زین ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ وہ کاروبار کرنا چاہتا تھا، مگر اس کے پاس سرمایہ نہیں تھا۔ اس نے قرض کے لیے دوستوں، ساتھیوں اور رشتہ داروں سے رابطے کیے، مگر بے سود۔ آخر کار اس کی شادی ایک مال دار عورت صائمہ سے ہو گئی۔ شادی ہوتے ہی صائمہ نے اپنا سارا مال اس کے قدموں میں ڈال دیا۔ زین نے اس مال سے ہارڈ وئیر کا کاروبار شروع کر دیا۔ اللہ تعالی نے مال اور اولاد دونوں میں خوب برکت دی۔ زین اور صائمہ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ صائمہ کو اچانک کینسر کا مرض لاحق ہو گیا اور وہ دو ماہ ہسپتال میں گزارنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملی۔

زین نے جلد ہی دوسری شادی کر لی۔ وہ شروع شروع میں صائمہ کے بچوں کا بہت خیال رکھتا تھا، لیکن دوسری بیوی سے اولاد پیدا ہونے کے بعد اس کے مزاج میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ نئی بیوی کے بیٹے وسیم کی محبت آہستہ آہستہ اسے دوسری اولاد کے حقوق سے غافل کرنے لگی۔ اس نے اپنی ساری جائیداد وسیم کے نام کرا دی اور صائمہ کے بچوں کو اس سے یکسر محروم کر دیا۔ وسیم اب جوان ہو چکا تھا۔ جوانی کے جنون اور ناانصافی کے خون نے اپنے جوہر دکھانا شروع کیے تو ان کے اثرات سے زین بھی نہ بچ سکا۔ وسیم نے اسے بھی آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ زین اب ایک ایک پیسے کے لیے وسیم کا محتاج ہو گیا تھا۔
آج زین کی زندگی کے مختلف مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے آتے، اسے رلاتے اور غائب ہو جاتے ہیں۔ زین اگر صائمہ کی اولاد کو مدد کے لیے پکارتا بھی تو کس منہ سے؟ وہ اب موت کے انتظار میں بے چین ہے، لیکن موت بھی شاید اس سے روٹھی ہوئی ہے۔
زین کی یہ کہانی ہمارے معاشرتی بگاڑ اور اس کے تباہ کن اثرات کی آئینہ دار ہے۔ جنہیں والد ہونے کا اعزاز حاصل ہے، وہ اس منصب کے فرائض سے نا آشنا ہیں یا ان کی بجا آوری سے غافل۔ وہ کسی ایک بچے کی محبت یا بیویوں کے بہکاوے میں آ کر اپنی جائیداد کی تقسیم کے سلسلے میں دیگر بچوں سے ناانصافی کرنے لگتے ہیں۔ منظور ِنظر اولاد کے علاوہ دیگر اولاد کو کبھی ان کے حصے سے کم اور کبھی سرے سے ہی محروم کر دیتے ہیں۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ شریعت اس سلسلے میں ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا بابرکت زمانہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما ہیں۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کے والد محترم اپنے اس بیٹے کے ہمراہ مجلس اقدس میں تشریف لاتے ہیں۔ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کے طور پر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے دیگر بچوں کو بھی اسی طرح ہدیے دیے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ نے حضرت نعمان سے وہ غلام واپس لے لیا۔ (بخاری: باب الھبۃ للولد، رقم: 2446،2447)
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ والد کے لیے عام حالات میں بعض اولاد کو زیادہ جائیداد دینا اور دیگر بعض کو کم دینا یا بالکل محروم کر دینا، جائز نہیں۔ والد اگر زندگی میں ہی اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اس صورت میں تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر حصہ دینا ضروری ہے۔
البتہ غیر معمولی حالات کے احکام اس سے کچھ مختلف ہیں، مثلاً:
T ایک بیٹا فرماں بردار جبکہ دوسرا نافرمان ہو تو اس صورت میں نافرمان بیٹے کی اصلاح کی غرض سے فرماں بردار بیٹے کو زیادہ اور نافرمان بیٹے کو کم دینا جائز ہے۔
T اگر ایک بیٹا مال دار اور دوسرا بہت غریب ہو تو مال دار بیٹے کو اعتماد میں لے کر غریب بیٹے کو زیادہ مال دینے میں کوئی حرج نہیں۔
T اسی طرح اگر ایک بیٹا نیک، صالح ہو اور دوسرا ایسا بگڑا ہوا ہو کہ اس کو مال و جائیداد دینے کی صورت میں یہ بات یقینی ہو کہ وہ اسے ناجائز اور گناہ کے کاموں میں خرچ کرے گا تو اس کو کم مال دینا یا بالکل محروم کر دینا جائز ہے۔
اگر آپ صاحبِ اولاد ہیں تو ان کے درمیان انصاف کیجیے۔ جائیداد اور دیگر مال و دولت کی تقسیم میں ناانصافی سے بچیں۔ اس سلسلے میں غیر متوازن رویوں کی وجہ سے اولاد کے دلوں میں حسد اور نفرت کے جذبات جنم لیتے ہیں، جو گھریلو سکون کو غارت کر دیتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں! بچے کانچ کے برتنوں کی طرح ہوتے ہیں، جو ایک دفعہ ٹوٹ جائیں تو پھر کبھی نہیں جڑتے۔ ان کو ٹوٹنے سے بچائیں۔ یہ آپ کے بڑھاپے کا سہارا ہیں۔ ان سہاروں کو کسی نادانی کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

 



٭… زین عبرت کا نشان بن چکا تھا۔ آج اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو رہا تھا۔ یہ اس کا مکافات عمل تھا، جسے وہ بھگت رہا تھا۔ ٭