ضرورت کی تعریف (علامہ شاطبی کے مطابق) ہم یہ کر سکتے ہیں کہ جو اُمور (خواہ وہ عمومی ضابطے کے لحاظ سے جائز ہوں یا عام حالات میں حرام ہوں) ان ''پانچ مصالح'' یا ان میں سے بعض کے حصول کے لیے اس قدر ضروری اور لازمی ہوں کہ ان کے فقدان کی وجہ سے ان مصالح یا ان میں سے بعض کے ضائع ہو جانے کا یقین یا ظن غالب ہو تو ایسے امور کو ''ضرورت'' قرار دیا جائے گا، نیز اس حالت (مقاصد میں سے کسی بھی مقصد کے فوت ہونے کے اندیشے کی حالت) کو ضرورت کی حالت کہا جائے گا۔


٭…ضرورت، اضطرار سے وسیع ایک مستقل فقہمی اصطلاح ہے اور اضطرار اس کی ایک قسم ہے، دونوں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے

اب اس مفہوم کے لحاظ سے ضرورت، اضطرار سے وسیع ہو کر ایک مستقل فقہی اصطلاح ہے اوراضطرار اس کی ایک قسم ہے، دونوں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے۔
آج کے زمانے میں مقاصدِ خمسہ کا زوال
آج کل مسلمانوں کے حالات کو اگر باریک بینی سے ملاحظہ کیا جائے تو دشمنانِ اسلام کی طرف سے ان پانچ بنیادی مصالح میں سے ہر ایک کے خلاف باقاعدہ تحریکیں اور سرگرمیاں ہر ملک اور عالمِ اسلام کے طول و عرض میں چل رہی ہیں، خصوصاً ''میڈیا وار'' کے ذریعے ان مصالحِ خمسہ کا قلع قمع کیا جا رہا ہے اوربہت سارے مسلمان ان کی غلط تبلیغ سے متاثر ہو کر مرتد ہو رہے ہیں، اپنی دین و دنیا خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ حالات کی خرابی کی اس دلدل میں مناسب وسائل کے ساتھ ایسے اقدامات کرنا فقہ اسلامی کی روسے ایک ضرورت ہے، جن سے عمومی طور پر مسلمانوں کے دین، نسل، عقل اور مال وغیرہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ یہ تو ایک عمومی اُصول ہے، اس کی تفصیلات علمائے کرام مل بیٹھ کرطے کرسکتے ہیں۔
ضرورت کی یہ دوسری (علامہ شاطبی کی) تعریف کئی وجوہ سے مناسب قرار پاتی ہے۔ ایک تواس میں جامعیت ہے کہ پورے دین کی اساسی باتوں کی رعایت و حفاظت پر مشتمل ہے، دوسری طرف ضرورت کے لغوی معنی بھی اصطلاحی معنی کی اس وسعت پر دلیل ہےں، لغت کی کتابوں، مثلاً: لسان العرب اورتاج العروس میں ضرورت کو حاجت کا مترداف قرار دیا گیاہے اورظاہر ہے حاجت صرف حالتِ اضطرار کو نہیں کہا جاتا۔ چنانچہ اہل لغت فرماتے ہیں: والضرورۃ: ویجمع علی الضرورات، والضرر أیضا: الضیق.
یعنی ضرورت کامعنی ہے تنگی میں ہونا اور محتاج ہونا۔
نیز مشہور لغوی ابو الدقیش کے حوالے سے تاج العروس اور لسان العرب میں ہے کہ ضرورت ضرر سے لیا گیا ہے، لہٰذا اس کی تعریف یہ ہو گی: کل ماکان من سوء حال، وفقر، أو شدۃ فی بدن.
''انسان کو مختلف حالات میں جونقصان، تنگی اورمشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس حالت کو ضرورت کہا جائے گا۔''
قرآن کی رو سے انسانی طاقت اور وسعت کا مفہوم
علامہ شاطبی کی تجویز کردہ تعریف کے راجح ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی جن آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شریعت میں حرج کا وجود نہیں اورشرعی احکام حرج کے بجائے آسانی پر مشتمل ہیں، ان میں ایک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے: لااَا یُکَلِّفُ اﷲُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۔
اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ انسانی وسعت کے بقدر ہی اللہ تعالیٰ کسی انسان کو شرعی احکام کا مکلف فرماتے ہیں۔ اب انسانی وسعت کا مفہوم کیا ہے؟ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: إنہ ما یقدر الإنسان علیہ فی حال السعۃ والسہولۃ، لا فی حال الضیق والشدۃ، وأما أقصی الطاقۃ فیُسمّی جھدا لا وسعا.
''اس آیت میں لفظ وسع کا مطلب یہی ہے کہ جو چیز انسان سہولت کے ساتھ کسی غیر معمولی حرج و مشقت کا شکار ہوئے بغیر عمل میں لا سکے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حکم پر سو فیصد عمل کرنے میں انسان اپنی آخری ممکنہ طاقت صرف کرے، کیونکہ اقصی الطاقۃ کو عربی میں جُہد کہا جاتاہے نہ کہ وسع، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اِلَّا وُسْعَہَا فرمایا ہے، الّا جھدھا نہیں فرمایا۔ اسی طرح علامہ زمخشری نے بھی کشاف میں اور علامہ آلوسی نے روح المعانی میں یہ بات فرمائی ہے اورساتھ ہی مثالوں کے ذریعے اس کو واضح فرمایا ہے کہ دیکھیں انسان دن رات میں پانچ نمازوں سے زیادہ پر قادر ہے، سال میں ایک ماہ سے زائد روزہ رکھنے پرقادر ہے، اسی طرح جسے استطاعت ہو وہ عمر میں ایک بار سے زیادہ حج کرنے پر قادر ہے، اڑھائی فیصد سے زیادہ زکوۃ دینے پر قادر ہے، لیکن اس کے باوجود شریعت نے یہ احکام نہیں دیے، کیونکہ وہ انسانی طاقت میں اگرچہ داخل ہیں لیکن وسع جس کامفہوم ابھی بیان ہوا، اس کے تحت نہیں آتے۔