ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جس کو ’’پیشگی عمل‘‘ Pretreatment کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کپڑے کو ابتدائی کاروائیوں سے اس قابل بنانا کہ وہ اگلے مرحلے کے عمل کو قبول کر سکے۔ اسی طرح ہر کام کو کرنے سے پہلے اس کی کامیابیوں کی ترکیبوں اور گُروں کے بارے میں جاننے سے اس چیز کی کامیابی کے امکانات 70 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔


٭… گاہک کو اس بات کا مکمل موقع اور وقت دیا جائے کہ وہ مطلوبہ چیز کو خوب اچھی طرح دیکھ لے اور تسلی کر لے۔ اس چیز سے متعلق تمام ضروری معلومات اسے مہیا کر دی جائیں

چنانچہ حکمت عملی کو ہر میدان میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔ ایک کامیاب تاجر اور دکان دار میں کیا کیا خصوصیات ہونی چاہیے، آئیے! ایک نظر ڈالتے ہیں۔

سب سے پہلے وہ خصوصیات جن کا اختیار کرنا فروخت کرنے سے پہلے ایک دکان دار کے لیے ضروری ہے: گاہکوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیے
ایک دکان دار ہونے کی حیثیت سے گاہک کا خاندانی و اعتقادی پس منظر معلوم ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے اس کی پسند نا پسند کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔ ان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے کام آ سکے گی۔ گاہکوں کو سمجھائیے

گاہکوں کو قائل کرنا ایک دکان دار کی ذمہ داری ہے، آپ اسے یہ باور کروائیں کہ آپ کی پروڈکٹ دوسری پروڈکٹ سے ممتاز اور بہتر کیوں ہے، گاہک کے اعتراضات کوسمجھ کر اُن کا خاطر خواہ جواب دینے کی کوشش کیجیے۔ آپ کے گاہک آپ کے مہمان

آپ کے گاہک آپ کے مہمان ہیں، چنانچہ اگر آپ ایک کامیاب تاجر بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کا اسی طرح خیال رکھنا ہو گا جیسا آپ اپنے مہمانوں کا خیال رکھتے ہیں، ان کی کڑوی کسیلی باتوں کو برداشت کیجیے، ان کے بچوں کی بدتمیزیوں کو برداشت کیجیے اور شیریں گفتگو سے ان کا دل جیتنے کی کوشش کیجیے۔ اعتبار پیدا کیجیے

ایک آدمی نے کاروبار شروع کیا تو اس کے پاس بمشکل 5 سو روپے تھے۔ لیکن وہ ادھار پر جس تھوک والے سے مال لیتا تھا، اس سے بڑا اصول والا معاملہ کرتا تھا۔ ادھار کا وقت آنے سے پہلے ہی ادھار ادا کر دیا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ تھوک والے کا اس پر اعتماد اتنا بڑھا کہ وہ اس کو ایک لاکھ تک کا مال بھی بخوشی دے دیا کرتا تھا۔ یہی اعتبار اگر ہم اپنے گاہکوں میں اپنے متعلق پیدا کر دیں تو ہمارا کاروبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔ اگر گاہک کو یہ احساس ہو جائے کہ اس دکان سے ہم جو بھی چیز لے کر جائیں گے وہ کبھی خراب نہیں ہو گی تو یہی ہماری کامیابی ہو گی۔ اب وہ خصوصیات جن کا اختیار کرنا اشیا کو فروخت کرتے وقت ضروری ہے:

من پسند چیز پہلے پیش کریں
سب سے پہلے وہی چیز پیش کریں جس کا گاہک نے مطالبہ کیا ہے اور جو اسے پسند ہو۔ اگر وہ نہ ہو تو ایمان داری سے اسے بتا دیا جائے کہ وہ چیز موجود نہیں۔ دوسری چیزیں دکھا کر اپنا اور اس کا وقت ضائع مت کریں۔ ہاں! اگر یہ اندازہ ہو جائے کہ گاہک کسی مخصوص برانڈ یا کمپنی کی چیز لینے پر مصر نہیں تو اسے متبادل بتا دیا جائے کہ وہ چیز تو موجود نہیں البتہ یہ چیز بھی اُسی کوالٹی کی ہے آپ یہ لے لیں۔

مصنوعات کی کوالٹی پرکھنے کا پورا موقع دیں
گاہک کو اس بات کا مکمل موقع اور وقت دیا جائے کہ وہ مطلوبہ چیز کو خوب اچھی طرح دیکھ لے اور تسلی کر لے۔ اس چیز سے متعلق تمام ضروری معلومات اسے مہیا کر دی جائیں۔ اگر وہ چیز چکھنے سے معلوم ہوتی ہو تو اسے چکھایا جائے۔ اگر وہ ایسی چیز ہو کہ جس میں مطبوعہ لٹریچر کا مہیا کرنا ضروری ہو تو اسے وہ لٹریچر مہیا کر دیا جائے۔ غرض اس کی خوب خوب تسلی کروا دی جائے۔

اصل گاہک کو پہچانیے
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گاہک کے ساتھ کوئی بزرگ یا اس کا کوئی دوست بھی ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر دکان دار کا کام اصل خریدار کو پہچاننا ہے۔ آیا گاہک ہی چیز کو خریدے گا یا اس کے ساتھ آئے ہوئے شخص کے مشورہ کی زیادہ اہمیت ہے اور گاہک اس کے کہنے پر ہی چیز کو خریدے گا تو ایسی صورت میں دکان دار کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ کا مرکز اسی شخص کو بنائے۔

اگر ان چند خصوصیات کو ایک دکان دار اختیار کرے تو یقیناً اس کا کاروبار اور اس کی دکان ترقی کی منازل کو کچھ عرصے میں ہی طے کر لے گی۔