مسئلہ-1/17: ایک ہی شخص کے ذریعے ایجاب وقبول کاعمل انجام پانا: خرید و فروخت کے معاملے میں ایک ہی شخص جانبین کا وکیل (Agent) بن کر معاملہ نہیں کر سکتا، بلکہ ضروری ہے کہ دو الگ الگ اشخاص ایجاب و قبول کا عمل انجام دیں، البتہ بعض خاص صورتوں میں اکیلا ایک شخص بھی پورے معاملہ کو انجام دے سکتا ہے، مثلا: خود والد یا والد کا مقرر کردہ وصی (مرتے وقت جس شخص کو ترکہ کی حفاظت

اور تقسیم کا نگران بنایا جائے، اسے ’’وصی‘‘ کہا جاتا ہے) اسی طرح والد کے نہ ہونے کی صورت میں دادا یا دادا کا مقرر کردہ وصی اگر اپنے زیرنگرانی نابالغ افراد سے متعلق ایسا معاملہ کریں، جس میں یہ لوگ اپنی کوئی چیز اپنے زیر نگرانی افراد کو فروخت کر دیں یا ان کی چیزیں اپنے لیے خریدیں، یا ان کی چیزیں اُن کی آپس میں ایک دوسرے کو فروخت کر دیں، تو ان خاص صورتوں میں ایک ہی شخص کے ذریعے انجام پانے والابیع و شراء کا یہ معاملہ درست اور معتبر ہو گا، لیکن اس میں مزید درج ذیل تفصیل بھی ملحوظ رہے گی:
والد اگر اپنی چیز اپنی نابالغ اولاد میں سے کسی کوبیچتا ہے یا اس کی کوئی چیز اپنے لیے خریدتا ہے یا ایک نابالغ بچے کی ضرورت سے زائد چیز اپنے دوسرے نابالغ بچے کو فروخت کرتا ہے، تو والد کو ان سب معاملات کے انجام دینے کی شرعاً اجازت ہو گی، بشرطیکہ قیمت لگانے میں واضح طور پرغلطی (یعنی ایسی کمی بیشی، جسے ہر آدمی محسوس کر سکتا ہو) نہ کرے۔ والد کے فوت ہونے یا غائب ہونے کی صورت میں دادا کا بھی یہی حکم ہے۔


٭… کسی کے نام پر کوئی چیز خریدنے سے وہ شخص مالک نہیں ہو گا جس کے نام پر چیز خریدی گئی ہے، بلکہ خریدنے والا ہی مالک تصور ہو گا ٭…ایجاب وقبول، خط وکتابت کے علاوہ کسی شخصی پیغام (ایلچی) کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے ٭


والد یا دادا کا مقرر کردہ وصی (یعنی نگران) یتیم کے ساتھ اپنے لیے اس شرط کے ساتھ خرید و فروخت کر سکتا ہے کہ قیمت میں واضح طور پر رعایت ہو، جس کی مقدار بعض فقہائے کرام نے یہ بتائی ہے کہ اگر زمین کی خرید و فروخت کی صورت میں ہو تو اس میں قیمت دگنی کر دے، یعنی اگر نابالغ کی زمین خریدنا ہو تو ہزار کی زمین دو ہزار میں خرید لے اور اگر اپنی زمین اس کو فروخت کرنا ہو تو دو ہزار کی زمین ہزار میں فروخت کر دے، اور اگر زمین کے علاوہ باقی چیزوں کی خرید و فروخت کی صورت ہو تو اس میں آدھی قیمت کے بقدر رعایت ہو، مثلاً: دس روپے کی چیز ہو تو پانچ روپے میں بیچ دے اور اگر یتیم کے مال سے کوئی چیز خریدنا ہو تو پانچ روپے کی چیز دس روپے میں خریدے۔

اس کے علاوہ وصی کو یہ اختیا ر نہیں ہو گا کہ ایک نابالغ (یتیم) کی چیز دوسرے نابالغ کو (کسی بھی قیمت کے عوض) فروخت کرے، اگر ایسا کرے گا تو یہ معاملہ نامنظور اور کالعدم سمجھا جائے گا۔ (شرح المجلہ للاتاسی:29,28/2شامیہ711/6،دارالفکر)


مسئلہ-2/17کسی کے نام پر کوئی چیز خریدنے کا حکم:
بعض اوقات کچھ قانونی مجبوریوں کی وجہ سے یا باقاعدہ ہبہ کی نیت سے کسی کے نام پر کوئی چیز خریدی جاتی ہے تو کیا اس طرح کرنے سے شرعا وہ شخص جس کے نام پر خریداری ہوئی ہے مالک تصور ہو گا کہ نہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اصولی طور پر کسی کے نام کوئی چیز خریدنے سے وہ شخص مالک نہیں ہو گا جس کے نام چیز خریدی گئی ہے، بلکہ خریدنے والا ہی مالک تصور ہو گا، البتہ اگر اپنی ملکیت میں آنے کے بعد وہ یہ چیز واقعتا اس دوسرے شخص کو دینا چاہتا ہے جس کے نام خریداری ہوئی ہے تو یہ ہبہ کی ایک صورت ہو گی۔ جس کے لیے ضرور ہو گا کہ کسی شخص کے نام کرنے کے بعد اس کو باقاعدہ طور پر اس چیز کا قبضہ دینا بھی ضروری ہو گا، اگر اسے قبضہ دیا گیا تو وہ (ہبہ کی بنا پر) مالک تصور ہو گا ورنہ محض اس کے نام خریداری ہونے سے وہ مالک نہیں بنے گا۔ باقی یہ کہ قبضہ کیا چیز ہے اور کیسے ہوتا ہے، اس سے متعلق تفصیل مناسب جگہ پر آئے گی۔(امداد الفتاوی:31/3)

مسئلہ-:1/18بذریعہ کتابت مالی معاملات انجام دینا :
ایجاب وقبول جیسا کہ زبانی طور پر ہو سکتا ہے تو اسی طرح خط وکتابت کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے اور کسی شخصی پیغام (ایلچی) کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے ، البتہ ان دونوں صورتوں میں ایجاب وقبول کی مجلس کے ایک ہونے (جو شرعی لحاظ سے ایک ضروری چیز ہے)میں پیغام وصول ہونے کی مجلس کا اعتبار ہوگا، لہذا جس وقت دوسرے فریق کو خط یا ایلچی کے ذریعے اطلاع ملے تو اگر اطلاع ملنے کے فوراً بعد وہ اس ایجاب کوقبول کرے، تومعاملہ مکمل ہوجائے گا، لیکن اگر دوسرا فریق اس اطلاع کو نظر انداز کرکے کسی اور کام میں مشغول ہو جائے ، تو شرعا یہ مجلس ِعقد (یعنی اطلاع ملنے کی مجلس) ختم شمار ہوگی اور یوں نتیجتاًکوئی معاملہ وجود میں نہیں آسکے گا۔ البتہ خط کے ذریعے خرید وفروخت کی پیشکش صادر کرنے کی صورت میں ایک اضافی خصوصیت یہ موجود ہے کہ جب تک وہ خط برقرارر ہے گا تو اس میں موجود پیشکش بھی برقرار رہے گی، لہذا جس وقت اور جس جگہ بھی اس خط کو پڑھا جائے گا تو وہ ایک نئی مجلس شمار ہوگی اور یوں اس خط کے ذریعے کی گئی پیشکش کو کسی بھی وقت قبول کیا جاسکے گا ،اور جب بھی قبول کیا جائے گاتواس سے ایک شرعی معاملہ وجود میں آئے گا۔ (مجلہ:مادہ:172شامیہ:46/14دارالثقافہ)