شریعہ اینڈ بزنس:
اسلامی بینکنگ کا پاکستان میں 10 فیصدحصہ ہے۔ آپ کے خیال میں یہ قابل اطمینان ہیں؟ نیز جس طرح اس کی گروتھ (growth) ہو رہی ہیں، ہمیں قابل قدر مقدار تک پہنچنے میں کتنا عرصہ لگے گا؟
مولانا ارشاد احمد اعجاز:
اس بات کا جائزہ ہم ان نکات کے ذریعے لے سکتے ہیں: پہلی بات کہ ترقی و نمو (growth)کس حد تک قابل اطمینان ہیں۔ بحیثیت اضافے کے یہ کس حد تک اچھا اور کتنا تسلی بخش ہے؟

دوسری یہ کہ معیار کے اعتبار سے اور شریعہ وغیرہ کے لحاظ سے یہ کیسا ہے؟ تیسری یہ کہ انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے اعتبار سے جو چیزیں ہمیں میسر ہیں اور جو ہمارے پاس معاشی حل موجود ہے، اس تناظر میں کیسا ہے؟
اب اسلامی بینکاری کی ’’گروتھ‘‘ کی کئی جہتیں ہیں: ایک اس کا سائز ہے۔ اسلامی بینکنگ کا سائز کاروباری لحاظ سے بہت اہم ہے۔ جب تک آپ کا انڈسٹری میں سائز بڑا نہ ہو گا، کاروبار کے اندر آپ کا حصہ محسوس نہیں ہو گا۔ یہ آپ کی پالیسیوں کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ لہذا ایک تو چیز یہ ہوئی کہ آپ کا کاروبار جتنا بڑا ہو گا، اتنا ہی آپ کے لیے اچھا اور مفید ہو گا۔
اس کی 2 جہتیں اور ہیں: ایک جہت اس کی قانونی ہے۔ اگر آپ کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے تو آپ کا ’’پولیٹیکل ماس‘‘ نہیں ہے۔ آپ کی کوئی حیثیت ہے ہی نہیں۔ جبکہ آپ کے کاروباری سائز کے بڑا ہونے سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ آپ کی پالیسی، آپ کی کمیو نیکیشن ہر شعبے میں ہوتی ہے۔ آپ کو ایک قانون سازی اور awareness کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیںاٹھانی پڑتی۔ دوسری بات یہ کہ بہت سارے کام ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے عمومی طور پر آپ کو مخصوص سائز چاہیے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے آپ جتنابھی چاہیں ، عملی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
مثال کے طور پر اسلامی بینکنگ یا اسلامی انسٹی ٹیوشن جو آپس کی مارکیٹنگ، انٹر بینک کا بننا یا کوئی پرافٹ ریٹ کی مارکیٹ کا بننا وغیرہ اس قسم کی بہت سی چیزیں ہیں جن کا تعلق مارکیٹ اور سائزسے ہے ۔ یہ اسی وقت بنتے ہیں جب آپ کا قابل قدر اور نمایاں حصہ ہو۔ نظریاتی طور پر اس کی جو بھی وجوہ ہوں، لیکن جب عملی میدان میں قدم رکھتے ہیںتو یہ سبھی کچھ طے کرنا پڑے گا۔


اسلامی بینک اپنی شناخت، ساکھ اور وقار بچانے پر توجہ دیں

بہت ساری تبدیلیاں ایسی ہیں جو ہم شریعت کے طور پر مانتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بڑا بزنس اسلامی طریقے سے تمویل کرنا چاہتا ہے، سودی سے اسلامی کاروبارکی طرف آنا چاہے۔ اسلامی بینکنگ انڈسٹری اب اس قابل نہیں ہے کہ بعض بڑے بینکوں کی طرح پوری طرح سہولتیں دے سکی۔ دنیا بھر میں ایک تاجروں کا ایک ضابطہ ہے کہ آپ جب کاروبار کریں تو ایک چیز میں سرمایہ کاری کے بجائے مختلف جگہوں پر کریں تا کہ خدا نخواستہ کوئی نقصان یا ناگہانی آفت آجاتی ہے تو ہر جگہ نقصان نہ ہو۔
اب اگر ایک بڑا تاجراسلامی بینک کے پاس آکر کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوں میرا سارا کاروبار اسلامی رخ پر ہو جائے تو اسلامی بینکوں کے لیے یہ عملاً ممکن نہیں ہے، کیونکہ بینکوںکے پاس گنجائش(Capacity) نہیں ہے۔ اسلامی بینکوں کے سائز کے بڑا ہونے سے Capacityپیدا ہو جاتی ہے، آپ کو سہولیات ملتی ہیں۔ ایک تیسری چیز کہ سائز کے بڑا ہونے سے جو آپ کے خطرات ہوتے ہیں، ان کے برداشت کرنے اور جھیلنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر 10، 20 لاکھ کا نقصان ہو جائے تو آپ کہتے ہیں ’’جانے دو!‘‘ کاروبار میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اگر یہی مسئلہ چھوٹے تاجر کو پیش آجائے تو اس بے چارے کا کاروبار ہی ٹھپ ہو جائے گا۔
اسلامی بینکنگ میں جو بہت سارے تجربے مشارکہ اور مضاربت پر نہیں ہو پا رہے، اس کا ایک بڑا سبب ان کی Capacity کا نہ ہونا ہے۔ اگر 20لاکھ کا مضاربہ خدانخواستہ ڈوب گیا تو اسلامی بینک کے لیے بڑا Loss ہو گا، کیونکہ اگر بینک اپنے ڈپازیٹر کو کہہ دے کہ رقم ڈوب گئی ہے تو وہ ڈپازیٹر بھاگ جائے گا اور آئندہ ایک روپیہ بھی انویسٹ نہیں کرے گا۔ بلکہ دیگر تاجروں کو بتائے گا اور کوئی تاجر بھی اس بینک کا رخ نہیں کرے گا۔ سائز کا بڑا ہونا عملی اور قانونی طور پر، آگاہی اور چیزوں کی اصلاح کے حوالے سے بہت ضروری ہوتا ہے۔ جتنا سائز بڑا اور زیادہ پھیلاؤ ہوگا۔ اس کے نقصانات بھی ہوتے ہیںاور فوائد بھی۔ مستقبل کے بہت سارے ٹارگٹ، سائز کے بدولت ہوتے ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
آپ نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی بینکنگ 1995 ء سے اب تک 18 سال میں 10 فیصد تک پہنچی ہے اور وجہ یہ بتائی کہ تاجروں کو ہر طرح کا حل اسلامی بینک مکمل طور پر دے نہیں سکتے، لیکن مڈل اور لوئر کلاس طبقہ اسلامی بینک کی طرف کیوں نہیں آتا؟
مولانا ارشاد احمد اعجاز:
پچھلے 5،8 سال سے پاکستان کے حالات معاشی طور پر خراب ہیں۔اس سب کے باوجود اسلامی بینکوں کا سائز آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح اسلامی بینکوں کے پاس جو افراد کریڈٹ کارڈ، گاڑی ، گھر اور پرسنل قرضے کے لیے آتا ہے یا اس طرح کی چیزیں چاہتا ہے، ان میں سے بعض چیزیں اسلامی بینک دے نہیں پاتے۔ کریڈٹ کارڈ کا سلسلہ اسلامی بینک میں نہیں ہے۔ ذاتی قرضے یعنی جو شادی یا صحت کے مسائل کے لیے لیے جاتے ہیں،وغیرہ۔ اس کے لیے ابھی تک کوئی پروڈکٹ بن نہیں پا رہی۔ اس قسم کی متعدد چیزیں ہیں جن پر اسلامی بینک عمل نہیں کر پا رہا۔ ایک بات یہ بھی ہے اسلامی بینکوں میں risk دوسرے سودی بینکوں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ اسلامی بینک جب فنانس کرنے جا رہا ہوتا ہے تومحتاط انداز اپناتا ہے، جبکہ کنوینشل(سودی) بینک فنانسنگ کے معاملے میں خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔اگر ایک آدمی صحیح وقت پر payment نہ کر سکا تو کنوینشل بینک palenty لگا کر اسے coverکر لیتا ہے، لیکن اسلامی بینک اس طرح نہیں کر سکتا۔ ان مسائل کی وجہ سے اسلامی بینک اپنے آپ کو زیادہ کھل کے سامنے نہیں لا سکتے۔
ایک اور وجہ کہ ہمارا علمائے کرام کا طبقہ یا جو ہماری کلاس ہوتی ہے۔ ان کے کام میں رسک زیادہ ہوتا ہے۔ کوئی آ کر کہتا ہے کہ میں اسکول کھولنا چاہتا ہوںاور کوئی کہتا ہے کہ میں ٹریننگ انسٹی ٹیوشن کھولنا چاہتا ہوں۔ ان کاموں کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ ان میں پارٹنر شپ یا اس طرح کی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ پاکستان کے معاشی حالات، سیاسی حالات اور لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال کا سبھی کو بخوبی اندازہ ہے۔ یہاں اگر کوئی شخص بینکوں سے گاڑی لے گیا اور پھر لے کر بھاگ گیا تو بینکوں کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ گاڑی واپس لے سکیں۔ اس وجہ سے اسلامی بینک یہ سوچتے ہیں کہ پیسہ ایسی جگہ لگائیں جہاں لوگوں کا سرمایہ محفوظ رہے۔ میں ذاتی طور پر اس کا حامی اس وجہ سے بھی ہوں کہ ہمارے سامنے الائنس موٹر والا معاملہ ہے۔ حالیہ جو مضاربہ اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ خدانخواستہ اسلامی بینکوں نے بھی اس طرح کے loss دینا شروع کر دیے جو شرعاً تو صحیح ہوں گے لیکن شریعت کے تقاضے ایک طرف اور انسان کا کاروباری مزاج دوسری طرف۔ مثال سے یوں سمجھیے کہ ایک آدمی کا نقصان ہوا ۔ اس نے کہا: شرعاً صحیح ہے اور میرے ذمے پیسے نہیں توکاروباری دنیا توچل نہیں سکے گی۔
مضاربہ اسیکنڈل، الائنس موٹر اور تاج کمپنی اسیکنڈل نے اسلامی انویسٹمنٹ کے کام کو نقصان پہنچایا ہے۔ خدانخواستہ اگر اسی طرح نقصان شروع ہو گیا تو پاکستان میں اسلامی بینکوں اور اسلامی فنانس کا کوئی مستقبل نہ ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی بینکوں کو سب زیادہ اہمیت اس بات پر دینی چاہیے کہ اپنی شناخت اور وقار کو باقی رکھیں۔ پاکستان میں مضاربہ سیکٹر آیا تھا۔ اچھا کام کر رہے تھے۔ اب بھی کر رہے ہیں، لیکن دوسرے لوگوں نے مضاربہ کے نام سے عوام کے ساتھ ہیر پھیر کی۔ میں اس مضاربہ کی بات نہیں کر رہا، جس کا اسیکنڈل سامنے آیا ہے۔ میں اس مضاربہ کی بات کر رہا ہوں جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور قانونی ہے۔ ان کے اندر بھی Performance کے مسائل تھے۔ خود SECP (سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان) نے ان کی نگرانی کی، سختی بھی کی۔ لوگوں کا پیسہ تھا، استعمال کرتے ہوئے احتیاط سے کام نہیں لیا، جبکہ اس کی سخت ضرورت تھی۔ جب loss ہو گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم کیا کریں؟ نقصان ہو گیا ہے۔
اس سے لوگوں کے ذہن میں 20 سالوں سے یہ بات develop ہوئی ہے کہ اسلامی طریقے سے جو پیسہ لگے گاوہ ضرور ڈوبے گا۔ یہ تصور خراب develop ہوا ہے، حالانکہ ایسا ضروری تو نہیں ہے۔ جو مضاربہ کے اسکینڈل سامنے آئے، ا لائنس موٹر، غیر قانونی کاروبار یا قانونی کاروبار لے لیں۔ بعض جو سود ے انفرادی طور پر ہوئے ہیں، مثلاً: دہلی برادری وغیرہ، ان سب کو اٹھا کر دیکھیں۔ آپ کو ان سب میں ایک چیز مشترک نظر آئے گی کہ ہمارے پاس گورننس کنٹرول سسٹم اچھا نہیں ہے۔ جب لوگوں کا خراب تجربہ اور مشاہدہ ہوتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں اسلامی بینکوں کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے، اب پھر لوگوں کے ذہن میں سوال جنم لینے لگے ہیں کہ مضاربہ اسکینڈل کی طرح یہ اسلامی بینکوں والے تو نہیں ڈوب جائیں گے؟؟؟
اسلامی بینک صحیح ہیں یا غلط۔ صحیح یا غلط کہنا تب ہوگا جب بینک موجود ہوں۔ ایک آدمی کے لیے مسلمان یا کافر ہونے کاحکم اس کے زندہ ہونے کے صورت میں ہے۔ اگر بینک سسٹم ہی یہاں سے ختم ہو جائے۔ میں اور آپ بیٹھ کر کوئی بھی گفتگو شروع کر دیں کہ اس کو حلال سمجھیں یا حرام۔ اس سے حاصل کچھ نہ ہو گا۔میں سمجھتا ہوں ایک ادارے کا عملی میدان میں اترنا، بذات خود ایک بہت بڑا کام ہوتا ہے۔ بڑے بڑے اسلامی ممالک کے پاس ادارے ہیں تو افراد نہیں، لیکن الحمد للہ ہمارے پاس ادارے ہیں اور افراد بھی۔ ذاتی طور پرمیں ان اداروں کی حمایت کرتا ہوں۔ اس سے قطع نظر کہ آپ کو ان کے نظریات سے اختلاف ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں ’’خطا‘‘ ہے۔ بنیادی طور پر اگر یہ درست ہیںتو اس کی حمایت کر کے انہیں آگے بڑھانا چاہیے۔ خاص طور پر اس کی جو موجودہ صورت حال ہے کہ یہ فلاں فلاں کام کرتا ہے اور فلاں کام نہیں کرتا۔ میں کہتا ہوں کہ اس وقت زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اپنی شناخت اور اپنا وقار بچائیں۔ اگر یہ بچ گیا تو آنے والے 20 سالوں میں وہ کام کرلیں گے جو اب تک نہیں ہوئے۔
شریعہ اینڈ بزنس:
عام خیال ہے اسلامی بینکوں کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی کیونکہ ان کا طریق کار عام طور پر کنوینشنل بینکوں کی طرح ہے۔ اسی طرح نفع کا تناسب(profit ratio) بھی ایک جیسا ہے۔ ہوناتویہ چاہیے تھا کہ اگر انہوں نے مضاربہ اور مشارکہ پر پیسے لیے ہیں توان کے نفع کا تناسب بہر حال زیادہ ہونا چاہیے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بینکوں میں بھی تقریباً سودی بینکوں جیسا نفع ہوتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ مولانا ارشاد احمد اعجاز:
یہ بات جزوی طور پر تو ٹھیک ہے، لیکن کلی طور پر صحیح نہیں ہے۔ آپ نے یہ بات کی کہ مضاربت یا مشارکت کرتے تو پرافٹ زیادہ ہو تا، لیکن یہ ضروری نہیں۔ یہ ممکن ہے ایک مہینے میں نفع دوسرے بینکوں سے بہت زیادہ ہو جائے اور دوسرے مہینے میں نفع کم ہو جائے۔ یہاں در اصل فنانس کی ایک تھیوری ہے۔ اس کو مارکیٹ کے اعتبار سے سمجھ لینا ضروری ہے۔ معاشی نظریہ کہتا ہے کہ جب کوئی چیز مارکیٹ میں آتی ہے تو رسد و طلب (ڈیمانڈ اینڈ سپلائی) کے قانون کے مطابق اس چیز کی ایک قیمت مارکیٹ میں متعین ہو جاتی ہے۔ مثلا یہ ایک با ل پین ہے۔ اس سے ملتے جلتے 10 کمپنیوں کے بال پین بھی ہوں گے، لیکن سب کی قیمتیں دس، پندرہ روپے کے آس پاس ہو گی۔ایسا نہیں ہو گا کہ کسی کی قیمت آٹھ آنے اور کسی کی قیمت 350 روپے ہے۔ وجہ یہ کہ اس قسم کی چیز کی ڈیمانڈ اور سپلائی نے اپنی قیمت بازار میں تقریباً متعین کر دی ہے۔ اس میں تھوڑا سا فرق تو ہو سکتا ہے زیادہ نہیں، پندرہ، بیس سے بہت اوپر اور نہ بہت نیچے۔ اگر کسی کمپنی میں زیادہ فرق ہو گا تو آپ بھی غور کریں گے کہ یہ آٹھ آنے کا!! اتنا سستا کیوں؟ اگر یہی اصول آپ اسلامی بینکوں میں apply کر کے دیکھیں، اسلامی بینکوں میں جو پیسہ آنے والا ہے اس سے پہلے وہ حبیب بینک یا یونائیٹڈ بینک میں تھا۔ اب آنے والا یہی کہے گا میرے پیسے آپ نے ڈوبنے نہیں دینے۔
وہ سمجھتا ہے کہ میرا پیسہ گارنٹی شدہ نہیں ہے۔آپ نے پانچ لاکھ لگائے اور میں نے بھی۔ آپ اورمیں ذہنی طور پر بالکل تیار ہیں کہ پیسے ڈوب بھی سکتے ہیں، لیکن ہماری کوشش یہی ہو گی ہمارا پیسہ ڈوبے نہیں۔ ڈپازیٹر ایک یہ ڈیمانڈ کرتا ہے کہ میرا سرمایہ ڈوبنا نہیں چاہیے۔ دوسری ڈیمانڈ یہ کرتا ہے کہ return بھی کچھ ہو۔ تیسری ڈیمانڈ یہ کرتا ہے کہ return مجھے دیںجس میں بہت اونچ نیچ نہ ہو۔ یہ بھی کہتا ہے کہ مجھے return کتنا دیں گے تا کہ میں مستقبل میں اپنی ضروریات اس کے مطابق ترتیب دے سکوں۔ یہ ایک معمول بن چکا ہے۔ اس کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔
ہمارے پاس تین طرح کے کسٹمرز ہوتے ہیں: ایک وہ جن کو اسلامی بینک سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ دوسرے وہ جو اسلامی بینک کے سخت حامی ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسلامی بینکوں میں پیسہ رکھنا ہیں ورنہ کہیں بھی نہیں رکھنا۔تیسرا طبقہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ نفع ملے تو آئے گا، ورنہ نہیں۔اس وجہ سے اسلامی بینکوں کو بڑا خطرہ درپیش ہوتا ہے۔ اب اگر اسلامی بینکوں نے ایک مہینے میں 100 پر 15 روپے دیے۔ نتیجتاً اگلے مہینے سارے ڈپازیٹر اسلامی بینک میں پیسے لگائیں گے تو تعداد بہت بڑھ جائے گی۔ لیکن اگلے مہینے پرافٹ کے مواقع کم ہوںگے، پرافٹ کم ملے گا، تو لوگ پھر اپنا پیسہ نکالنا شروع کر دیں گے۔ گویا اسلامی بینکوں میں ہر مہینے بے تحاشا اتار چڑھاؤ آ رہا ہو گا۔ واضح طور پر یہ ایک غیر یقینی صورت حال ہے۔ کوئی ادارہ اس طرح نہیں چل سکتا۔ اس سے بچنے کے لیے شروع سے ہی یہ طریقہ اپنایا گیا کہ ہمارا پرافٹ مارکیٹ کے پرافٹ سے بہت زیادہ فرق نہ رکھتا ہو۔ اتنا نفع رکھیں کہ لوگ اگر ہمارے پاس آئیں تو یہ نہ کہیں کہ اسلامی بینک کے پاس جانے کا فائدہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم شرعی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو جب سارے تقاضے پورے ہو رہے ہیں، ساری ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ تو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہم اسلامی بینکوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک ایسا سیگمنٹ بھی شروع کریں کہ کچھ ڈپازیٹرز ایسے ہوں کہ ہم اعلان کر یں کہ آپ کے پیسے کو ہم ’’مضاربتِ مقیدہ‘‘ کے تحت لیں گے، پھر ہم اس پیسے کو مشکل کاروبار میں لگائیں گے۔ آپ کی طرف سے ہمیں اجازت ہونی چاہیے۔ آپ یہ نہ کہیں کہ آپ نے اس مہینے میں 100 روپے پر 15 دیے۔ اسی طرح کبھی 3 روپے توکبھی 18 اور کبھی پانچ۔ لیکن حالات کی وجہ سے شاید اسلامی بینک رکے ہوئے ہیں۔ حالات بہتر ہوں تو یہ کریں۔ اس کے لیے بھی شایدمضاربت کی کوئی اور شکل لانی پڑے۔
اس میں ہمیں تاجر کی فطرت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تاجر جب اپنا پیسہ لے کر آتا ہے تو وہ کہتا ہے، میں اس سے کتنا کما سکتا ہوں؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم 100پر 7 روپے دیتے ہیں اور 8 بھی۔ اس نے کہا میں یہ سمجھ لیتا ہوں کہ 100پر ساڑھے چھ روپے تو آہی جائیں گے ۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہم نے اتنا ہی دیا ہے۔ ہم نے سو روپے پر کم سے کم پرافٹ آنے کی توقع ساڑھے چھ روپے لکھی۔ اب اس ڈپازیٹر نے یہ ذہن بنا رکھا ہے کہ سال میں مجھے ساڑھے چھ یاا س کے اوپر ملے گا اس نیچے نہیں۔ اب وہ تاجر اسی کے مطابق اپنی کیش فلو مینجمنٹ کرے گا۔(جاری ہے)