وژن کیا ہے؟
وژن (Vision)کہتے ہیں:’’ مستقبل کی وہ تصویر جسے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ دبئی کے شیخ محمد نے اپنی ایک کتاب میں وژن کا ترجمہ ’’الرؤیا‘‘ سے کیا ہے۔مطلب ہے: دیکھنے کی صلاحیت یعنی ’’بصیرت۔‘‘ اسی کو انگریزی میں وژن سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک وہ چیز جو نظر کے سامنے ہے۔ اسے دیکھنے میں بچہ، بڑا، مسلمان، کافر سب برابر ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سامنے نظر آنے والی چیز کو آنکھ سے تعبیر نہ کرنا، بلکہ ذہن سے تعبیر کرنا کہ  میں دیکھ رہا ہوں

کہ کل کو ایسا ہونے والا ہے، مثلاً: کسی کا بچہ صحیح زندگی نہیں گزار رہا تو وہ کہتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہیں میرا بچہ آگے جا کر اوباش نہ بن جائے۔ حالانکہ اس کی آنکھوں کے سامنے فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے، اسی کو بصیرت کہتے ہیں۔ ہماری وژن سے یہی مراد ہے۔ دو زندگیاں، دو وژن
بامقصد زندگی دو پہلو وںپر مشتمل ہے:دینی اور دنیاوی۔
1 دینی پہلو میں اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا بامقصد زندگی کہلاتا ہے۔
2 دنیاوی پہلو میں ایک منزل کو سامنے رکھ کر، اس منزل تک پہنچنے کے بعد جو زندگی شروع ہوتی ہے، اس کو بامقصد زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


چڑھتی جوانی اور بڑھتی امنگوں کے موڑ پر انسان کئی ایک سپنے دیکھتا ہے۔ ضروری تعلیم، کامیاب بزنس اور خوش حال گھرانہ۔ ماہرین کے بقول وژن کے بغیر کوئی زندگی مکمل نہیں، بھول بھلیوں کا ایک سلسلہ ہے اور بس! ایک تاجر کے لیے اس کے بنا چارہ نہیں، کیونکہ اس کا نقصان بہت سے ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ زیر نظر تحریر ایسے اصول ہمیں دیتی ہے جو ہمیں واضح مقصد زندگی عطا کریں گے، جن کے ذریعے ہم کامیاب اور مثالی تاجر بننے کے اپنے خواب کو بہت جلد شرمندہ تعبیر کر سکیں گے۔

مثال کے طور پر میں 18سال کا ہوں۔ کالج میں پڑھ رہا ہوں۔ ابھی بامقصد زندگی نہیں گزار رہا۔ جب میں یونیورسٹی جاؤں گا، وہاں سے ڈگری لوںگا۔ اچھی نوکری لگے گی، شادی کروں گا۔ بچے ہوں گے۔ اونچی پوسٹ پر پہنچوں گا، پھر جا کر میری بامقصد زندگی شروع ہو گی۔
راستے پر چلنے یا منزل تک پہنچنے میں ، مسلم اور غیر مسلم کے زاویہ نگاہ میں بڑا فرق ہے۔ غیر مسلم سوچتا ہے کہ میں کسی منزل پر پہنچوں گا تو وہاں سے میری بامقصد زندگی شروع ہو گی، جبکہ مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ منزل کی تگ و دو میں لگے رہنا ہی بامقصد زندگی ہے۔ مسلمان کے ہاں منزل سے مراد اللہ کے احکامات پرعمل کرنا اور جنت کا حصول ہوتا ہے۔ جبکہ غیر مسلم کی تگ ودو صرف دنیا کے لیے ہوتی ہے۔اسی سے سمجھ آتا ہے ایک غیر مسلم کا وژن محدود، جبکہ مسلمان کا وژن بے شمار وسعتیں لیے ہوئے ہے۔ اس کی مزید وضاحت اس واقعے سے ہو گی۔
دبئی کے ایک بزنس مین کی ملاقات محمد سلیمان نامی ایک پاکستانی سے ہوئی۔ بزنس مین کی عمر35سال تھی۔ اس نے کہا: جب میں اپنے سامنے سے کوئی جنازہ جاتے دیکھتا ہوں تو آرزو کرتا ہوں کہ کاش! یہ جنازہ میرا ہوتا!! محمد سلیمان نے پوچھا: کیا کوئی مالی پریشانی ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا: نہیں! میرے پاس دولت کی کمی نہیں، کاروبار بھی بہت اچھا چل رہا ہے۔ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ہوئی ہے۔ میں ایک اچھی کمپنی کا ہیڈ ہوں، گھر میں بھی کوئی پریشانی نہیں۔ سلیمان صاحب نے پوچھا: پھر مسئلہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے اب اپنی زندگی بے مقصد نظر آ رہی ہے۔ میری زندگی کا وژن 50،55 سال کا تھا۔ لیکن وہ 35سال میں ہی مکمل ہو گیا ہے۔ بچپن میں، میں نے سوچا تھامیں اپنا وژن 50،55 سال میں پورا کر کے باقی 4،5 سال ویسے گزار لوں گا اور دنیا سے چلا جاؤں گا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے وژن کے تمام مراحل بہت جلد طے ہو گئے۔ سب کچھ 35برس میں پا لیا ہے۔ اب سمجھ نہیں آتا کروں کیا؟اب جوان ہوں، جوش بھی ہے۔ زندگی میں کچھ کرنے کی اُمنگ بھی، لیکن سامنے کوئی وژن نہیں کہ کرنا کیا ہے؟در اصل اس نے کافروں کے دیے ہوئے وژن کو اپناوژن بنایا تو بہت جلد اسے اپنے سامنے سارے راستے بند نظر آنے لگے۔ معلوم ہوا بامقصد زندگی یہ ہے کہ ہمارا وژن اور مقصد اتنا بلند ہو کہ آدمی اگر اس پر چلنا شروع کردے تو کسی موڑ پر اس کا راستہ دھندلائے نہیں۔ تعریف اور مصداق جدا جدا
ہم نے گزشتہ تفصیل میں یہ بات سمجھ لی کہ ’’ وژن کہتے ہیں کہ مستقبل کی وہ تصویر جسے میں اور آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘یہ نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ جب ہم کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں تو تعریف کے الفاظ تو یکساں ہوتے ہیں۔ ان مختلف تعریفوں میں کم و بیش بات ایک ہی ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم زندگی کے اندر اس چیز کا حوالہ اور مصداق اس سے پوچھتے ہیںتو پتہ چلتا ہے ہر ایک کی مراد دوسرے سے مختلف تھی۔ جیسے یہ کہنا کہ میں اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں، لیکن ’’اچھی‘‘ کا مطلب آپ کے ہاں اور، جبکہ میرے ہاں مختلف ہے۔ جب دو آدمی مل کر طے کریں کہ ہم اچھی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ دونوں اچھی زندگی گزارنے میں ہم خیال بن گئے۔ کل کو ایک کہے کہ کمرے میں اے سی لگانا اچھی زندگی ہے، دوسرا کہے اے سی کا نہ لگانا اچھی زندگی ہے۔ اب ان دونوں میں اختلاف ہو گیا، لہذا پہلے سے طے کرنا ضروری ہے کہ اچھی زندگی سے مراد کیا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔
کراچی میں چندڈاکٹروں نے مل کر غریبوں کے علاج کے لیے ایک’’Excellen‘‘ہسپتال کھولنے کا ارادہ کیا۔جب انہوں نے اپنے ہسپتال کی بنیاد رکھی تو ان کے ذہن میں تھا ہم ایک ایسا ہسپتال بنانا چاہتے ہیں جو ’’بہترین‘‘ ہو۔ سب ڈاکٹروں نے اس پر اتفاق کر لیا، لیکن جیسے ہی کام آگے بڑھا، مسائل سامنے آئے۔ اس کے لیے زمین کہاں خریدنی ہے؟ تعمیر کے اخراجات کہاں سے ہوں گے؟ ڈاکٹروں کی ماہانہ سیلری کتنی ہو گی؟ مشینری کتنے کی آئے گی؟ وغیرہ۔ جب ہسپتال بننا شروع ہوا تو پہلے دن ہی یہ اختلاف کھڑا ہو گیا۔ ایک نے کہا: ہم یہ مشینری نہیں خریدیں گے، ہم تو ایسی مشینری خریدیں گے جو سب سے اعلیٰ ہو، کیونکہ ہم نے توExcellentہسپتال بنانا ہے۔ دوسرے نے کہا: نہیں بھائی! بہترین ( Excellent) کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ہم اعلیٰ مشینری ہی خریدیں تو ہسپتال بہترین کہلائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی کم لاگت میں لوگوں کو صحت کی سہولیات دی جائیں۔
تیسرے نے کہا: ـبہترین(Excellent) کا مطلب بہترین اسٹاف ہے نہ کہ بہترین مشینری ۔اب تینوں ’’بہترین‘‘ پر تو متفق ہیں، مگر سب کا ’’بہترین‘‘ الگ الگ ہے۔ وہی ڈاکٹرز جو دوسروں پر جان دینے کے لیے تیار تھے، اب یہ ایک دوسرے کی جان لینے کو آ گئے۔ کچھ دنوں بعد یہ متفقہ بزنس اختلافات کا شکار ہوا اور رفتہ رفتہ اس کا نام و نشان نہ رہا۔
کمپنیوں میں بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ سب پارٹنرز شروع شروع میں ایک قسم کے بزنس پر متفق ہوتے ہیں، لیکن آخر میں جا کر اختلافات میں بدل جاتے ہیں۔ لہذا اس قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وژن کی تعریف اور مصداق پہلے دن سے ہی واضح ہونا چاہیے۔ کمپنیاں وژن کو اس طرح تعبیر کرتی ہیں کہ انہوں نے کس طرح کا کاروبار کرنا ہے۔بعض تاجر وژن کو منزل سے تعبیر کرتے ہیں، وغیرہ۔ وژن کی بنیادیں
وژن کے دو بنیادی جز ہیں:
(1) وژن کی صفات، (2)
وژن کا فنگشن۔
یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ معنی میں تقارب کی وجہ سے دونوں کو ایک سمجھ لیا جاتاہے۔ مثال کے طور آپ کے پاس ایک گاڑی ہے۔ کسی نے پوچھا:آپ کی گاڑی کی خصوصیات کیا ہیں؟ کہا: میری گاڑی فورویل ڈرائیو ہے۔ انتہائی مضبوط باڈی والی اور خوش رنگ ہے۔ یہ گاڑی کی صفات ہیں۔ پوچھنے والے نے مزید سوال کیا: اس کے فوائد کیا ہیں؟ اس نے جواب دیا: اس میں مٹی نہیں پھنستی، پہاڑوں اور ریگستانوں میں بھی چلتی ہے۔ معلوم ہوا کہ صفات اور فوائد دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔
وژن کی صفات
وژن کی صفات درج ذیل ہیں:
1 وژن قابل عمل ہو۔
2 وژن قلیل المدت بھی ہو سکتا ہے اور کثیر المدت بھی۔ وژن میں کچھ چیزیں وقت کی وجہ سے اور کچھ وسائل اور صلاحیت کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکتیں۔
3 وژن وضاحت سے لکھا ہو۔ دیکھ لینا چاہیے کہیں اس کے اندر ایسی بات تو نہیں جس کی وجہ سے بعد میں ندامت کا سامنا کرنا پڑے۔ آپ بعد میں کہیں میں نے تو ایسے لکھا تھا اور میری اس سے مراد یہ تھی۔
4 جو قربانی اس وژن کو مکمل کرنے کے لیے درکار ہے وہ قربانی میں دے سکوں گا یا نہیں۔ یہ قربانی جانی اور مالی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے۔
دو وضاحتیں
1 اکثر طور پر ہم جو وژن بناتے ہیں، وہ خواب ہوتا ہے۔ وژن اور خواب میں بڑا فرق ہے۔ خواب میں تمنا یا آرزو ہے۔ اس کے پیچھے جو قربانی ہوتی ہے، وہ ہم دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے خواب خواب ہی رہتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی خواب ایسا ہو جس کے لیے ہم قربانی دینے کے لیے تیار ہوں تو یہ وژن ہے، خواب نہیں۔
2 وژن کبھی اصول و قواعد کے لحاظ سے درست ہوتا ہے، مگر وژن اپنی ذات میں درست نہیں ہوتا۔ آج کل بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم مستقبل میں سٹہ باز، شراب خور یا سب سے بڑے ڈاکو بنیں گے، لہذا یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا وژن درست ہو، غلط نہ ہو۔ ایک آدمی کا وژن قابل عمل ہے اور وہ اس کے لیے قربانی دینے کو بھی تیار ہے لیکن اس کا وژن درست نہیں تو ایسا وژن اس آدمی کے لیے سخت نقصان کا باعث ہے۔ اسی بات کو بالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیںکبھی ایک وژن ایک آدمی کے نزدیک درست ہوتا ہے اور وہی وژن دوسرے آدمی کے ہاں غلط ہوتا ہے۔ شراب کا فروخت کرنا، غیر مسلم کے ہاں درست، جبکہ مسلمان کے ہاں غلط ہے۔ وژن کے فوائد
1 وژن زندگی کو ایک رخ دیتا ہے کہ میں نے کرنا کیا ہے۔
2 وژن انسان کو ایک راستہ بتاتا ہے کہ میں نے پہنچنا کہاں ہے۔ ایک پرانے ناول میں ایک بلی اور بچی کی کہانی ذکر کی گئی ہے۔ اس میں ایک7،8سالہ بچی اپنا راستہ کھو جاتی ہے۔ وہاں ایک درخت کے اوپر بلی بیٹھی ہوتی ہے۔ بچی اس بلی سے کہتی ہے کہ میں اپنا راستہ کھو چکی ہوں، لہذا تم راستے کی راہنمائی کرو۔ بلی نے پوچھا: تم نے جانا کہاں ہے؟ بچی نے جواب دیا: یہ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے کہاں جانا ہے۔ بلی نے بچی کو جواب دیا: جب خود تمہیں ہی پتا نہیں کہ میں نے کہاں جانا ہے تو پھر میں آپ کی راہنمائی کیسے کر سکتی ہوں؟؟
3 وژن ہمیں آگے بڑھنے کا شوق دلاتا ہے۔ حالات خواہ جیسے بھی ہوں مجھے فلاں کام ضرور کرنا ہے۔
4 وژن ہمیں اپنے کام میں استقامت دیتا ہے ،مثلاً: کوئی غیر متوقع چیز پیش آجائے تو اگر ہمارا کوئی وژن ہو گا تو ہم اس کو مضبوطی سے تھام سکیں گے ۔اگروژن نہیں ہو گا تو ہم پریشان ہو کر ہمت ہار بیٹھیں گے۔ بعض تاجر کسی دوسرے کی باتوں میں آ کر کوئی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اس میں ذاتی کوئی رغبت نہیں ہوتی۔ پھر جونہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً اس کاروبار کو چھوڑ دیتے ہیں۔کیوں کہ یہ ان کا ذاتی وژن نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے تھوڑی سی مشکل میں بھی وہ ہار مان لیتے ہیں۔ اگر اپنا ذاتی کوئی وژن ہو تو انسان حتی الامکان اس کو مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خاص وژن کی خاطر طویل قربانی کی مثال جنوبی افریقہ کے وزیر اعظم نیلسن منڈیلا کی ہے۔ اس نے صرف سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی آواز اٹھانے کی وجہ سے42سال جیل کاٹی ہے۔ اب یہ افریقہ کا وزیر اعظم ہے۔ اس کی عمر85سال سے زائد ہے۔ گویا اس نے اپنے وژن کی تکمیل کی خاطر اپنی آدھی زندگی قید میں گزار دی۔ طویل قید وبند کی یہ صعوبتیں اسے اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹاسکیں۔ یہ سب کچھ اس نے اپنے ذاتی وژن کو پورا کرنے کے لیے کیا ہے۔ اگر اس کا ذاتی وژن نہ ہوتا تو جیلوں کی مصیبتوں کی وجہ سے وہ ہار مان جاتا اور کبھی بھی افریقہ کا وزیر اعظم نہ بن سکتا۔ آج افریقہ کے نوٹوں پر اسی کی تصویر چھپتی ہے۔
5 اگر ہمارا ذاتی کوئی وژن نہ ہو تو یہ عین ممکن ہے ہم کسی اور کے وژن کا حصہ بن جائیں۔ آپ جانتے ہیں بہت سارے ایسے نوجوان جن کا اپنا ذاتی کوئی وژن نہیں ہوتا ، وہ بہت بڑے چور، ڈاکو، اور جوّے باز بن جاتے ہیں۔
6 وژن ہمیں زندگی کے اندر کچھ کردار ادا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وژن اور مقصد ساتھ ساتھ
وژن کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی مقصد ہونا بھی ضروری ہے، ورنہ خالی وژن زندگی کے لیے نقصان دہ ہے، مثلاً: کسی کا وژن یہ ہو کہ میں نے کراچی کا سفر کرنا ہے۔ اب کراچی کا سفر کرنا کیوں ہے؟ وہ جواب دے کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے کراچی کا سفر کیوں کرنا ہے۔ یہاں پر وژن تو موجود ہے لیکن مقصد موجود نہیں ہے، لہذا وژن کے ساتھ ساتھ اس کا کوئی مقصد ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر ہم تاجر ہیں تو صرف تجارت ہمارا مقصد نہ ہو، بلکہ اللہ کی رضا، مخلوق کی خدمت اور بیوی بچوں کے لیے حلال رزق کمانا ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے۔