شریعہ اینڈ بزنس:
تاجر برادری یہ سوال کرتی ہے کہ اگر آپ اسلامک بینک کے پاس پرافٹ لینے جائیں (مضاربہ یا مشارکہ کے طور پر) تو اسلامک بینک کے ریٹ دوسرے بینکوں کے برابر ہوتے ہیں زیادہ نہیں ہوتے، کوئی بڑا فر ق نہیں ہوتا۔ لیکن جب آپ اسی اسلامک بینک سے قرض لینے جائیں یا اجارہ وغیرہ کرنے جائیں تو وہی اسلامک بینک آپ سے دوسروں کی بنسبت کئی گنا زیادہ چارج کرتا ہے، اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟


جسٹس خلیل الرحمن خان:
پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے خیال میں اتنا زیادہ فرق نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی نظام میں شریعت کے حکم کے مطابق ڈاکومینٹیشن ہوتی ہے۔ تاجر لوگ اس کے عادی نہیں ہوتے اور ڈاکومنٹیشن کا صحیح ہونا بڑا ضروری ہے۔ ہمیں اس میں گھبرانا نہیں چاہیے۔ دوسری بات نفع و نقصان کا مالک تو اللہ ہے اس بات کا یقین ،ہمیں دل میں بٹھانا چاہیے۔ بات تو یہ ہے کہ اگر وہ آپ کو پرافٹ کم دیتے ہیں تو جانبین اللہ پر توکل اختیار کریں۔ سرمایہ کار بھی اور بینکار بھی۔صحیح صحیح بات کرے۔ صحیح رسک کور کرے تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہر پروڈکٹ کا رسک خریدار کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ جب رسک منتقل نہیں ہوتا ، اس کا بھی اثر پڑتا ہے۔


٭…اسلامی بینکاری کے ناقدین نہیں چاہتے کہ ملک میں اسلام کا نظام نافذ ہو ٭…حلال تجارت اس وقت دنیا میں 3 ٹریلین ڈالر سے بھی بڑھی ہوئی ہے ٭… تھائی لینڈ جیسے ملک میں جہاں 4 ،5یا 7فیصد مسلمان ہیں، وہ حلال ٹریڈ سے بلین آف ڈالرز کما رہے ہیں ٭… بزنس مین اسلام کے تجارتی اصول اپنے دل و دماغ میں راسخ کرے


اصل میں جو ہمارا مسلمان ہوتا ہے انہیں پتا ہی نہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں ہیں؟ بہت دنیا کی حرص اور بے تحاشا جائیداد بنانا ہمارے مذہب میں پسندیدہ نہیں۔ جب ہم عام لوگوں سے ہٹ کر سوچیں گے تو زیادہ کم کے بکھیڑوں میں الجھنے سے بچ جائیں گے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
لوگ پوچھتے ہیں اسلامی اور سودی بینکاری میں بظاہر بہت زیادہ مماثلت ہے، کوئی فرق نظر نہیں آتا؟

جسٹس خلیل الرحمن خان:
اسے آپ بڑی معمولی سی مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ اولاد کی پیدائش کا ایک حلال طریقہ اللہ تعالی نے رکھا ہے اور ایک حرام ذریعہ بھی ہے۔ جو نکاح کے ذریعے پیدا ہو حلالی کہلاتا ہے اور ناجائز تعلق کی بنا پر پیدا ہو تو وہ حرامی کہلاتا ہے۔ یہ فرق کیوں ہے؟ حالانکہ مرود عورت کا اختلاط تو دونوں میں یکساں طرح سے ہوا۔ تواب سمجھنے کی بات یہ ہے یہاں فرق ’’پراسس‘‘ کا ہوا۔ ایک اللہ کے حکم اور سنت کی پیروی کے نتیجے میں پیدا ہوا اور دوسرے میں ایک حرام اور ناجائز طریقہ اختیار کیا گیا۔ نکاح والی صورت جائز اس لیے ہے کہ اس سے مرد و زن کے حقوق سیٹل ہو جاتے ہیں۔ دوسرے میں سیٹل نہیں ہوتے، وہ بچہ اسٹیٹ کی ذمہ داری میں ہو گا۔اس سے معلوم ہو ا کہ ظاہری مشابہت کے باوجود دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اسی قسم کی دوسری مثال کہ آپ میکڈونلڈ کا برگر منگواتے ہیں۔ اسی میکڈونلڈ کا برگر واشنگٹن سے خریدا تو حرام ہے اور پاکستان سے خریدا تو حلال ہو گا۔ ایک حلال اور ایک حرام، یہ فرق کیوں ہے؟ یہ فرق بھی پراسس کا ہے یعنی اسلامی ملک میں انہوں نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ وہ حلال گوشت سے تیار کیا جائے گا۔

اسی طرح تیسری مثال ’’جھٹکا‘‘ ہے۔ اگر کوئی جانور ’’جھٹکے‘‘ کے طریقے سے ذبح کیا جا رہا ہے اور دوسری اسلامی طریقہ ذبح کے مطابق۔ ان میں ایک حلال ہے اور ایک حرام ہے۔ ان دونوں میں بھی فرق صرف ’’پراسس‘‘ کا ہے۔ اب سمجھیے کہ اجارہ کنونشنل بینک بھی کرتے ہیں اور اسلامی بینک بھی۔ دونوں میں فرق ’’پراسس‘‘ کا ہے۔ اگر نقصان ہو جائے تو کنونشنل بینک میں یہ نقصان آپ کا ہے، جبکہ اسلامی بینک میں یہ نقصان بینک کا ہے۔

 

شریعہ اینڈ بزنس:
البرکۃ بینک کے آپ شریعہ ایڈوائزر ہیں تو البرکۃ بینک دوسرے اسلامی بینکوں سے کس طرح مختلف ہے؟

جسٹس خلیل الرحمن خان:
مانیٹرنگ میں فرق ہو جاتا ہے۔ اس میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ شریعہ کمپلائنس زیادہ سے زیادہ ہو۔ اب کئی چیزیں جو دیگر بینک فراہم کر رہے ہیں مگر ہم وہ پراڈکٹ فراہم نہیں کر رہے۔ ہمیں ابھی تک ان پر شرح صدر نہیں ہے۔ تو اس لیے مل جل کرایک دوسرے کے مشورے سے اس نظام کو آگے لے کر جانا ہے۔ کہ آپ کیا کہتے ہیں، میں کیا کہتا ہوں، اس طرح کی گفت و شنید سے یہ سلسلہ آ گے بڑھے گا۔ اگر کسی کو کوئی خرابی نظر آئے تو اس سے میری یہ گزارش ہے کہ خدارا! آپ بتائیں کہ اس میں فلاں خرابی ہے۔ ہم ان شاء اللہ اسے حل کریں گے۔ کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں یہ فلان کے تحت ہے یہ فلاں کے۔ کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش نہ کریں۔ اسلامی بینکاری کے اور ناقدین بہت ہیں۔ آپ اس قسم کے رویے سے کس کا بھلا کر رہے ہیں؟ آپ اسلامی نظام کا بھلا نہیں کر رہے، اس کے ناقدین کا بھلا کر رہے ہیں۔ جو نہیں چاہتے کہ اسلام کا نظام نافذ ہو۔

شریعہ اینڈ بزنس:
آپ پنجاب میں حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین ہیں اس حوالے سے بتائیے کہ حلال فوڈز کے حوالے سے پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

جسٹس خلیل الرحمن خان:
حلال ٹریڈ اس وقت دنیا میں تین ٹریلین ڈالر سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ پاکستان میں جتنے وسائل ہیں اس حساب سے ہم ابھی اس میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے اور ہمارے ہاں جتنی مرد و زن کی مقدار ہے اتنی ہی تعداد جانوروں کی ہے۔ دوسرے اسلامی ملکوں میں یہ پوزیشن نہیں۔ تھائی لینڈ جیسے ملک میں جہاں 4 ،5یا 7فیصد مسلمان ہیں، وہ اس حلال ٹریڈ سے بلین آف ڈالرز کما رہا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں اس سے صرف چند ملین کی کمائی ہو رہی ہے۔ دنیا میں شریعہ کمپلائنس سب سے زیادہ پاکستا ن میں ہے، اس کا ہم فائدہ نہیں اٹھا رہے اور حلال میں اتنی آئٹمز ہیں کہ کوئی حساب نہیں۔ اس میں کنفکشنری بھی ہے اسی طرح میٹ، آئل، مٹن، بیف، کاسمیٹکس، ٹرانسپورٹیشن اور ہوٹلنگ وغیرہ متعدد چیزیں ہیں۔ یہ سب چیزیں حلال ٹریڈ میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حلال کے حوالے سے قوانین ہی نہیں ہیں۔ اس کے لیے ہم نے قانون بنا دیا ہے اور ادارے قائم کر دیے ہیں۔ دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف اور پنجاب کی طرف دلائی ہے۔ دنیا بھر میں مختلف پروگرام کیے ہیں، عالمی برادری کو متوجہ کیا ہے۔ امید ہے کہ پاکستان حلال فوڈ میں تیزی سے آگے بڑھے گا۔ دیکھیں! آپ کی ضرورت کی چیزیں فارن ایکسچینج میں آتی ہیں جب فارن ایکسچینج کمائیں گے تو اس سے ملک کی معیشت بڑھے گی، روزگار بڑھے گا، لوگ خوش حال ہوں گے اور ملک تیزی سے ترقی کرے گا۔

شریعہ اینڈ بزنس:
آپ کے کام کا طریقہ کار کیا ہے؟ پنجاب میں آپ کے شروع کیے گئے منصوبے پر کتنا کام ہو چکا ہے؟

جسٹس خلیل الرحمن خان:
حلال کے حوالے سے متعدد سطحوں پر کام کی ضرورت ہے۔ ہم نے دنیا بھر کو پاکستان میں حلال کے مواقع کے حوالے سے آگاہ کرنے کی مہم شروع کی۔ پہلے نمبر پر تو ہم نے دنیا کو یہ بتایا کہ پاکستان کا مرکز اور حب ہے۔ پھر ہم نے بتایا کہ اس کی حلال کے حوالے سے طاقت کیا ہے۔ یہ بات ہم نے باہر کے ملکوں میں جا جا کر بتائی ہے۔ ہم نے بتا یا ہے شریعۃ کمپلائنس کا جو علم پاکستان میں ہے وہ کسی اور ملک میں نہیں۔ ہم نے کہا کہ دنیا اس کا فائدہ اٹھائے۔ اسی نکتے پر دنیا کی توجہ ہم نے پاکستان کی طرف مبذول کرا دی ہیں۔ اب اس ذریعے سے بلین آف ڈالر کی ٹریڈ ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں حلال کے مواقع سے دنیا کو خبر کرنے کے لیے ہم نے متعدد کانفرسیں بھی منعقد کی ہیں۔ اسی مقصد کے لیے ہم تیسری انٹرنیشنل کانفرنس عنقریب منعقد کرنے جا رہے ہیں۔ اس میں ہم نے جتنے بھی دنیا بھر کے بڑے بڑے خریدار ہیں ان سب کو بلا یا ہے تاکہ یہ دنیا بھر کے حلال مصنوعات کے خریداروں کو بتایا جائے کہ حلال مصنوعات کے حوالے سے پاکستان میں کس قدر مواقع ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:
کیا پاکستان میں انتظامی سطح پر اتنی تیاری ہے کہ بین لاقوامی خریداروں کے معیار اور مقدار کے مطابق حلال مصنوعات فراہم کی جا سکیں؟

جسٹس خلیل الرحمن خان:
جی ہاں! ہم نے اس پر منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہم نے ملک بھر میں کیٹل شیڈز بنانے کی اسکیم بنائی ہے۔ اس اسکیم کو ہم اسٹیٹ بینک کی طرف بھیج رہے ہیں تاکہ جلد از جلد منظوری کے بعد ملک بھر میں کیٹل شیڈز کی تعمیر شروع ہو جائے۔ عام فارمز کے لیے بھی منصوبہ بنایا ہے کہ کم از کم ایک عام فارمر 100 گائیوں سے کام شروع کر سکے۔ تاکہ گوشت، دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کو فروغ ملے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس ملک بھر میں انتہائی عمدہ مذبح خانے موجود ہیں۔ پھر ہم حلال کے حوالے سے قانون سازی بھی کررہے ہیں۔ یعنی تمام پہلوؤں پر توجہ دے کر تیزی سے کام آگے بڑھا رہے ہیں۔

شریعہ اینڈ بزنس:
ایک مسئلہ جو سر اٹھا رہا ہے کہ پاکستان میں حلال سرٹیفکیشن کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ جو چیزیں اور اجزائے ترکیبی ہم امپورٹ کر رہے ہیں ان میںکسی کو یہ خیال نہیں ہوتا کہ کہاں سے آ رہے ہیں؟ حلال ہیں یا نہیں؟

جسٹس خلیل الرحمن خان:
ہم نے حلال سرٹیفیکشن باڈی بنانے کے لیے پیش رفت شروع کر دی ہے۔ اس باڈی کی ہم بین الاقوامی سطح پر معروف ادروں سے تصدیق کروا رہے ہیں۔ پاکستان میں حلال کے حوالے سے بہت ضرورت موجود ہیں۔ ان شاء اللہ حلال سرٹیفیکشن جب شروع ہو جائے گی اور مرکز میں بھی ایک بھر پور ادارہ اس کی نگرانی کر رہا ہو گا تو حلال کے حوالے سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

شریعہ اینڈ بزنس:
شریعہ اینڈ بزنس کے قارئین کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟


جسٹس خلیل الرحمان خان:
اصل بات یہ ہے کہ ہمارا جو بزنس مین طبقہ ہے اس کو اسلام کے تجارتی اصول اپنے دل و دماغ میں راسخ کرنے چاہییں۔ دوسرا ہر مسلمان کے لیے ایمان کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ وہ ضرر رساں اور نفع مند چیزوں میں فرق کو سمجھے۔ جتنے ہمارے تجارتی اصول ہیں ان کی بنیاد یہ ہے کہ ناجائز طریقے سے رزق نہیں کمانا۔ اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی مثال دی جاتی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے جا رہے تھے آپ نے ایک شخص کو کہا: میرے گھوڑے خیال رکھنا۔ خود نماز پڑھنے چلے گئے۔ آپ کے دل میں تھا کہ چونکہ اس شخص نے میری خدمت کی ہے میں اسے دو درہم دوں گا۔ واپس آئے تو گھوڑا ہے مگر اس کی زین غائب ہے۔ آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ ادھر کوئی دکان ہے؟ ایک جگہ جا کر پوچھا تو دوکاندار نے کہا: ابھی ابھی ایک شخص دو درہم میں بیچ کر گیا ہے۔ وہ شخص حلال طریقے سے بھی دو درہم کما سکتا تھا مگر اس نے حرام طریقے سے کمائے۔

اصل بات یہ ہے ہمارا رازق صرف اللہ تعالی ہے۔ ہم اپنی چالاکیوں سے سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ اور یہ کیا۔ اصل بات یہ کہ وہ یقین ہو اور یہی تقوے کا معیار ہے۔ میں یہی میسج دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کوئی رزق نہیں کمانا جو ضرر پر مبنی ہو غرپر پر مبنی ہو اور دھوکہ پر مبنی ہو۔ اور یہ کہ جو رزق اللہ نے تمہاری قسمت میں لکھا ہے وہ تمہیں ملے گا۔ اب یہ تمہاری چوائس پر ہے کہ تم اسے حلال طریقے سے کماؤ یا حرام کا ذریعہ اختیار کرو۔

دوسری بات کہ یہاں پر آنے کا نظام تو ہے لیکن جانے کا نظام کوئی نہیں۔ کیا ہم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ وہ آج شام تک زندہ رہے گا؟ اس لیے ہر عمل کرتے وقت یہ ذہن میں رکھے کہ یہ کام کروں تو کہیں یہ پکڑ کا سبب تو نہیں بنے گا؟ اگر یہ ذہن میں رہے کہ آپ کوئی بھی کام کر یں تو اندر دل سے آواز آئے کہ دیکھو! یہ کام کر رہے ہو کہیں یہ اللہ کی ناراضگی کا سبب تو نہیں۔ پیٹ میں رزق حلال نہیں تو چالیس دن تک نماز نہیں قبول ہوتی ۔

ایک اور مثال کہ ایک آدمی کو اس کا آقا کہے کہ آپ دو گھنٹے یہ کام کرو میں پھر تیرا جائزہ لوں گا۔ تو وہ اگر اس دوران کام نہ کرے تو پھر وہ اپنے مالک کے سامنے کیسے جا سکے گا؟ اسی طرح دو نمازوں کے درمیان کا وقفہ بھی اللہ کے سامنے دوبارہ پیشی کی طرح ہے۔ اسی طرح جب ایک بندہ ظہر کی نام کو جاتا ہے تو اگر اس نے اس سے پہلے والا سارا وقت نافرمانی میں گزارا تو اسے ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ اللہ کے سامنے کیسے جائے گا؟ کبھی ہم نے نماز اس خیال سے پڑھی ہے کہ میں کس منہ سے (نافرمانی کے بعد) اس کے سامنے کھڑا ہو کر کہوں گا ایاک نعبد وایاک نستعین۔ اگر ہر مسلمان تاجر اس بات کو سمجھ لے تو یقینی طور پر اس کا محل مختلف ہو گا۔