عاریت:استعمال کے لیے چیزلینا

قواعد،آداب، مسائل
کلیم اور سلیم دونوں دوست ہیں۔ دونوں کا کپڑے کا ہو ل سیل کا کاروبار ہے۔ کلیم اپنے دوست سلیم کو فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ـسامان مارکیٹ لے جانے کے لئے تمہاری لوڈنگ سوزوکی چاہیے ہو گی، میری سوزوکی کام کے لئے گیراج میں کھڑی ہے۔ سلیم کہتا ہے کہ ٹھیک ہے ، آپ کو جب ضرورت ہو لے جائیے گا، آپ کی اپنی ہی گاڑی ہے۔ کلیم گاڑی لے جاتا ہے ۔ تین دن کے استعمال کے بعد سوزوکی واپس کردیتا ہے۔ سلیم گاڑی کی حالت دیکھتا ہے اور دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

برائلرکی خریدوفرخت

پوری دنیا میں مرغیوں کے فارم موجود ہیں جن کی کھپت کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ کیونکہ دنیا میں ہر طرز کے لوگ مرغی کا استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ خوراک کے بے شمار ذرائع موجود ہیں مگر مرغی کے مقابلے میں ہر طرح کے پروٹین مہیا کرنے والے عوامل نسبتاً زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ مرغی کا استعمال عام سطح کے افراد بھی بآسانی کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ مرغی کے گوشت کا سستا ہونا ہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی تجارت کا نیا تناظر اور مارکیٹنگ مینجمنٹ

دورِ جدید میں قدرت نے بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں، مگر ساتھ ہی ہم نے کچھ زحمتوں بھی اختیار کر لیا ہے۔ ادویات کی پیداوار میں بے شمار اضافہ ہوا ہے۔ خود کار مشینوں اور جدید اقسام کی بھاری مشینوں کے استعمال سے پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے وجود سے عالمی تجارت (Global Trade) کو فروغ حاصل ہوا ہے اور سرد جنگ (Cold War) کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ آج کا انسان دنیا سے بھوک اور وبائی امراض کو مٹانے کی طاقت حاصل کر چکا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پھلوں کی خرید و فروخت

٭٭آج کل ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پھلوں کی خرید و فروخت بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے کچھ ممالک اس دولت سے مالا مال ہیں اور کچھ تہی دامن، پھر اندرونِ ملک بھی کچھ علاقوں میں ان کی فراوانی ہے اور بعض جگہوں میں بہت قلت۔ چنانچہ اس فطری تقسیم کی وجہ سے مختلف علاقوں اور ممالک کے تاجر دیگر جگہوں سے اس کی خرید و فروخت پر مجبور ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

(Islamic Sukuk) اسلامی صکوک

سود پر مبنی مروجہ معاشی نظام کو غیر سودی اور شرعی احکام کے تابع بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں سے جد و جہد کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سودی بینکنگ کے مقابلے میں غیر سودی بینکنگ، انشورنس کے مدمقابل تکافل اور بانڈز وغیرہ کی جگہ اسلامی صکوک وجود میں آ گئے۔ ہماری اس تحریر کا موضوع یہی اسلامی صکوک ہیں۔ ھیئۃ المحاسبۃ والمراجعۃ للموسسات المالیۃ الاسلامیۃ (AAOIFI) کے مرتب کردہ المعاییر الشرعیۃ (Shariah Standards) میں صکوک کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

ی دستاویزات (Securities) ہیں جو یکساں قیمت (Equal Price) کی ہوتی ہیں۔ یہ دستاویزات اشیا (Goods)، خدمات (Services) یا منافع (Usufructs) کی ملکیت میں غیر متعین حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایسی دستاویزات بعض اوقات کسی خاص کاروباری منصوبے کے اثاثوں (Underlying Assets)کی ملکیت میں غیر متعین حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ بسا اوقات یہ دستاویزات سرمایہ کاری (Investment) کی کسی خاص سرگرمی میں غیر متعین حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ صکوک کو یہ حیثیت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس میں تین شرائط پائی جائیں:
1 صکوک خریدنے والوں سے ان کی قیمت وصول کی جا چکی ہو۔
2 صکوک کی فروخت بند کردی گئی ہو۔
3 جس غرض سے صکوک جاری کیے گئے ہوں اس (Underlying Contracts) میں حاصل شدہ سرمائے کا استعمال شروع کر دیا گیا ہو۔
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اپنے مقالے الصکوک و تطبیقاتھا المعاصرۃ میں لکھتے ہیں: ''اسلامی اصولوں پر مبنی صکوک کا اجرا اسلامی فائنانسنگ کا اہم ہدف ہے۔ یہ عالمی منڈی میں اسلامی معیشت کے نشوونما کا بڑا ذریعہ ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ان صکو ک میں ان تمام بنیادی مبادیات کا لحاظ رکھا جائے، جو اسلامی معیشت کو غیر اسلامی معیشت سے ممتاز کرتی ہیں۔ اسلامی صکوک کے اجرا میں بنیادی فکر یہ ہے کہ صکوک ہولڈرز بڑے بڑے تجارتی اور صنعتی منصوبوں کے نفع اور آمدنی میں شریک ہوں۔ اگر صکوک اس بنیاد پر جاری کیے جائیں تو اسلامی فائنانس کو بڑھانے میں ان کی بڑی اہمیت ہو گی اور شریعت کے مقاصد کو حاصل کرنے میں ان کا بڑا حصہ ہو گا۔'' (بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ، ج2،، مکتبۃ دار العلوم کراچی)
دراصل حکومت اور بعض اوقات تجارتی کمپنیوں کو اپنی مالی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے عوام سے قرضے لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ادارے اس مقصد کے لیے مختلف قسم کی سندات (Certificates) اور بانڈز (Bonds) جاری کرتے ہیں۔ ان سرٹیفکیٹس اور بانڈز پر قرضے کی مقدار، شرح سود اور میچورٹی ڈیٹ وغیرہ کی تفصیلات درج ہوتی ہیں، مثلاً: ایک تجارتی کمپنی کو ایک کروڑ روپے کی اشد ضرورت ہے۔ کمپنی کسی مالیاتی ادارے سے قرض لینے کے بجائے ایک ایک لاکھ روپے کے سو بانڈز تیار کر کے عوام کے سامنے پیش کرتی ہے۔ عوام میں سے جو جتنے بانڈز لیتا ہے، کمپنی اسی حساب سے اس کی مقروض ہو جاتی ہے۔ کمپنی ان لوگوں کو ان کے قرضوں پر مخصوص مقدار میں سالانہ نفع دیتی ہے۔ میچورٹی ڈیٹ آنے پر بانڈ ہولڈرز یہ بانڈز کمپنی کے سپرد کر کے اپنا سرمایہ واپس لے لیتے ہیں۔ کمپنی اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ میچورٹی ڈیٹ آنے پر بانڈ ہولڈرز کو ان کا اصل سرمایہ واپس کر کے ان سے بانڈز لے لے۔ اس کے علاوہ بانڈ ہولڈرز یہ بانڈز بیچ کر اپنی اصل رقم کے ساتھ ساتھ کچھ اضافی نفع بھی کما سکتے ہیں۔ بانڈز پر ملنے والا سالانہ نفع اور ان کی خرید و فروخت کے نتیجے میں ملنے والی اضافی رقم دونوں سود کے زمرے میں آتے ہیں۔ چونکہ قرضوں کا حصول ایک حقیقی ضرورت، جبکہ سودی معاملات قطعی طور پر ناجائز اور حرام ہیں، اس لیے ان سودی بانڈز کے متبادل کے طور پر اسلامی صکوک متعارف کروائے گئے ہیں۔
دراصل بانڈز بذات خود کوئی قابل فروخت چیز نہیں، بلکہ اصل چیز قرضوں کی وہ رقم ہے، جس کے لیے یہ جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بانڈز کی خرید و فروخت اصل میں ان قرضوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے، جن کی یہ نمائندگی کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہ شرعی اصول ہے کہ ایک ہی ملک کی کرنسی کی خرید و فروخت میں کسی بھی طرف سے دی جانے والی اضافی رقم سود کہلاتی ہے۔ اسی طرح قرض کے بدلے میں ملنے والا منافع بھی سود ہی ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بانڈز کے مالک کو متعین مقدار میں ملنے والا سالانہ منافع اور ان کی خرید و فروخت کے نتیجے میں ملنے والی اضافی رقم، دونوں سود اور قطعی حرام ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی صکوک کمپنی کے مخصوص اثاثوں (Assets)، مثلاً: اشیا (Goods) منافع (Usufructs) اور خدمات (Services) وغیرہ کے مقابلے میں جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صکوک ہولڈرز متعلقہ کمپنی کیمتعلقہ اشیا، منافع اور خدمات وغیرہ میں اپنے سرمایے کے بقدر مالک قرار پاتے ہیں۔ اس طرح کمپنی اور صکوک ہولڈرز، کمپنی کی تجارتی سرگرمیوں میں نفع اور نقصان دونوں کی بنیاد پر شریک ہوتے ہیں، لہذا ان کے بدلے میں ملنے والا ماہانہ یا سالانہ اضافہ اور ان کی خرید و فروخت کے نتیجے میں ملنے والی اضافی رقم سود کے زمرے میں نہیں آتی۔ مختصر یہ کہ بانڈز اور صکوک میں تین بنیادی فرق ہیں:
1 بانڈز محض قرضے کی ایک رسید ہوتے ہیں، جبکہ صکوک باقاعدہ کسی چیز، منافع یا خدمات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
2 بانڈز پر ہر سال طے شدہ نفع ملتا ہے، چاہے اصل کاروبار میں فائدہ ہو یا نقصان، جبکہ صکوک ہولڈرز اصل کاروبار میں نفع و نقصان دونوں کی بنیاد پر شریک ہوتے ہیں، چنانچہ انہیں نفع و نقصان دونوں کا اندیشہ رہتا ہے۔
3 بانڈ ہولڈز کو میچورٹی ڈیٹ آنے پر بانڈز کی فیس ویلیو واپس ملنا یقینی ہوتی ہے، جبکہ صکوک ہولڈرز کو ضروری نہیں کہ ہر صورت میں فیس ویلیو ہی مل جائے، بلکہ اس سے کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔
سب سے پہلے اردن کی حکومت نے 1978ء میں مضاربہ صکوک کا تصور پیش کیا۔ 1990ء میں اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ نے فتوی جاری کیا کہ مروجہ تمام بانڈز کا لین دین حرام ہے، لہذا ان کے متبادل کے طور پر ایسے صکوک و سندات کو استعمال میں لایا جائے، جو مضاربہ وغیرہ کی بنیاد پر ہوں۔ 1999ء میں سوڈان کے مرکزی بینک نے اسلامی مالیاتی دستاویزات کے طور پر مرکزی بینک اور حکومت کے مشارکہ سرٹیفکیٹ جاری کیے تاکہ یہ شرعی طریقے پر کھلے بازار کا کام دیں۔ مئی 2003ء میں ھیئۃ المحاسبۃ والمراجعۃ للمؤسسات المالیۃ الاسلامیۃ (AAOIFI) نے صکوک کی انواع و اقسام، ان کے خصائص اور جن احکام و ضوابط کا ان کو پابند ہونا چاہیے، ان سب امور کو طے کیا۔ 2004ء میں اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ نے اجارہ صکوک کے احکام و ضوابط طے کیے۔ 2008ء میں خاص اجارہ صکوک اس وقت منظرِ عام پر آئے، جب یورپی مجلس افتا نے اشیا (Goods) کے منافع (Usufructs) پر وارد ہونے والے اجارہ کو جائز قرار دیا۔ جنوری 2009ء میں ملائشیا میں اسلامی خدمات کی مجلس نے صکوک کا ڈھانچہ، ان کی تعریف، ان میں پیش آنے والے ان خطرات (Risks) کی وضاحت کی جن کا تعلق مالی خدمات کے اداروں سے ہوتا ہے۔ 2009ء میں اسلامک فقہ اکیڈمی نے صکوک کے وقف کو جائز قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ شرعی لحاظ سے مال کی تعریف میں داخل ہیں۔ (اسلامی صکوک، ڈاکٹرمفتی عبد الواحد)
صکوک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک جیسے ادارے نہ صرف ان کی اہمیت کو تسلیم اور ان کا حجم بڑھانے پر اصرار کر رہے ہیں، بلکہ خود بھی صکوک جاری کر رہے ہیں۔ مفتی ڈاکٹر عبد الواحد صاحب شیخ علاؤ الدین زعتری کے ایک مقالے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
ستمبر 2007ء میں آئی ایم ایف نے صکوک کے بارے میں یہ تاکید کی کہ ان کا حجم چار گنا بڑھا دیا جائے۔ اس نے اس بات کی توثیق بھی کی کہ صکوک کے بازار میں دلچسپی لینے والے ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس نے کہا کہ صکوک کے لیے اس وقت ایک نمایاں چیلنج روایتی سودی سندات کے ڈھانچے کو بدلنے کا ہے۔
جولائی 2008ء میں آئی ایم ایف نے دوسری مرتبہ حکومتی اسلامی صکوک کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کی توثیق کی کہ یہ صکوک پوری دنیا میں مسلم اور غیر مسلم دونوں حلقوں میں یکساں اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی وضاحت کی کہ صکوک کے لیے جو کھلا چیلنج ہے، وہ قوانین اور فقہی اختلاف کا ہے۔
ڈاکٹر صاحب گلوبل انویسٹمنٹ ہاؤس کی جاری کردہ ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
حکومتی صکوک کی ایک قابل ذکر مثال وہ ہے جو جرمنی کے ایک صوبے (Saxony Anhalt) کی حکومت نے 2004ء میں جاری کیے۔ ان کے ذریعے اس نے مشرق وسطی اور یورپ کے سرمایہ کاروں سے 100 ملین یورو حاصل کیے۔ یہ صکوک پانچ سال کے لیے تھے اور ان کی بنیاد ڈنمارک کے ایک وقف کے قبضہ میں موجود حقیقی جائیداد پر تھی۔
امریکا اور برطانیہ میں بھی بعض اداروں نے پچھلے چند سالوں میں صکوک کا اجرا کیا ہے۔ عالمی بینک نے بھی 2005ء میں 200 ملین ڈالر کی مالیت کے صکوک جاری کیے ہیں۔ (اسلامی صکوک، صفحہ: 20،19،17)
یہ حقائق اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے، جو دنیا کو عدل و انصاف اور امن و سکون پر مبنی متوازن ترین معاشی نظام دے سکتا ہے۔ انسان نے وحی کی تعلیمات کو پس پشت ڈالتے ہوئے، اپنے مسائل کے حل کے لیے جو بھی اصول و ضوابط وضع کیے، انہوں نے بالآخر اسے مزید مسائل اور پریشانیوں سے دو چار کر دیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بانڈز کے ذریعے فائنانسنگ میں جو خرابیاں درپیش تھیں، اسلامی صکوک نے انہیں یکسر ختم کر دیا ہے، البتہ اس کے حقیقی فوائد سے مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اول تا آخر تمام سرگرمیوں میں شریعت کے طے کردوں اصولوں پر سو فیصد عمل پیرا ہوا جائے۔ اگر کسی جگہ اسلامی فائنانسنگ کے ثمرات ظاہر نہ ہو رہے ہو تو وہاں ضرور کسی شرعی ضابطے کی خلاف ورزی ہو رہی ہو گی، لہذا صکوک جیسے معاملات میں حصہ لینے والوں کو چاہیے کہ اپنی تمام کاروباری سرگرمیوں میں مستند اہل علم حضرات سے رہنمائی حاصل کریں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میانہ روی اور کفایت شعاری

ایک بزرگ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ اپنی تنگ دستی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا: ’’حضرت! گھر کے خرچے پورے نہیں ہو رہے، قرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی وظیفہ بتا دیجیے، تاکہ اس مشکل سے چھٹکارا ملے۔‘‘ بزرگ نے پوچھا: گھر میں روزانہ کیا سالن پک رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: الحمد للہ! معمول کے مطابق پک رہا ہے۔ بزرگ نے پوچھا: معمول کا کیا مطلب! جواب دیا: عام طور پر سادہ سالن ہوتا ہے جبکہ تین، چار دن کے بعد گوشت بھی پک جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔