کس پہلو کو تشنہ محسوس کیا اور اس کا حل کیا سمجھتے ہیں؟
مولانا شیخ نعمان
ماشااللہ! ترکی کی موجودہ حکومت کی پالیسیاں قابل رشک بھی ہیں اور قابل تقلید بھی۔ جیسا کہ ان کے ایک وزیر کی پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ ترکی کے آزاد ہونے سے لے کر 2002ء تک آنے والی حکومتوں کی اوسط عمر 17 ماہ تھی۔ جو ترقی نظر آرہی ہے، وہ اس 11 سال کی محنت اور پالیسیاں ہیں ۔تشنہ رہ جانے والا پہلو ایک مسلمان یا اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے وہاں کا ماحول ہے جس پر سیکولرازم کے اثرات نمایاں ہیں، اس پر محنت ضرورت ہے۔مزید اسلامی بینکاری اور مالیات کی تعلیم کے حوالے سے دی جانے والی معلومات کے مطابق انہوں نے تین سال پہلے ایک ادارہ بنایا ہے جہاں اسلامی بینکاری و مالیات کی تعلیم دی جائے گی اس میں کافی سفر باقی ہے۔لیکن یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وہ لوگ اس حوالے سے فکر مند ہیں۔ اس کانفرنس کا استنبول میں ہونا بھی اسی کی کڑی ہے۔ مزید ایک اور فورم انہوں نے اپنے مالیاتی نظام میں اصلاحات کرنے کے لیے تشکیل دیا ہے۔ شریعہ اینڈ بزنس اپنی اس منفرد کامیابی پر نوجوانوں کو کیا نصیحت کریں گے؟
مولانا شیخ نعمان
نصیحت کا بندہ اہل نہیں، صرف اپنے استاذ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کا وہ جملہ جو انہوں نے بندہ کی نصیحت کی فرمائش پر ڈائری میں تحریر فرمایا وہ آپ تک پہنچاؤں گا۔ فرمایا:’’وقت کی قدر کریں ۔‘‘بس نوجوانوں کو یہی پیغام ہے کہ لایعنی کاموں میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی اور پوری امت کے ایمان اور مستقبل کی فکر کریں۔ کل قیامت میں اللہ تعالی کی جانب سے باز پرس ہو سکتی ہے کہ امت زوال کا شکار تھی، تم نے جوانی کہا ں صرف کی ؟
شریعہ اینڈ بزنس
مقالے کی اس کامیاب پیشکش کا سہرا کس کے سر جاتا ہے؟
مولانا شیخ نعمان
مقالے کی کامیاب پیشکش کا سہرا سب سے پہلے میر ے استاذ ڈاکٹر محبوب الحسن صاحب کے سر ہے جن کی رہنمائی میں بندہ مقالہ لکھنے اور پیش کرنے کے قابل ہوا۔ مزید میرے والدین جن کی دعاؤں و تربیت کا نتیجہ ہے کہ آج اس قابل ہوسکا کہ عالمی کانفرنس میں مقالہ پیش کرسکا اور اس کے بعد میر ی مادر علمی ’’کراچی انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز‘‘ (KIMS)جہاں آج مجھے سات سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور عصری تعلیم کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا، بہت صلاحیتیں جو یہاں سے ملیں ،بہت سا جذبہ جو یہاں تک لے آیا۔باقی میر ے والدین، اساتذہ ومشائخ کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ اللہ تعالی کے بے پناہ فضل کی تجلیات بندے پر ہر دم ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس
جامعۃ الرشید میں ایم بی اے کرنے کا شوق کس طرح پیدا ہوا؟ مولانا شیخ نعمان
درس نظامی کی تکمیل تک بندہ گریجویشن تو کر چکا تھا۔آگے M.Sc(Eco)میں داخلہ بھی ہوچکا تھا،لیکن اساتذہ میں سے حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب دامت برکاتہم کا مشورہ تھا کہ کہیں سے ایم بی اے کرلو۔جب جامعۃالرشید کی جانب سے ایم بی اے پروگرام کا اعلان ہوا تو یہ میرے کے لیے نعمت غیر مترقبہ تھی ۔فوراً داخلہ لے لیا۔ کیوں کہ اگر یہاں کے علاوہ کہیں اور کرتا تو ماحول اچھا نہ ملتا ۔مزید جیسا کہ ازدواجی بندھن میں بھی بندھ چکا تھا اور یہاں وظیفہ دے کر تعلیم دی جارہی تھی، اس لیے بھی KIMSکا چناؤ کیا۔ شریعہ اینڈ بزنس
ایم بی اے برائے علما کے لیے قدم اٹھانے والے پہلے ادارے KIMSکے نصاب، نظام اور معیار تعلیم کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
مولانا شیخ نعمان
الحمد للہ! KIMSترقی کی منازل تیزی سے طے کررہا ہے ۔اس وقت 6 پروگرام کراچی یونیورسٹی کے الحاق کے ساتھ چلارہا ہے۔جہاں تک تعلق ہے نصاب کا وہ کراچی یونیورسٹی کا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ معیار ’’ہم مقابلہ کالجز‘‘ سے بہتر ہے ۔اور میرا مشورہ ہوگا کہ اگر آپ نے اپنے بچوں کو عصری تعلیم دلانی ہے تو KIMS ایک بہترین جگہ ہے۔ الحمدللہ! KIMSکے فضلا زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی بہت بہتر انداز میں پیش کر رہے ہیں اور اپنے رفقا میں ممتاز ہیں۔یہاں کے فضلا ملکی سطح کے اچھے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں موجود ہیں اور اعلی تعلیم کے لیے یہاں کے فضلا ملکی سطح کی اچھی یونیورسٹیز میں داخل ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس
کیا ایک عالم دین کے لیے پروفیشنل تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں اور کس حد تک؟ مولانا شیخ نعمان
بدلتی دنیا میں ایک عالم کے لیے پروفیشنل تعلیم کے حصول سے انکار مشکل ہے۔لیکن ہر ایک عالم کے لیے ضروری نہیں۔ہاں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری سمجھتا ہوں جو پروفیشنل تعلیم حاصل کرے اور مختلف اداروں میں جا کر نظام کو سمجھے اور اسے اسلام کے مطابق بدلنے کی کوشش کرے، تاکہ اصلاح کی طرف سفر تیز ہو۔باقی ایسے علما کی بھی جماعت ہو جو دینی علوم میں رسوخ رکھتے ہوں اور اسی میں اپنی زندگیاں صرف کردیں۔البتہ کچھ علم انگریزی زبان کا،کچھ علم موجودہ سیاسیات کا،معاشیات کا ،مالیاتی نظام کا،یہ میر ے خیال میں ہرعالم کے لیے ضروری ہے ۔
شریعہ اینڈ بزنس
شریعہ اینڈ بزنس کے لکھاری ہونے کے ناتے آپ کے میگزین کے حوالے سے کیا تاثرات ہیں؟ مولانا شیخ نعمان
ماشاء اللہ! بہت بہترین کاوش ہے، اللہ تعالی قبول فرمائے۔مزید خوشی اس بات کی ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ سیر ت و صورت دونوں کے معیا ر میں ترقی ہورہی ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس
کوئی اور مفید بات جو آپ قارئین تک پہنچانا ضروری سمجھتے ہوں؟
مولانا شیخ نعمان
آپ حضرات شریعہ اینڈ بزنس کو ایک میگزین کی حیثیت سے نہ دیکھیں۔ یہ اسلامی تعلیمات کی معاشرے، بالخصوص کاروباری دنیا میں اِحیا کی ایک تحریک ہے۔اس میں حصہ ڈالنا ہمارے لیے سعادت کا باعث ہوگا۔ہم خود بھی اس میں جس طرح ہو سکے اپنا حصہ ڈالیں۔ اللہ تعالی نے لکھنے کی صلاحیت دی ہے ،لکھیں،پڑھنے کی صلاحیت دی ہے پڑھیں۔دوسروںکو اس کے پڑھنے کی دعوت دیںاور اس کی ترقی کے لیے مزید اپنا تعاون کرسکتے ہیں ضرور کریں اور اگر کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم اس کے لیے دعا تو ضرور کریں۔ اللہ تعالی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس کو معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے احیاکا ذریعہ بنائے۔

آمین۔