ریسرچ اسکالر، کراچی یونیورسٹی
نظام زندگی کے کچھ کام ایسے بھی ہیں جو ہر صورت میں حکومتِ وقت کی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ ان امور میں سے چند کام پراپرٹی سے متعلق بھی ہیں۔ تاہم اس میں بنیادی کردار تاجر تنظیموں کا ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اپنے ذرائع سے ان مسائل کے حل کے لیے پیش رفت کریں تو بہت جلد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس موضوع پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ جائیداد کی خریدو فروخت میں موجود تمام چور دروازے بند ہو کریہ کاروبار شفاف بن سکے۔

راقم کی تحقیق کا موضوع پراپرٹی کے جدید معاملات اور ان کی شرعی بنیادوں سے متعلق ہے، لہذا درج ذیل زمینی حقائق بندہ کے ذاتی’’ فیلڈ ورک‘‘ کا خلاصہ ہیں۔ امید ہے یہ سات گزارشات قارئین کے لیے بصیرت کا باعث ہوں گی۔
پہلی گزارش -اسٹیٹ ایجنسی کی رجسٹریشن
آج کے چور بازاری کے ماحول میں جب کہ مارکیٹ میںہر طرف مگر مچھ منہ کھولے پھر رہے ہیں، جنہیں شریعت کی کوئی پروا ہے نہ ان کے نزدیک قانون کی کوئی اہمیت ہے۔ لہذا بہت ضروری ہے کہ ہر اسٹیٹ ایجنسی کی رجسٹریشن ہو ۔اس کی انتظامیہ معلوم اور متعین ہو اور ہرا یجنٹ کے پاس اسٹیٹ کے کاروبار کا اجازت نامہ یا لائسنس موجود ہو۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ ’’ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا ‘‘ جس کی کہیں سے بھی ملازمت ختم ہو جائے یا دوچار سال دوسرے ملک میںلگا کر آجائے یا کسی آفیسر کے پاس کچھ ٹائم ’’ فارغ‘‘ ہو تو وہ کچھ بھی سیکھے سمجھے بغیر اس میدان میں کود پڑتا ہے ۔ بس ایک خالی دکان، ایک نقشہ ،کباڑ کا فرنیچر، ایک اسٹیٹ ایجنسی کابورڈ اور چند فائلیں۔۔۔۔۔۔یہ لوازمات اپنے ہاں جمع کر لو،بس کاروبار تیار ہے۔ بعض ایسے شہسوار اور ماہر کھلاڑی بھی بیٹھے ہیں جو ’’کمیشن نہیں لیتے‘‘ بلکہ پوری پراپرٹی ہی ہڑپ کر جاتے ہیں ،جنہیں ’’اوپر‘‘ سے بھی سپورٹ ہوتی ہے ۔ او ر ’’ اوپر والوں کا ‘‘ شاید’’ لم سم حصہ ‘‘ پیشگی ادا کر دیا جاتا ہے ۔ بہرحال! ایسے حالات میں فی الفور ضروری ہے کہ حکومت پاکستان ایسے منہ زور گھوڑوں کو لگام دے اور ہر اسٹیٹ ایجنسی کے لیے خواہ نئی ہو یا پرانی اس کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے اور ہر اسٹیٹ ایجنٹ کے لیے لائسنس بنائے یا کوئی بھی ایسا موثر اقدام کرے جس سے غریبوں کی جائیداد لٹنے سے بچ جائے اور غریب کی چھت چھننے سے محفوظ رہے۔
دوسری گزارش- کو آپریٹو سو سائٹیز کی نگہداشت
کو آپریٹو ہائوسنگ سو سائٹیز کا رول ، طریقہ کار، قانونی کارروائی بہت آسان، قابل عمل اور بہترین ہے۔ اگر ہائوسنگ سوسائٹیز کا کام اپنے صحیح طریقہ کار سے ہو تو گھر بسانے کا یہ سب سے شاندار طریقہ ہے ،مگر مشاہدے میں یہ آتا ہے کہ سو میں سے چند ایک ہی ایسی سو سائٹیز اپنے طریق کار اور ہدف میںکا میاب ہوتی ہیں، اس کے علاوہ اکثر فراڈ، دھوکہ اور نقصان کی نذر ہو جاتی ہیں۔اس طرح کی کامیاب سو سائٹیز کی مثال ڈھونڈ نے کے لیے شہروں کا سفر کرنا پڑے گا، جب کہ نا کام سو سائٹیز کی مثالیں جگہ جگہ موجود ہیں۔ راقم ناچیز کا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ ان کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت ، انتظامیہ کی گرفت نہیں کرتی۔ من پسند افراد کی انتظامیہ ،پھر ان کی مرضی کے قوانین اور بالا ٓ خر ایک طویل عرصہ تک کاغذات کے ہیر پھیر میں رقم بٹورنے کے بعد انجام کار کچھ بھی نہیں۔ اگر حکومتی انتظامیہ اس معاملے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیتی تو یہ لوٹ مار کا سلسلہ نسل در نسل جاری رہے گا۔ چند فراڈیے تولینڈ لارڈ بن جائیں گے مگر غریب عوام کبھی قسطوں سے ہی نہ جان چھڑا پائیں گے اور یوں ہی دارِ آخرت کوسدھار جائیں گے۔ ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ کو آپریٹو سو سائٹیز سے متعلق جو ایکٹ موجود ہے اس پر عمل کروائیں ۔ ایسی نااہل انتظامیہ کے لیے قوانین سخت کریں اور ان پر عمل کو یقینی بنائیں۔