گذشتہ صدی میں دیوار برلن کے انہدام اور سویت یونین کی شکست کے بعد عالمی سطح پر سب سے اہم سوال یہ اٹھا کہ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہ کس سمت جا رہی ہے؟ اس بحث میں سب سے اہم سوال گلوبلائزیشن (جو 1897ء میں یہود قیادت نے پروٹوکولز کے نام سے تشکیل دی تھی) کے بارے میں پیدا ہوا کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے کیا اقدامات ہوں؟ اس کے اثرات و نتائج کیا ہوں گے؟

چنانچہ گذشتہ چند عشروں سے مختلف اخبارات و رسائل اور تحقیقی جرائد میں عالمگیریت کے موضوع پر جتنا کچھ لکھا جا چکا ہے اور مسلسل لکھا جا رہا ہے، شاید ہی کسی اور موضوع پر اتنا لکھا گیا ہو۔ ذیل میں ان سوالات سے متعلق کچھ اہم نکات پیش خدمت ہیں:

عالمگیریت کی حقیقت کیا ہے؟
عالمگیریت استعمار(Colonialism) اور استشراق (Orientalism) کی دو تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے،جس کے ذریعے مغربی اور صہیونی طاقتوں کے مالی تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ان کے مذہبی عقائد،اخلاقی اقدار اور معاشرتی ثقافت کو عالمی جامہ پہنا کر پوری دنیا میں رائج کیا جائے۔

عالمگیریت کے پانچ بڑے مقاصد
1 دنیا پر سیاسی برتری کا حصول
2 دنیا پر اقتصادی برتری کا حصول
3 دنیا پر مغربی معاشرتی، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کا تسلط
4 پوری دنیا میں مغربی زبان و ادب کی ترویج
5 عالمی عدالت اور سلامتی کونسل کے ذریعے پوری دنیا پر مغربی حکمرانی کا قیام

عالمگیریت کو نافذ کرنے کے لیے مجوزہ عملی اقدامات
1 اقتصادی اور معاشی برتری کے حصول کے لیے مقامی حکومتوں کو اخلاقی اقدار سے عاری اور کرپٹ حکمرانوں کے ذریعے کمزور کرنا
2 عالمی تنظمیں (جو مغرب کی یک قطبی حکمرانی میں خلل ڈال سکتی ہوں) ختم یا غیر مؤثر کرنا
3 اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں آزاد فوجی مداخلت کرنا
4 کسی خاص مذہب، قوم یا وطن سے وابستہ ہونے کے احساس کو ختم کرنے کے لیے انسانیت کا نعرہ لگا کر ہر چیز میں یکسانیت پیدا کرنا
5 آپس کی تفرقہ بازی کے ذریعے مسلمانوں کے ذہن سے یہ نکال دینا کہ وہ ایک ہی ملت و قوم ہے

عالمگیریت (Globalization) کے چند عملی مظاہر
1 پوری دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیو کا قیام۔ چنانچہ دنیا کی 500 بڑی کمپنیوں میں 308 سے زائد کمپنیاں مغربی دنیا کی ہیں، جن کے ذریعے دنیا کی آدھی سے زائد مصنوعات پر امریکا اور یورپ کا قبضہ ہے۔ ان کمپنیوں میں سے:
٭ اے بی بی نامی کمپنی 60 بڑی کمپنیوں کو اپنے اندر ضم کر کے افریقہ کی 130 بڑی کمپنیوں سے بڑا حجم رکھتی ہے۔ ٭ نیسلے 8500 سے زائد مصنوعات کے ساتھ 100 سے زیادہ ملکوں میں کام کرتی ہے، صرف دبئی کی فیکٹری 100 مربع کلو میٹر ہے۔
٭ جیلٹ 200 سے زائد ملکوں میں کام کرتی ہے، سالانہ 100 ارب ڈالر سے زائد کی اشیا فروخت کرتی ہے۔ ٭ کوکا کولا 400 سے زائد مصنوعات کے ساتھ 200 سے زائد ملکوں میں کام کرتی ہے، روزانہ ایک ارب 23 کروڑ سے زائد مشروبات کی بوتلیں فروخت کرتی ہے۔
٭ ٹویوٹا موٹرز(جاپانی کمپنی) 3 لاکھ سے زائد ملازمین کے ساتھ 20 ممالک میںفیکٹری چلا رہی ہے۔ 2000ء میں اس کی مصنوعات سالانہ 9 ملین گاڑیوں پر مشتمل تھی، اس نے 2007 ء میں 202 ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات فروخت کیں۔
2 عالمی اور مقامی میڈیا پر تسلط۔ دنیا کی پانچ بڑی میڈیا فرمز: والٹ ڈزنی، ٹائم وارنر، وایا کام، نیوز کارپوریشن اور سونی غیر مسلموں اور بالخصوص یہودیوں کے قبضے میں ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلمی صنعت کے 99 فیصد حصے پر یہ قابض ہیں جن کے ذریعے دن رات پوری دنیا کے دماغ کو مسخر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
3 پوری دنیا میں این جی اوز کے ایک وسیع اور مؤثر نیٹ ورک کا قیام۔ صرف پاکستان کے صوبہ پنجاب میں میں این جی اوز کے 33 ہزار 168، سندھ میں 16 ہزار 891، بلوچستان میں 35 ہزار 367 اور خیبر پختونخواہ میں 3 ہزار 33 ادارے رجسٹرڈ ہیں۔
4 مسلم ممالک میں معیشت کی بنیادوں: بینک، انشورنس کمپنیاں، اسٹاک مارکیٹس وغیرہ پر مغربی اداروں کی گرفت
5 بیرونی طاقتوں کی طرف سے سیکولر سیاسی جماعتوں کی حمایت اور انہیں اپنے اہداف کے حصول کے لیے سرگرم رکھنا
6 مسلمانوں میں لسانیت و قومیت کے جراثیم پیدا کر کے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا
7 عدلیہ، قومی اسمبلی، سینٹ اور بیوروکریسی میں مغربیت پسند افراد کو اونچے عہدوں تک پہنچانا
8 غربت، جہالت، امراض جیسی کمزوریوں کے خاتمہ کے بہانے معاشرے کے تمام طبقات میں این جی اوز کا اثر و نفوذ حاصل کرنا
9 اقوام متحدہ کی چھتری کے نیچے مغربیوں کے ہر نا جائز اقدام کو سند جواز عطا کرنا۔ دنیا کے 140 ممالک میں امریکی فوج کی تعیناتی، افغانستان پر کلسٹر بموں کی برسات اور عراق پر کارپٹ بمباری اسی جواز کے تحت کی گئی۔ یہ منظم قتل عام اور مختلف سازشیں اب بھی جاری ہے۔ عالمگیریت کے حوالے سے کیا رد عمل ہونا چاہیے؟

چند تجاویز
1 مغربی عالمگیریت کو من و عن تسلیم کرنے کا رویہ کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں، اس کو بالکلیہ تسلیم کرنے کے ساتھ دین اسلام سے وابستگی اور ملکی سالمیت کو برقرار رکھنا ممکن نہیں
2 عالمگیریت کے نظریے اور اس کے ذرائع کو مکمل طور پر رد کرنا بھی متعدد معروضی حقائق کے پیش نظر ممکن نہیں
3 عالمگیریت کے حوالے سے مفید لائحہ عمل یہی ہو سکتا ہے کہ اس کے مثبت پہلوؤں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے اور اس کے منفی پہلوؤں سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں: ٭ مسلمانوں کے مختلف طبقات کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے، خصوصا ماہرین علوم شریعت اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ٭ امت کی وحدت کے درد رکھنے والے باصلاحیت اور بالغ نظر علما اور دانشوروں کی ایک جمعیت بنانا جو عالمیگیریت کے منفی اثرات سے تحفظ کے سلسلے میں مختلف قابلِ عمل پالیسیاں تشکیل دے اور اس حوالے سے سیاست دانوں، ارباب اقتدار، ماہرین تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں فکر بیدار کرنے کی کوششیں کرے ٭ میڈیا (جو دشمن کا سب سے بڑا ثر انگیز اور ہمہ گیر ہتھیار ہے) کا مؤثر طریقے سے ملک و ملت اور اسلام کی حفاظت اور غلبے کے لیے استعمال شروع کرنا۔ اس سلسلے میں ایران ٹی وی، حزب اللہ کا میڈیا اور الجزیرہ کو پیش نظر رکھا جا سکتا ہے
٭ دینی و عصری تعلیمی اداروں میں نظریاتی جنگ کے حوالے سے مؤثر و جامع نصاب سازی اور تعلیم کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنا
٭ اقتصادی اور معاشی میدانوں میں اسلامی اصول اور عملی طریقوں کو ترویج دینے کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرنا اور ادارے تشکیل دینا