ہر بزنس مین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کاروبار پھلے پھولے اور بام عروج تک پہنچے، لیکن ظاہر سی بات ہے کہ صرف باتوں سے کاروبار اور بزنس کی بنیادوں کو مضبوط نہیں بنایا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے مناسب حکمت عملی درکار ہوتی ہے، جس کی مددسے کاروبار میں ترقی ہوتی ہے۔ چونکہ بزنس جب بڑے پیمانے پر ہو تو اس کے لیے لوگ چاہیے ہوتے ہیں، جن کی خدمات حاصل کر کے کاروبار کیا جاتا ہے۔


٭…اگر آپ نے اس ڈرسے اچھے کام پر حوصلہ افزائی نہیں کی کہ کل کلاں کو یہ اجرت اور مشاہرہ بڑھانے کا مطالبہ کرسکتا ہے تو یہ انتہائی غیردانشمندانہ سوچ ہو گی

یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کے کاروبار کی ترقی کا سبب بھی بن سکتے ہیں اور بزنس کو تنزلی کا راستہ بھی دکھا سکتے ہیں۔ اس لیے ایک بزنس مین کو اپنے ملازمین کے ساتھ ایسا برتاؤ اور سلوک کرنا چاہیے جو کاروبار کی ترقی کا سبب بنے، نہ کہ تنزلی اور پستی کا۔ آپ جتنے بڑے بھی پلان میکر کیوں نہ ہوں، بالآخر یہ پلان آپ کے انہی ملازمین کے ہاتھوں عملی شکل اختیار کرے گا۔ اگر آپ کے ملازمین آپ سے خوش ہوں گے توآپ کے مطلوبہ نتائج اور اہداف حاصل ہوسکتے ہیں، ورنہ دوسری صورت میں شدید نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایک تاجر کا رویہ اپنے ملازمین سے کیسا ہونا چاہیے؟ مندرجہ ذیل تفصیل اس سلسلے میں معاون ثابت ہوگی: پالیسیاں واضح رکھیں

ہر ادارہ اپنا نظم وضبط بر قرار رکھنے اور نظام کو چلانے کے لیے کچھ پالیسیاں بناتا ہے۔یہ پالیسیاں ایسی بنانی چاہییں قابل عمل ہوں اورانسانی فطرت پربہت زیادہ گراںنہ ہوں۔ صاف شفاف اور واضح ہوں۔ ادارے کے ملازمین ان کو جانتے بھی ہوں۔کیونکہ ان کو پہلے سے پالیسی کا علم ہوگا تووہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور خلاف ورزی پر انہیں بر وقت ٹوکا بھی جاسکے گا۔

عزت نفس کا خیال رکھیں ہر انسان کی عزت نفس ہوتی ہے جس کیبارے میں وہ کافی حساس ہوتا ہے۔ آرگنائزیشن کا ماحول ایسا ہوناچاہیے کہ ملازمین کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ خصوصاً ادارے کے مالکان ملازمین کے ساتھ نرم اور شائستہ رویہ اختیار کریں، کیونکہ آپ نے ملازمین کو نہیں بلکہ ان کی خدمات اور اوقات کارکو خریداہے۔ ہاں! اگر ملازم کی جانب سے کسی غفلت اور لاپروائی کا سامنا ہوا ہے تو پھر حسب حال مناسب انداز میں کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

نظام اچھا بنائیں
کسی بھی ادارے کی ترقی کا راز اس کے نظام کے بہترین ہونے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ادارے کا مالک نظام کو اپنے موڈ کے تابع نہ بنائے کہ جیسا موڈہوگا اسی کے مطابق فیصلے ہوں گے۔ جب مالک خوش ہو تو ملازمین کے لیے اچھے فیصلے کرے گا اور جب مالک ناراض ہو تو ملازمین کے لیے فیصلے بھی برے ہوں گے۔ بعض اوقات تو بات ظلم اور ناانصافی کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح کا نظام اداروں کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے ۔

حوصلہ افزائی
انسان تعریف کا بھوکا ہوتاہے۔ اس لیے اگر ملازمین اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو ان کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔ حوصلہ افزائی دو طرح کی ہوسکتی ہے، صرف زبانی یا کوئی تعریفی سرٹیفیکٹ وغیرہ دیا جائے یا کوئی مالی منفعت پہنچادی جائے۔
اگر آپ نے اس ڈرسے اچھے کام پر حوصلہ افزائی نہیں کی کہ کل کلاں کو یہ اجرت اور مشاہرہ بڑھانے کا مطالبہ کرسکتا ہے تو یہ انتہائی غیردانشمندانہ سوچ ہو گی، کیونکہ ذرا سے مالی نفع کے لیے آپ اپنے بزنس کا بہت زیادہ نقصان کر سکتے ہیں۔ جب ملازمین کو علم ہے اچھا کام کریں تب بھی کوئی فائدہ نہیں اور ہر کام کرنے پر صلہ وہی ہے تو وہ بیزاری سے کام کریں گے، جس کا نتیجہ بزنس کی تباہی کے سوا اورکچھ نہیں ہوگا۔ ذمہ داریاں واضح ہوں

عموماً ادارے اور ملازمین کے درمیان جھگڑے اس وقت شروع ہوتے ہیں جب ملازمین کی ذمہ داریاں ادارے کی طرف سے واضح نہ کی جائیں اور متعلقہ و غیرمتعلقہ ہر کام تمام ملازمین سے لیا جاتا رہے۔ ذمہ داریوں کی وضاحت کردینے کو Job Descriptionکہا جاتا ہے۔ اگر یہ صحیح طریقے سے بنادی جائے تو ملازمین اور مالکان کے بیشتر جھگڑے رفع ہوسکتے ہیں۔

رو ک ٹوک سے گریز کریں ملازمین کو غیر ضروری روک ٹوک نہیں کرنی چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنا ان میں اندرونی غصہ بھردیتا ہے، جس سے ان کے اندر اپنے کام کے حوالے سے بیزاری پیدا ہوجاتی ہے، یہ آپ کے بزنس کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

مندرجہ بالا نکات سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ملازمین بزنس کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف آپ کا بزنس ترقی کرے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوگی۔ اسلام نے ملازمین کے حقوق کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی ہیں، ان کی پاسداری ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم سب کے لیے ضروری ہے۔