تعارف
القرض(loan) عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کے لغوی معنی قینچی یا دانت سے کوئی چیز کاٹنے کے ہیں۔ اس کا شرعی معنی یہ ہے کہ کسی کو اپنے مال یا چیز کا بغیر کسی طے شدہ مدّت کے اس طور پر مالک بنانا کہ وہ اس کی مثل واپس کرے۔

کسی شخص کو قرضِ حسن یعنی بغیر کسی نفع کے قرض دینا، یقینا ً اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے اجر و ثواب کی چیز ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں اس کے بہت سے فضائل بیان کیے گئے ہیں، لیکن قرض اور ادھار ایک ایسا معاملہ ہے کہ اگر یہ شریعت کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر کیا جائے تو فوراً سود اور قمار(جُوا)جیسی ممنوعہ حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کل ہماری مارکیٹوں میں قرض کے لین دین اور ادھار معاملات کی جو صورتیں رائج ہیں ، وہ شریعت کے احکامات سے ناواقفیت کی بنا پر اکثر و بیشتر ناجائز اور حرام ہیں، لہذا قرض اور ادھار کی مروّجہ صورتوں کے احکام سے واقف ہونا ہر مسلمان تاجر کی شرعی ذمہ داری ہے۔ ذیل میں ان کی مروّجہ صورتیں اور شرعی احکام بیان کیے جاتے ہیں۔


٭…کسی ضرورت مند کو اللہ کی رضا کے لیے رقم قرض دینا قرض ِ حسن اور باعثِ اجر وثواب ہے ٭…قرض اور ادھار کی مروّجہ صورتوں کے احکام سے واقف ہونا ہر مسلمان تاجر کی شرعی ذمہ داری ہے ٭…پرائز بانڈ اور ہر وہ قرض جس کی بنا پر مقروض سے کسی قسم کا نفع حاصل کیا جائے، جائز نہیں


پہلی صورت:
اگر کوئی شخص کسی ضرورت مند کو بغیر کسی نفع اور فائدے کے اللہ کی رضا کے لیے رقم قرض دیتا ہے، تو یہ قرض ِ حسن ہے۔ جو شرعاً مندوب و مستحسن اور دینے والے کے لیے باعثِ اجر وثواب ہے۔ حدیث ِ پاک میں اس طرح قرض دینے کی فضیلت صدقے کے برابر بیان فرمائی گئی ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے:کل قرض صدقۃ (شعب الإیمان 3/284)یعنی’’ ہر قرض صدقہ ہے۔‘‘لہذا اس صورت کے جواز میں کوئی شبہ نہیں، نیز قرض میں واپسی کی مدّت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ اگر مدّت مقرر کر لی گئی، تو شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہو گا اور مقرض (قرض دینے والا) کو طے شدہ وقت سے پہلے بھی مطالبے کا حق حاصل ہو گا۔

دوسری صورت:
کسی شخص کو نفع کی شرط پر قرض دینا، مثلاً: یہ شرط لگانا کہ کچھ مدت کے بعد قرض کی رقم اضافے کے ساتھ واپس کی جائے گی، جیسا کہ آج کل کنوینشنل بینکوں میں معاملات ہو رہے ہیں، اسی طرح آج کل قرض کے بدلے میں رہن (گروی) رکھنے) (Mortgaging  کا عام رواج ہے، خصوصا دیہاتوں میں سالہاسال کے لیے رہن رکھ کر لاکھوں روپیہ قرض وصول کیا جاتا ہے، جبکہ رہن کا شرعی حکم امانت کا ہے، اس سے مقروض کسی قسم کا نفع نہیں لے سکتا۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں رہن سے نفع اٹھانے کا عام رواج ہے، نیز پرائز بانڈ اور ہر وہ قرض جس کی بنا پر مقروض سے کسی قسم کا نفع حاصل کیا جائے، اسی صورت کے تحت داخل ہے۔

اس صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ قرض کی وجہ سے نفع اٹھانا سود ہے، کیونکہ حدیث ِ پاک میں وارد ہے: کلّ قرض جرَّ منفعۃً فہو رِبا (کنز العمال: 6/238)یعنی’’ ہر ایسا قرض جس کی بنا پر کوئی منفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔‘‘اس حدیث پاک میں منفعت کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی گئی، لہذا نفع خواہ ظاہری ہو، جیسے: ایک ہزار روپے دے کر گیارہ سو لینا یا معنوی، جیسے: مقروض سے قرض کی بنا پر کسی قسم کی خدمت لینا وغیرہ، یہ سب حرام اور سود ہے اور سود کے متعلق قرآن و حدیث میں شدید وعیدیں آئی ہیں، لہذا اس صورت کے حرام اور ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

 

تیسری صورت : کسی شخص کو نقد رقم چاہیے، اس کو ایک دوکاندار نقد رقم دینے کے بجائے کوئی چیز مہنگے داموں ادھار پر فروخت کرتا ہے اور وہ شخص قبضہ کرنے کے بعد دوبارہ وہ چیز اسی شخص کو سستے داموں نقدپر بیچ دیتا ہے، اس طرح یہ شخص نقد رقم حاصل کر لیتا ہے۔ یہ خریدوفروخت اسی وقت ایک ہی مجلس میں کی جاتی ہے، اس کو فقہائے کرام رحمہم اللہ کی اصطلاح میں’’بیعِ عینہ‘‘ کہا جاتا ہے، اور بیع عینہ کی تعریف یہ ہے: شِرَاء ُ ما بَاعَ بِأَقَلَّ مِمَّا بَاعَ قبل نَقْدِ الثَّمَنِ( البحر الرائق :6/256)یعنی ’’کسی چیز کو ادھار زیادہ قیمت پر چیزبیچ کر قیمت وصول کرنے سے پہلے کم قیمت پر نقداً خریدنا۔‘‘

یہ صورت سود کا حیلہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، کیونکہ خریدار نے جب مہنگے داموں ادھار چیزخرید کر اسی وقت فروخت کنندہ کو سستے داموں نقد بیچ دی، تو اس کے ذمے زیادہ رقم واجب الادا ہو گئی۔ گویا کہ اس نے کم رقم قرض لے کر زیادہ رقم ادا کرنے کا وعدہ کر لیا، جو کہ شرعاً ممنوع ہے۔ اس صورت کو حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ناجائز کہا گیا ہے اور اس طرح کا معاملہ کرنے والے شخص کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ (جامع الأصول فی أحادیث الرسول: 1/ 572)نیز حضرت امام محمد رحمہ اللہ نے اس طرح کی خریدو فروخت کے متعلق فرمایا:ہذا البیع فی قلبی کأمثال الجبال ذمیم اخترعہ أکلۃ الربا (حاشیۃ ابن عابدین :5/273) یعنی میرے نزدیک یہ خریدوفروخت پہاڑوں کی طرح سخت اور مذموم ہے، اس کو سود کھانے والوں نے ایجاد کیا ہے۔

چوتھی صورت:
ضرورت مند آدمی کو ایک شخص پیسے دینے کے بجائے کوئی چیز ادھار فروخت کر دیتا ہے، پھریہ ضرورت مند شخص وہ چیز مارکیٹ میں کسی تیسرے شخص کو نقد بیچ کر رقم حاصل کر لیتا ہے۔ اس صورت کو فقہائے شافعیہ رحمہم اللہ کی اصطلاح میں تورّق کہا جاتا ہے، جبکہ حنفیہ کے نزدیک یہ بیع عینہ کی ہی دوسری قسم ہے۔ حنفیہ کے نزدیک یہ صورت خلافِ اولیٰ ہے، کیونکہ اس میں ایک آدمی قرضِ حسن(جو کہ باعثِ ثواب ہے) دینے کے بجائے ضرورت مند شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نفع کے حصول کی خاطر عین چیز فروخت کرتا ہے، جو کہ شریعتِ مطہرہ کی نظر میں غیر مستحسن ہے۔

اس صورت کے جواز کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
1 خریدوفرخت کرتے وقت سود کی ظاہری شکل و صورت سے اجتناب کیا جائے، مثلاً: خریداری کی مجلس میں تیسرے شخص کو وہ چیز فروخت کی گئی اور تیسرے شخص نے دوبارہ وہی چیز پہلے آدمی کو فروخت کر دی، ایسی صورت اختیار کرنے سے بھی فقہائے کرام رحمہم اللہ نے منع کیا ہے۔

2 خریدار شخص جب تک اس چیز پر قبضہ نہ کر لے، اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے، کیونکہ خریدی گئی چیز پر قبضہ سے پہلے آگے فروخت کرنے سے حدیث ِ پاک میں منع کیا گیا ہے۔

اس صورت کے جواز کا حکم اسی وقت ہے، جب ضرورت مند شخص کسی تیسرے شخص کووہ چیز بیچے، اگر اسی دوکاندار کو دوبارہ فروخت کر دی گئی، تو یہ معاملہ ناجائز ہو جائے گا، جس کی تفصیل نمبر(3)میں گزر چکی ہے۔

پانچویں صورت:
ایک شخص کے ذمے کسی دوسرے کی کچھ رقم قرض ہے ، جب اس کی ادائیگی کا وقت آیا، تو مقروض کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ نہیں تھا، مقرض نے اس سے کہا کہ تم مجھ سے رقم ادھار لے کر میرا قرض ادا کردواور بعد میں یہ رقم اضافہ کے ساتھ واپس کر دینا۔

قرض کی یہ صورت بھی شرعا ً جائز نہیں، کیونکہ دوسری مرتبہ لی گئی رقم پر جو زائد رقم دینا طے کیا گیا وہ صریح سود اور ربا ہے، جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں، بلکہ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے:وَإِنْ کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلَی مَیْسَرَۃِِ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَیْرٌ لَکُم:،(البقرۃ:280) یعنی ’’اگر مقروض تنگ دست ہو تو اس کو خوشحال ہونے کے وقت تک مہلت دی جائے اور تمہارا اس کو (قرض) معاف کرنا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ لہذا بہتر تو یہ ہے تنگ دست مسلمان پر شفقت کرتے ہوئے اس کو قرض کی کل رقم یا اس کا کچھ حصہ معاف کر دیا جائے، تا ہم اگر اس قدر وسعت نہ ہوتو فرمانِ باری تعالیٰ پر عمل کرتے ہوئے مقروض کو مہلت دینا ضروری ہے اور اپنی دی گئی رقم سے زیادہ لینا ہرگز جائز نہیں۔

چھٹی صورت :
دیہاتوں میں اکثر وبیشتر کسانوں کو فصل کے اخراجات کے لیے رقم کی ضرورت پیش آتی ہے، تو کسان قرض کے حصول کے لیے غلہ منڈی کے کسی تاجر کے پاس جاتے ہیں۔ غلہ منڈی کا تاجر یہ کہتا ہے کہ میں اس شرط پر قرض دوں گا کہ آپ اپنی فصل میری ہی دوکان پر لے کر آنا۔ تاجر کو اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب اس کی دوکان سے فصل فروخت ہو گی، تو اس کو کمیشن ملے گا۔ کسان اس شرط پر رضا مند ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے فصل تو ضرور فروخت کرنا ہوتی ہے، جس دوکان سے فصل فروخت کی جائے گی، اس کو فصل کی فروختگی کا کمیشن بھی ضرور ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر مقرض یہ شرط لگائے کہ مقروض بھی بعد میں اس کو قرض دے گا، یا اس طرح کی کوئی اور شرط لگائے تو یہ سب صورتیں اسی صورت کے تحت داخل ہوں گی۔

اس صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس طرح شرط لگا کر قرض کا معاملہ کرنا جائز نہیں، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے قرض مع الشرط سے منع فرمایا ہے، لہذا یہ شرط لغو ہو گی اور اس شرط کی پابندی کسان کے ذمے شرعا ً لازم نہیں، بلکہ اس کواختیار ہے کہ وہ جس کے پاس چاہے اپنا غلہ لے جائے۔ اسی طرح مقروض کو اختیار ہو گا کہ وہ مقرض کو بعد میں قرض دے یا نہ دے۔ تاہم اگر کوئی شخص سخت ضرورت مند ہو تو اس کے لیے اس طرح قرض لینے کی گنجائش تو ہے، لیکن قرض دینے والے کے لیے یہ شرط لگانا بہر صورت ناجائز اور گناہ ہے۔(تبیین الحقائق: 16/ 427)

ساتویں صورت :
ایک کسان کو کھاد وغیرہ کی خریداری کے لیے رقم کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ کسی شخص کے پاس، مثلاً: 50 ہزار روپے کے حصول کے لیے گیا ۔ وہ شخص کسان سے کہتا ہے کہ میں قرض دینے کے بجائے آپ کی مطلوبہ چیز خرید کر دیتا ہوں، لہذاقرض دینے والا شخص اپنا نفع حاصل کرنے کے لیے کسان کو مطلوبہ چیز خرید کر دیتا ہے، جس کی صورت یہ اختیار کرتا ہے کہ وہ شخص کسان کو 45 ہزار روپے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ فلاں دوکاندار سے اس رقم کی کھاد خرید کر استعمال کر لیں اور پھر مجھے پچاس ہزار روپے طے شدہ مدّت کے بعد ادا کر دیدیں، لہذا کسان مقررہ وقت پر 50 ہزار روپے ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے، جس میں پانچ ہزار روپے قرض دینے والا شخص بطور نفع اپنے لیے رکھتا ہے۔

اس صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر قرض دینے والا شخص کھاد نہ اپنے لیے خریدے اور نہ ہی اس پر قبضہ کرے، بلکہ کسان رقم لے کر دوکاندار سے اپنے لیے کھاد خریدتا ہے تو اس صورت میں قرض دینے والے شخص کا مکمل پچاس ہزار روپے وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ وہ صرف 45 ہزار روپے کا ہی مستحق ہوگا، اس کے علاوہ اضافی رقم سود ہو گی، جو کہ شرعاً حرام ہے۔

اس کی جائز صورت یہ ہے کہ قرض دینے والا شخص کھاد پہلے اپنے لیے خود خریدے یا کسان کو کھاد خریدنے وکیل بنا دے اور پھر یہ شخص کھاد پر قبضہ بھی کر لے، اس کے بعد ضرورت مند کسان کو فروخت کرے تو یہ جائز ہے اور اس صورت میں حاصل کیا گیا نفع بھی حلال ہے۔