چوتھا مسئلہ-زبانی (عملی طور پر) معاملہ انجام دینے کی شرطیں:
عملی لین دین (کچھ کہے بغیر عوض اور مطلوبہ چیز کا تبادلہ کر لیا جائے، یعنی) کچھ کہے بغیر معاملہ انجام دینے کی دو شرطیںہیں:
پہلی شرط:
اس قسم کی خرید و فروخت اسی وقت درست ہو گی جب قیمت طے کی جاچکی ہو یا اس چیز کی قیمت پہلے سے معروف ومعلوم ہو، طے کرنے کی ضرورت نہ ہو۔

اگر ان دونوں میں سے کوئی صورت نہ ہو یعنی قیمت بالکل نامعلوم ہو ایسی صورت میں عملی لین دین کے ذریعے خرید و فروخت کا ایک درست (شرعی ) معاملہ وجود میں نہیں آ سکے گا۔(قواعدعامہ)

دوسری شرط:
عملی لین دین کرتے وقت اگر کسی ایک فریق (Party)نے کوئی ایسا جملہ بولا جس سے اس معاملے پر اس کی رضامندی مشکوک بن جاتی ہو تو ایسی صورت میں عملی لین دین ہو جانے کے باوجود یہ معاملہ شرعا ناقابل ِتسلیم (Avoid) ہو گا، کیونکہ عملی لین دین کے معتبر ہونے کی جو اصل وجہ تھی (یعنی فریقین کی مرضی) وہ یہاں مشکوک بن گئی ہے، جبکہ اس (فریقین کی مرضی) کا یقینی طور پر پایا جانا کسی بھی مالی معاملہ کی درستی کے لیے ضروری ہے۔(شامیہ :48/14، دارالثقافہ)


٭…عملی لین دین کے ذریعے کسی بھی مقدار مالیت کی حامل کی چیز سے متعلق معاملہ انجام دیا جا سکتا ہے ٭…فریقین کی مرضی کا یقینی طور پر پایا جانا کسی بھی مالی معاملے کی درستی کے لیے ضروری ہے


پانچواں مسئلہ- کن اشیا سے متعلق ’’عملی لین دین‘‘ کے ذریعے معاملہ ہوسکتا ہے؟

عملی لین دین کے ذریعے کسی بھی مقدارِ مالیت کی حامل کی چیز سے متعلق معاملہ انجام دیا جا سکتا ہے، یعنی اس کونہیں دیکھا جائے گا کہ جس چیز کا لین دین ہورہا ہے وہ کم قیمت چیز (Cheap Commdity) ہے یا بیش قیمت چیز (Expensive Commdity) ہے، بلکہ جب بغیر کسی روک ٹوک کے (فریقین کی مرضی کے ساتھ) لینا دینا ہوجائے تو شرعا یہ ایک نافذ (Valid Contract) معاملہ سمجھا جائے گا، خواہ وہ بیش قیمت چیزکا لینا دینا ہی کیوں نہ ہو۔(شامیہ:48/14،دارالثقافہ)

چھٹا مسئلہ- ’’عملی لین دین‘‘ کس کو کہا جائے گا؟
عملی لین دین کے ذریعے معاملہ انجام دینے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جانبین کی طرف سے اثاثہ اور اس کی قیمت دونوں پر اسی وقت قبضہ ہوجائے ، بلکہ کسی ایک فریق کی طرف سے کسی ایک عوض کا دیا جانا اور دوسری جانب سے اس پر قبضہ ہوجانا کافی ہے ،اگر چہ دوسرے عوض پر اسی وقت قبضہ (لینا دینا) نہ ہوسکے۔ بطور مثال: زید ایک کتب فروش (Bookdealer) کے پاس جا کر ایک کتاب کی قیمت معلوم کرتا ہے، قیمت معلوم کرنے کے بعد زبان سے کچھ کہے بغیر کتب فروش کو کتاب کی قیمت ادا کرتا ہے اور کتب فروش اس رقم پر قبضہ کر لیتا ہے تو اس طرح رقم کا یہ لینا دینا کافی (Sufficient) ہو گا اور یوں سمجھا جائے گا کہ اس کتاب کی خرید و فروخت کا معاملہ طے ہو چکا، اگرچہ زید رقم ادا کرتے وقت کتاب پر قبضہ نہ کیا ہو، لہذا اگر کل کلاں اس کتاب کی قیمت بڑھ جائے اور زید نے اب تک کتاب وصول نہ کی ہو تو دکاندار زید سے اضافی قیمت کا مطالبہ نہیں کر سکتا، بلکہ وہ پابند ہو گا کہ سابقہ قیمت پر ہی یہ کتاب زید کے حوالے کرے۔(شامیہ:48/14،دارالثقافہ)

ساتواں مسئلہ- فاسد معاملات کے ضمن مین لین دین کا حکم:
کسی فاسد یا باطل باطل (Void Contract) (جس کی تفصیل اپنی جگہ آئے گی) کے بعد عملی لین دین کے ذریعے سے کوئی نئی بیع وجود میں نہیں آ سکتی، بلکہ فاسد یا باطل معاملے کے نتیجے میں ہونے والے اس لین دین کو بھی اس فاسد یا باطل معاملے کے ضمن میں فاسد یا باطل ہی تصور کیا جائے گا، البتہ ایسی صورت میں اگر فریقین متفق ہو کر پہلے والے فاسد یا باطل معاملے کو واضح طور پر ختم کریں، اور اس کے بعد عملی لین دین ہو جائے تو اس کو پھر الگ حیثیت (اس سابقہ فاسد یا باطل معاملے سے ہٹ کر ) ایک درست بیع قرار دیا جائے گا۔ (شامیہ: 50/14، دارالثقافہ)

 آٹھواں مسئلہ- عملی لین دین کبھی مجبورا خود بخود ہوجاتاہے: 
اگر ایک شخص کسی دوسرے کے پاس اپنی کوئی چیز امانتاً (Fiducially) یا کسی اور مقصد سے رکھوا دے، بعد میں جب وہ اپنی چیز لینے کے لیے آئے تو اس کو اپنی چیز کے بجائے کوئی دوسری اس جیسی چیز یہ کہہ کر دی جائے کہ یہ آپ ہی کی چیز ہے، جبکہ چیز رکھوانے والا اس کی بات تسلیم نہ کرے لیکن اس کے پاس اپنے دعویٰ پر کوئی ثبوت بھی نہ ہو، تو ایسی صورت میں چیز رکھوانے والے کے لیے جائز ہوگا کہ اسے جو چیز دی جارہی ہو اس کو وہ اپنی دی ہوئی چیز کا عوض سمجھ کر قبول کرے، ایسی حالت میں عملی لین دین کے ذریعے ایک معا ملہ خود بخود وجود میں آئے گا اور یوں چیز رکھوانے والے کے لیے اس نئی چیز کا استعمال بھی جائز ہوگا۔ (شرح المجلہ للاتاسی: 40/02، مکتبہ رشیدیہ)

ایک وضاحت
مذکورہ صورت میں چیز رکھوانے والے کے لیے اپنی چیز کا یہ متبادل وصول کرنا اور اس کو استعمال کرنا صرف اس وقت جائز ہو گا جب اسے یہ یقین ہو کہ جو چیز دی جارہی ہے یہ کسی اور کی ملکیت ہے، اگر اسے معلوم ہو کہ یہ دکاندار مجھے جو چیز دے رہا ہے یہ اس کی اپنی نہیں بلکہ کسی دوسرے کی ملکیت ہے تو پھر اس کے لیے یہ چیز لینا اور استعمال کرنا جائز نہ ہو گا۔